LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
ایرانی پرچم بردار بحری جہاز کے عملے کے 6 ارکان رہا صدر پیوٹن کی 9 مئی کو یوکرین کے ساتھ عارضی جنگ بندی کی پیشکش امریکی بحری بیڑا جیرالڈ فورڈ کی مرمت کے لیے مشرقِ وسطیٰ سے واپسی سندھ بھر میں دفعہ 144 کی مدت میں توسیع، جلسے جلوس اور احتجاج پر پابندی برقرار امریکی مرکزی بینک نے مانیٹری پالیسی کا اعلان کر دیا،شرحِ سود برقرار ‘ایران جلد ہوش کے ناخن لے’، ٹرمپ نے بندوق تھامے ’اے آئی جنریٹڈ‘ فوٹو شیئر کردی پاکستان میں کرپشن بارے آئی ایم ایف رپورٹ معتصب، نامناسب ہے: چیئرمین نیب بلاول بھٹو زرداری سے ازبکستان کے نووئی ریجن کے گورنر کی ملاقات پاکستان کی کوششوں سے جنگ بندی ہوئی، توسیع بھی کی گئی جو تاحال برقرار ہے: وزیراعظم پاک افغان سرحد پر افغان طالبان کی بلا اشتعال جارحیت، پاک فوج کا بھرپور جواب وزیراعظم سے کابینہ ارکان کی ملاقاتیں،وزارتوں سے متعلقہ اُمور پر تبادلہ خیال وفاقی کابینہ کا اجلاس، مشرقِ وسطیٰ تنازع میں پاکستان کی کوششوں کا جائزہ بانی پی ٹی آئی بلاوجہ جیل میں ہیں، نظریہ قید نہیں کیا جا سکتا: سہیل آفریدی قدرتی آفات کے تباہ کن اثرات کم کرنے کیلئے مضبوط انفراسٹرکچر ناگزیر ہے: وزیراعظم پاکستان سٹاک مارکیٹ میں 2 روز کی مندی کے بعد آج مثبت رجحان

امریکہ میں غیر قانونی تارکین وطن کی گرفتاریاں ریکارڈ سطح پر پہنچ گئیں

Web Desk

11 November 2025

ہوم لینڈ سیکیورٹی کے مطابق امیگریشن اینڈ کسٹمز انفورسمنٹ (ICE) کی حراست میں موجود افراد کی تعداد ریکارڈ 66 ہزار تک پہنچ گئی ہے۔ یہ اضافہ غیر قانونی تارکین وطن کے خلاف سخت کریک ڈاؤن کے بعد سامنے آیا ہے۔

اعداد و شمار کے مطابق جنوری سے اب تک ICE کی حراستی آبادی میں 70 فیصد اضافہ ہوا ہے۔ ماہرین کے مطابق یہ پالیسی “طلب و رسد” کے اصول پر مبنی ہے، جس کے تحت کسی بھی غیر قانونی تارکِ وطن کو گرفتار کیا جا سکتا ہے، چاہے اس پر کوئی جرم ثابت نہ ہو۔

تازہ رپورٹ کے مطابق زیرِ حراست تقریباً نصف افراد کے خلاف کوئی فوجداری مقدمہ نہیں، جبکہ باقی کے خلاف مختلف الزامات یا سزائیں موجود ہیں۔ حکام کے مطابق ٹرمپ انتظامیہ نے ضمانت کے امکانات بھی محدود کر دیے ہیں۔

دوسری جانب امریکی عدالتوں نے بعض حراستی مراکز میں غیر انسانی حالات پر تشویش کا اظہار کیا ہے، جبکہ محکمہ ہوم لینڈ سیکیورٹی نے کہا ہے کہ عوامی تحفظ کے لیے کارروائیاں جاری رہیں گی۔