LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
ستھرا پنجاب بہترین منصوبہ، بدعنوانی یا غفلت برداشت نہیں ہوگی: مریم نواز ایران اور امریکہ کے درمیان سفارت کاری ہی واحد راستہ ہے: بلاول بھٹو پاکستان میں ایڈز کے مریضوں میں خطرناک حد تک اضافہ مریضوں کی تعداد 84 ہزار تک پہنچ گئی پاکستان کا تجارتی خسارہ 31 ارب ڈالر سے تجاوز کر گیا؛ برآمدات میں کمی اور درآمدات میں اضافہ وزیراعظم کی امارات میں میزائل اور ڈرون حملوں کی مذمت، جنگ بندی کے احترام کا مطالبہ امریکہ کیلئے صورتحال ناقابل برداشت، آبنائے ہرمز میں شرارت ختم ہو جائے گی: باقر قالیباف وزیراعظم شہباز شریف کی ترکیہ میں تباہ کن سیلاب پر ترک صدر و عوام سے تعزیت سندھ کابینہ کے بڑے فیصلے، ترقیاتی منصوبوں کے لیے اربوں روپے کی منظوری گوادر بندرگاہ پر مئی کا پہلا ٹرانس شپمنٹ کارگو جہاز لنگر انداز چین: آتش بازی کا سامان بنانے والی فیکٹری میں دھماکے سے 21 ہلاک، 61 زخمی چارسدہ میں شیخ الحدیث مولانا ادریس قاتلانہ حملے میں جاں بحق جے ڈی وینس کے سکیورٹی اہلکاروں پر فائرنگ، ملزم ہلاک یو اے ای کی فجیرہ بندرگاہ پر ہیکر گروپ حندلہ نے سائبر آپریشن کیا، ایرانی میڈیا ایرانی حملوں کا بھرپور جواب، میزائل اور ڈرون تباہ، اماراتی وزارتِ دفاع کا بیان جاری پاکستان میں اپریل کے دوران تجارتی خسارہ 43 فیصد سے زائد بڑھ گیا

بنگلادیش انتخابات: بی این پی اور جماعت اسلامی اتحاد میں تگڑا مقابلہ متوقع

Web Desk

9 February 2026

بنگلادیش میں 12 فروری کو ہونے والے 13ویں قومی پارلیمانی انتخابات کے لیے سیاسی درجہ حرارت بلند ہوگیا ہے، ایک تازہ عوامی سروے میں بی این پی اور بنگلادیش جماعتِ اسلامی کی قیادت میں قائم اتحاد کے درمیان سخت اور کانٹے دار مقابلے کی پیشگوئی کی گئی ہے۔

بنگلادیشی میڈیا کے مطابق سروے میں بنگلادیش نیشنلسٹ پارٹی (بی این پی) کی سربراہی میں قائم اتحاد کو 44.1 فیصد ووٹ ملنے کا امکان ظاہر کیا گیا ہے، جبکہ جماعتِ اسلامی کی قیادت میں 11 جماعتوں پر مشتمل انتخابی اتحاد کو 43.9 فیصد حمایت مل سکتی ہے۔

یہ سروے ملک بھر کے 63 ہزار 115 ووٹرز سے کیا گیا، جن میں 36 ہزار 634 مرد اور 26 ہزار 981 خواتین شامل تھیں۔ سروے کے مطابق 92 فیصد افراد نے ووٹ ڈالنے کے عزم کا اظہار کیا، جبکہ 4.4 فیصد نے ووٹ نہ دینے اور 2.5 فیصد نے تاحال فیصلہ نہ کرنے کا کہا۔

اگرچہ مجموعی ووٹوں میں بی این پی اتحاد کو معمولی برتری حاصل ہے، تاہم نشستوں کے اندازے کے مطابق جماعتِ اسلامی کی قیادت میں اتحاد بعض اہم حلقوں میں سبقت حاصل کیے ہوئے ہے۔ سروے کے مطابق جماعتِ اسلامی اتحاد کو 105 حلقوں میں واضح برتری مل سکتی ہے جبکہ بی این پی اتحاد کو 101 نشستوں پر یقینی سبقت حاصل ہونے کا امکان ہے۔

اس کے علاوہ 75 حلقوں میں سخت مقابلے کی توقع ظاہر کی گئی ہے جبکہ 19 حلقوں میں دیگر جماعتوں کے امیدوار کامیاب ہو سکتے ہیں۔

واضح رہے کہ پارلیمنٹ کی 300 نشستوں میں سے 151 پر کامیاب ہونے والی جماعت حکومت سازی کرسکے گی۔