LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
پاک چین تعلقات نئی اسٹریٹجک بلندی پر: مشترکہ اعلامیے میں “چین پاکستان سکیورٹی پارٹنرشپ” کے قیام بڑی کامیابی توحید ہے، اللہ صبر کرنے والوں کو دوست رکھتا ہے، خطبہ حج امریکا کو خطے میں مزید اڈے قائم کرنے کا موقع نہیں ملے گا: مجتبیٰ خامنہ ای پنجاب میں عید الاضحیٰ کی تعطیلات کے دوران شدید ہیٹ ویو کا خدشہ نائب وزیراعظم اسحاق ڈار سرکاری دورے پر نیویارک پہنچ گئے مریم نواز کی اے آئی آئی بی کو ڈویلپمنٹ پراجیکٹ میں شراکت داری کی پیشکش پاکستان اور چین کا تزویراتی شراکت داری کو مزید گہرا کرنے پر اتفاق: مشترکہ اعلامیہ بھارت میں عیدالاضحیٰ پر نمازعید اور قربانی پر پابندی عائد ایران کے ساتھ معاہدہ اب بھی ممکن، قطر میں بات ہوئی ہے: امریکی وزیر خارجہ چین دنیا کیلئے قابل تقلید ماڈل، معاشی طاقت میں کوئی ثانی نہیں: وزیراعظم وزیر داخلہ محسن نقوی کا منیٰ میں پاکستانی حجاج کرام کے کیمپس کا دورہ وزیراعظم کی چینی وفود سے ملاقاتیں، اقتصادی تعاون کو وسعت دینے کا عزم لبیک اللھم لبیک! حج کا رکن اعظم ’’وقوف عرفہ‘‘ آج ادا کیا جائے گا ملک بھر میں بوہری برادری آج عیدالاضحیٰ مذہبی جوش وخروش سے منا رہی ہے ایران میں صدر مسعود پزشکیان کی ہدایت پر انٹرنیٹ سروس بحال کرنے کا فیصلہ

فائیو جی سروس تاخیر کا شکار، پی ٹی اے کو تاحال سمری موصول نہ ہوسکی

Web Desk

7 January 2026

پاکستان میں جدید فائیو جی سروس کے آغاز کا عمل ایک مرتبہ پھر تاخیر کا شکار ہو گیا ہے۔ وفاقی کابینہ کی جانب سے فائیو جی سے متعلق سمری کی منظوری کے باوجود تاحال پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی (پی ٹی اے) کو باضابطہ پالیسی ڈائریکٹیو موصول نہیں ہو سکی، جس کے باعث فائیو جی سپیکٹرم کی نیلامی اور سروس لانچ کا عمل آگے نہیں بڑھ سکا۔

پی ٹی اے ذرائع کے مطابق 25 دسمبر 2025 کو وفاقی کابینہ نے فائیو جی سمری کی منظوری دی تھی، تاہم یہ سمری تحریری شکل میں اتھارٹی کو موصول نہیں ہوئی۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ کابینہ منظوری کے بعد سمری میں رد و بدل کا امکان ہوتا ہے، اس لیے پی ٹی اے اس وقت تک حتمی کارروائی شروع نہیں کر سکتی جب تک منظور شدہ سمری باضابطہ طور پر ارسال نہ کی جائے۔

پی ٹی اے حکام کے مطابق سمری موصول ہونے کے بعد انفارمیشن میمورنڈم جاری کیا جائے گا، جس میں فائیو جی سپیکٹرم نیلامی کے قواعد و ضوابط، آکشن رولز اور تکنیکی تفصیلات شامل ہوں گی۔ اس کے بعد ہی سپیکٹرم نیلامی کا باقاعدہ عمل شروع کیا جا سکے گا۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ اس وقت ملک میں موبائل سروسز کیلئے تقریباً 274 میگا ہرٹز سپیکٹرم دستیاب ہے، جبکہ فائیو جی سروس کیلئے مجموعی طور پر 600 میگا ہرٹز سپیکٹرم فراہم کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ موجودہ سپیکٹرم میں مزید 300 میگا ہرٹز شامل ہونے سے فائیو جی کی رفتار اور معیار میں نمایاں بہتری متوقع ہے۔

سپیکٹرم نیلامی کے بعد موبائل آپریٹرز ملک بھر میں اپنے بی ٹی ایس ٹاورز پر فائیو جی بینڈز فعال کریں گے، جبکہ سمارٹ فون کمپنیاں بھی پاکستان میں دستیاب سپیکٹرم کے مطابق نئے موبائل فونز متعارف کرانے اور موجودہ ڈیوائسز اپ گریڈ کرنے کا عمل شروع کریں گی۔

ٹیکنالوجی ماہرین کا کہنا ہے کہ فائیو جی سروس میں تاخیر سے ڈیجیٹل معیشت، آئی ٹی سیکٹر اور سرمایہ کاری کے مواقع متاثر ہو رہے ہیں۔ کاروباری اور ٹیکنالوجی حلقوں نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ فائیو جی سمری کی فوری ترسیل یقینی بنائی جائے تاکہ پاکستان خطے کے دیگر ممالک کے ساتھ ڈیجیٹل ترقی کی دوڑ میں پیچھے نہ رہ جائے