LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY: ▲ ▼
China: ▲ ▼
Pakistan: ▲ ▼
India: ▲ ▼
TV ONE Logo
اہم خبریں
اسرائیل کا انتخابات سے پہلے ایران پر حملے کا ارادہ نہیں: وزیر دفاع گورنر خیبر پختونخوا کی پشاور ماسٹر پلان کے 180 روزہ اہداف پر عملدرآمد تیز کرنے کی ہدایت پاکستان اور امریکا کا توانائی کے شعبے میں دوطرفہ تعاون بڑھانے پر اتفاق ذوالفقار علی بھٹو کا بمبئی جائیدادوں پر 9 سالہ قانونی معرکہ ملکی زرمبادلہ ذخائر میں اضافہ، ساڑھے 21 ارب ڈالر تک پہنچ گئے شہباز شریف کی رانا مبشر اقبال کی رہائش گاہ آمد، خالہ زاد بھائی کے انتقال پر تعزیت لاہور ہائیکورٹ کا نیا ججز روسٹر جاری، 2 نومبر سے 24 دسمبر تک بنچز مقدمات سنیں گے سٹیٹ بینک نے شرح سود میں 0.50 فیصد اضافہ کردیا، شرح 12 فیصد مقرر پاکستان اور ایتھوپیا کا تجارت، سرمایہ کاری اور اقتصادی تعاون بڑھانے پر اتفاق سعودی عرب پر حوثی باغیوں کے بیلسٹک میزائل حملوں کی شدید مذمت: دفترِ خارجہ فیلڈ مارشل کی تجویز پر ایران چار ملکی اجلاس کی میزبانی کر رہا ہے: اسماعیل بقائی سابق آرمی چیف جنرل (ر) عبدالوحید کاکڑ انتقال کر گئے الیکشن کمیشن کا انتخابی عمل میں اے آئی کا باقاعدہ استعمال کرنے کا فیصلہ پاکستان سٹاک ایکسچینج میں کاروبار کا منفی زون میں آغاز خیبرپختونخوا میں گورنر راج کے نفاذ کے بعد پی ٹی آئی کا وفاق سے پہلا رابطہ

سندھ طاس معاہدہ: امریکی جریدے کی پاکستانی مؤقف کی بھرپور حمایت

Web Desk

17 January 2026

اسلام آباد: سندھ طاس معاہدے کے خلاف بھارتی اقدامات پر معروف امریکی جریدے دی نیشنل انٹرسٹ نے پاکستانی مؤقف کی بھرپور حمایت کر دی ہے۔ جریدے کے مطابق بھارت کی جانب سے سندھ طاس معاہدے کی معطلی کے بعد جنوبی ایشیا میں پانی کی سیاست نے ایک نیا اور خطرناک رخ اختیار کر لیا ہے۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ سندھ طاس معاہدے کی معطلی سے خطے میں کشیدگی میں اضافہ ہوگا جبکہ بھارت کی جانب سے دُلہستی اسٹیج ٹو منصوبہ معاہدے کی کھلی خلاف ورزی ہے۔ دی نیشنل انٹرسٹ کے مطابق بھارت پانی کو اسٹریٹجک ہتھیار کے طور پر استعمال کرنے کی کوشش کر رہا ہے، جو جنوبی ایشیا میں ایک بڑے انسانی المیے کو جنم دے سکتا ہے۔

امریکی جریدے نے نشاندہی کی کہ بھارت کی جانب سے آبی ڈیٹا کی فراہمی روکنا بین الاقوامی قوانین کی سنگین خلاف ورزی ہے۔ رپورٹ میں یاد دلایا گیا کہ عالمی ثالثی عدالت واضح فیصلہ دے چکی ہے کہ بھارت سندھ طاس معاہدہ یکطرفہ طور پر معطل نہیں کر سکتا۔

دی نیشنل انٹرسٹ کے مطابق سندھ طاس معاہدہ جنوبی ایشیا میں فوڈ سیکیورٹی کی بنیادی ضمانت ہے اور بھارت قانونی طور پر مغربی دریاؤں کا پانی پاکستان کے لیے مہیا کرنے کا پابند ہے۔