LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY: ▲ ▼
China: ▲ ▼
Pakistan: ▲ ▼
India: ▲ ▼
TV ONE Logo
اہم خبریں
برطانیہ میں فضائی ٹریفک کنٹرول کے نظام میں خرابی، 2 ہزار سے زائد پروازیں متاثر رواں مالی سال کے پہلے تین ماہ میں تجارتی خسارہ 10.79 ارب ڈالر تک پہنچ گیا حکومتی کمیٹی سے مذاکرات کے پہلے روز کے بعد اپوزیشن قیادت کی اہم بیٹھک سٹاک مارکیٹ میں اتار چڑھاؤ، ہنڈرڈ انڈیکس منفی زون میں بند ہوا روپے کی قدر میں بہتری، انٹربینک میں ڈالر مزید سستا ہوگیا پُرتشدد انتشار، 9 مئی جیسے حالات پیدا کرنے کی کوشش کیساتھ بلاامتیاز نمٹا جائیگا: کور کمانڈرز کانفرنس اقوام متحدہ میں وزیراعظم نے فلسطین سمیت اہم امور پر مؤقف مدلل انداز میں پیش کیا: اسحاق ڈار وزیر خزانہ سے ورلڈ بینک کے وفد کی ملاقات، معاشی اصلاحات کا جائزہ لیا صومالی قزاقوں سے چار پاکستانی چھڑوا لیے، کل وطن پہنچیں گے: اسحاق ڈار الیکشن کمیشن نے پنجاب میں بلدیاتی انتخابات 14 دسمبر کو کرانے کی تجویز دیدی وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب اور عالمی بینک کے وفد کی ملاقات، حکومت اور پی ٹی آئی قیادت کے درمیان ملاقات، تمام بات چیت راز میں رکھنے پر زور جماعت اسلامی نے اپوزیشن کی آل پارٹیز کانفرنس میں شرکت کا اعلان کردیا اسپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق کی زیرِ صدارت حکومت اور اپوزیشن ارکان کا اہم جرگہ، سیاسی کشیدگی کے خاتمے کے لیے مذاکرات جاری پیٹرول سبسڈی اور گیس کمپنیوں کے واجبات پر حکومت اور آئی ایم ایف کے درمیان ڈیڈلاک برقرار

فائیو جی سروس تاخیر کا شکار، پی ٹی اے کو تاحال سمری موصول نہ ہوسکی

Web Desk

7 January 2026

پاکستان میں جدید فائیو جی سروس کے آغاز کا عمل ایک مرتبہ پھر تاخیر کا شکار ہو گیا ہے۔ وفاقی کابینہ کی جانب سے فائیو جی سے متعلق سمری کی منظوری کے باوجود تاحال پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی (پی ٹی اے) کو باضابطہ پالیسی ڈائریکٹیو موصول نہیں ہو سکی، جس کے باعث فائیو جی سپیکٹرم کی نیلامی اور سروس لانچ کا عمل آگے نہیں بڑھ سکا۔

پی ٹی اے ذرائع کے مطابق 25 دسمبر 2025 کو وفاقی کابینہ نے فائیو جی سمری کی منظوری دی تھی، تاہم یہ سمری تحریری شکل میں اتھارٹی کو موصول نہیں ہوئی۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ کابینہ منظوری کے بعد سمری میں رد و بدل کا امکان ہوتا ہے، اس لیے پی ٹی اے اس وقت تک حتمی کارروائی شروع نہیں کر سکتی جب تک منظور شدہ سمری باضابطہ طور پر ارسال نہ کی جائے۔

پی ٹی اے حکام کے مطابق سمری موصول ہونے کے بعد انفارمیشن میمورنڈم جاری کیا جائے گا، جس میں فائیو جی سپیکٹرم نیلامی کے قواعد و ضوابط، آکشن رولز اور تکنیکی تفصیلات شامل ہوں گی۔ اس کے بعد ہی سپیکٹرم نیلامی کا باقاعدہ عمل شروع کیا جا سکے گا۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ اس وقت ملک میں موبائل سروسز کیلئے تقریباً 274 میگا ہرٹز سپیکٹرم دستیاب ہے، جبکہ فائیو جی سروس کیلئے مجموعی طور پر 600 میگا ہرٹز سپیکٹرم فراہم کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ موجودہ سپیکٹرم میں مزید 300 میگا ہرٹز شامل ہونے سے فائیو جی کی رفتار اور معیار میں نمایاں بہتری متوقع ہے۔

سپیکٹرم نیلامی کے بعد موبائل آپریٹرز ملک بھر میں اپنے بی ٹی ایس ٹاورز پر فائیو جی بینڈز فعال کریں گے، جبکہ سمارٹ فون کمپنیاں بھی پاکستان میں دستیاب سپیکٹرم کے مطابق نئے موبائل فونز متعارف کرانے اور موجودہ ڈیوائسز اپ گریڈ کرنے کا عمل شروع کریں گی۔

ٹیکنالوجی ماہرین کا کہنا ہے کہ فائیو جی سروس میں تاخیر سے ڈیجیٹل معیشت، آئی ٹی سیکٹر اور سرمایہ کاری کے مواقع متاثر ہو رہے ہیں۔ کاروباری اور ٹیکنالوجی حلقوں نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ فائیو جی سمری کی فوری ترسیل یقینی بنائی جائے تاکہ پاکستان خطے کے دیگر ممالک کے ساتھ ڈیجیٹل ترقی کی دوڑ میں پیچھے نہ رہ جائے