LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
چین کی کیپیٹل مارکیٹ میں پاکستان کا پہلا ’پانڈابانڈ‘ جاری، 1.75ارب یوآن کے بانڈز فروخت گوجرانوالہ، لیبیاکشتی حادثے میں ملوث باپ بیٹے کو 22، 22سال قید، 14، 14لاکھ روپے جرمانہ تیل کی عالمی قیمتیں جلد تیزی سے نیچے آجائیں گی، امریکی وزیرخزانہ بھارتی ریاست اترپردیشن میں بارش اورطوفان سے تباہی، 100سے زائد افرادہلاک امریکی سینیٹ، جنگ کے معاملے پر ٹرمپ کے اختیارات محدودکرنے کی قراردادایک ووٹ سے ناکام سپریم جوڈیشل کونسل، اعلیٰ عدلیہ کے ججز کے خلاف شکایات نمٹادی گئیں وزیراعظم کی زیرِ صدارت ہنگامی اجلاس؛ ‘نیشنل پاپولیشن کونسل’ کے قیام کا فیصلہ، شہباز شریف خود سربراہی کریں گے آرمی راکٹ فورس کا مقامی تیار کردہ فتح 4 کروز میزائل کا کامیاب تجربہ ایران امریکہ ممکنہ مذاکرات کے تناظر میں پاکستان مسلسل فعال ہے: دفتر خارجہ پاک افواج نے دشمن کو عبرتناک سبق سکھایا، وزیراعظم شہباز شریف ڈی جی آئی ایس پی آر کی شفاء تعمیر ملت یونیورسٹی میں خصوصی نشست وزارتِ خزانہ کی مالیاتی رپورٹ؛ 9 ماہ میں بجٹ خسارہ 856 ارب روپے، دفاع پر 1690 ارب خرچ سپریم کورٹ کا تاریخی فیصلہ؛ سابق وفاقی وزیر انور سیف اللہ خان کی 24 سال پرانی سزا کالعدم، بریت بحال چینی صدر کے ساتھ گفتگو بہت اچھی رہی: ٹرمپ گلگت بلتستان انتخابات 2026 کیلئے امیدواروں کی حتمی فہرست جاری

امریکی پابندیاں،بھارت نے ایرانی چاہ بہاربندرگاہ کے تعمیراتی کام کا معاہدہ ترک کردیا

Web Desk

16 January 2026

میڈیا رپورٹس کے مطابق بھارت نے معمولی امریکی دباؤ کے بعد ایران کے ساتھ کیا گیا چاہ بہار منصوبے کامعاہدہ ترک کر دیا۔۔ پابندیوں کے نفاذ سے قبل بھارت نے تہران کو معاہدے کے تحت طے شدہ 120 ملین ڈالر کی رقم ادا کی تھی جو اب ڈوب چکی ہے۔ تاہم بعدمیں منصوبے سے منسلک سرکاری کمپنی انڈیا پورٹس گلوبل لمیٹڈ کے بورڈ پر موجود تمام سرکاری نامزد ڈائریکٹرز نے اجتماعی استعفیٰ دے دیا۔کمپنی کی ویب سائٹ اچانک بند کر دی گئی، جس کا مقصد امریکی پابندیوں کے ممکنہ اثرات سے متعلق اداروں اور افراد کو تحفظ فراہم کرنا تھا۔

معاشی ماہرین کا کہنا ہے کہ بھارت نے بظاہر چاہ بہار بندرگاہ میں سرمایہ کاری تجارتی مقاصد کے لیے کی، لیکن خدشہ ہے کہ اس منصوبے کے پس پردہ دیگر اسٹریٹجک عزائم بھی موجود تھے۔ ماہرین کے مطابق انڈیا پورٹس گلوبل لمیٹڈ دراصل خاص طور پر چاہ بہار منصوبے کے لیے قائم کی گئی تھی۔ماہرین نے یہ خدشہ بھی ظاہر کیا ہے کہ امریکی پابندیوں کی صورت میں کمپنی کی سرگرمیوں اور اصل کردار سے پردہ اٹھ سکتا تھا، جس سے بھارت کی بین الاقوامی ساکھ کو نقصان پہنچنے کا امکان تھا۔ بعض ماہرین کے مطابق، اس بندرگاہ سے بھارتی خفیہ ایجنسی را کی ممکنہ سرگرمیوں کے شبہات بھی سامنے آتے رہے ہیں۔

واضح رہے کہ ایران اور اسرائیل کے درمیان کشیدگی کے بعد ایرانی حکام پہلے ہی چاہ بہار بندرگاہ اور اس سے منسلک سرگرمیوں پر الرٹ تھے۔ چاہ بہار منصوبے سے دستبرداری بھارت کے اس دعوے کے برعکس ہے جس میں وہ اصولوں پر مبنی اور متوازن خارجہ پالیسی کی بات کرتا ہے