LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
امریکا، ایران مذاکرات کی بحالی کیلئے رابطے جاری ہیں: قطر امریکی وزارتِ خارجہ کا دنیا بھر میں امیگرینٹ ویزا انٹرویوز کا عمل عارضی طور پر معطل کرنے کا اعلان ٹرمپ کا ایران پر مکمل غلبے کا دعویٰ، بڑی فتح جلد حاصل کرنے کی امید ظاہر کردی پمز سانحہ: معصوم بچوں کی شہادت پر پوری کابینہ کو استعفیٰ دے دینا چاہیے۔علامہ راجہ ناصر عباس پمز ہسپتال آتشزدگی سانحہ: این آئی سی یو میں نیبولائزر پھٹنے سے آگ لگی، ابتدائی رپورٹ اسلام آباد میں نومولود بچوں کی ہلاکت انسانی تاریخ کا بدترین سانحہ ہے: بلاول بھٹو اسحاق ڈار کی لندن میں کامن ویلتھ سیکریٹری جنرل سے ملاقات ایرانی فوج مکمل طور پر چوکس، فضائی دفاعی صلاحیتیں مزید بہتر بنا رہے ہیں: علی رضا الہامی ایران جنگ: دبئی ایئرپورٹ پر مسافروں کی آمد میں ایک تہائی کمی نئی نسل کی کردار سازی سیرت النبی ﷺ کی تعلیمات کے مطابق کرنا ہوگی: وزیراعظم پمز واقعہ کے ذمہ داروں کیخلاف کارروائی ہو گی، خود کو احتساب کیلئے پیش کرتا ہوں: مصطفیٰ کمال پمز واقعے کے سی سی ٹی وی سمیت تمام شواہد محفوظ کر لیے گئے ہیں: طلال چوہدری ہسپتال واقعہ: حافظ نعیم نے حکومتی گڈ گورننس کے دعووں پر سوالات اٹھا دیے علامہ اقبال انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر نئے امیگریشن کاؤنٹرز فعال اسحاق ڈار کی لندن میں پاکستان نژاد برطانوی ارکان پارلیمنٹ سے ملاقات

بڑی کامیابی توحید ہے، اللہ صبر کرنے والوں کو دوست رکھتا ہے، خطبہ حج

Web Desk

26 May 2026

مقدس ترین اسلامی فریضے کی ادائیگی کے لیے مکہ مکرمہ میں دنیا بھر سے آئے ہوئے لاکھوں مسلمان میدانِ عرفات میں جمع ہو گئے ہیں، جہاں حج کا سب سے بڑا رکن “وقوفِ عرفات” ادا کیا گیا۔ اس ایمان افروز موقع پر مسجدِ نمرا سے جلیل القدر عالمِ دین شیخ ڈاکٹر علی بن عبدالرحمٰن الحذیفی نے خطبہِ حج دیا، جسے سن کر لاکھوں عازمین کی آنکھیں اشکبار ہو گئیں اور پورا میدان ‘لبیک الھم لبیک’ کی صداؤں سے گونج اٹھا۔

شیخ ڈاکٹر علی بن عبدالرحمٰن الحذیفی نے اللہ رب العزت کی حمد و ثنا اور حضورِ اکرم ﷺ پر درود و سلام کے بعد اپنے خطبے کا آغاز کرتے ہوئے کہا کہ اللہ تعالیٰ نے حج کو ہر صاحبِ استطاعت مسلمان پر فرض کیا ہے۔

خطبہِ حج کے دوران شیخ نے عقیدہِ توحید کی اہمیت پر خصوصی زور دیا اور شرک کی سخت الفاظ میں مذمت کی۔ انہوں نے فرمایا:

“قیامت کا زلزلہ انتہائی شدید اور ہولناک ہے، اور اس دن آخرت کی سب سے بڑی کامیابی صرف اور صرف ‘توحید’ کی بدولت ممکن ہے۔ جو لوگ شرک و کفر کا راستہ اختیار کرتے ہیں، وہ دراصل ایسی بے جان چیزوں کو پکارتے ہیں جو خود کسی نفع یا نقصان کا کوئی اختیار نہیں رکھتیں۔”

انہوں نے مزید کہا کہ جو شخص کائنات کے مالک سے ڈرتا ہے اور تقویٰ اختیار کرتا ہے، اللہ تعالیٰ نے اس کے لیے دُہری جنت کا وعدہ کر رکھا ہے، اور اللہ پاک ہر حال میں صبر کا دامن تھامنے والوں کو بے حد پسند فرماتا ہے۔

سیدنا ابراہیم علیہ السلام کی قربانی کا ذکر کرتے ہوئے معزز خطیب نے کہا کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت ابراہیمؑ کو حکم دیا تھا کہ وہ لوگوں میں حج کی منادی کریں، اور اللہ نے اس آواز کو رہتی دنیا تک دور دراز کے علاقوں تک پہنچا دیا۔ آج دنیا کے کونے کونے سے مختلف رنگ و نسل اور زبانوں کے لوگ یہاں جمع ہیں، جو اللہ کی قدرت کا سب سے بڑا مظہر ہے۔ اللہ تعالیٰ اس وقت فرشتوں کے سامنے اپنے ان حاجیوں پر فخر فرما رہا ہے۔

انہوں نے عازمینِ حج کو مناسک کے دوران امن و آشتی برقرار رکھنے کی تلقین کرتے ہوئے کہا:

“یہاں کسی سے جھگڑا نہیں کرنا، گناہوں سے بچنا ہے اور تقویٰ اختیار کرنا ہے۔ جو کوئی بھی شعائر اللہ (اللہ کی نشانیوں) کا احترام کرتا ہے، یہ دراصل اس کے دل کے تقویٰ کی نشانی ہے۔”

شیخ الحذیفی نے حجاج کرام کو حج کے بقیہ ارکان سے متعلق رہنمائی فراہم کرتے ہوئے بتایا کہ عازمینِ حج آج کا پورا دن میدانِ عرفات میں قیام اور دعاؤں میں گزاریں گے۔ سورج غروب ہوتے ہی وہ مزدلفہ کے لیے روانہ ہوں گے جہاں رات کھلے آسمان تلے گزاری جائے گی۔ اگلے دن حجاج کرام منیٰ تشریف لے جائیں گے، جہاں 11 اور 12 ذوالحجہ کی راتیں قیام کریں گے، شیطان کو کنکریاں ماریں گے اور کثرت سے اللہ کا ذکر کریں گے۔ انہوں نے یاد دہانی کرائی کہ اپنے وطن واپس لوٹنے سے پہلے تمام حجاج ‘طوافِ وداع’ لازم کریں۔

خطبے کے اختتام پر شیخ ڈاکٹر علی بن عبدالرحمٰن الحذیفی نے گریہ و زاری کے ساتھ امتِ مسلمہ اور حجاج کے لیے خصوصی دعا فرمائی:

“یا اللہ! دنیا بھر سے آئے ہوئے ان تمام عازمینِ حج کو بحفاظت، عافیت اور سلامتی کے ساتھ واپس ان کے گھروں کو لوٹا۔ ان کے دلوں کو حق پر جمع کر دے، ان کی خطاؤں کو درگزر فرما اور ان کے حج کے تمام مناسک و عبادات کو اپنی بارگاہ میں قبول و منظور فرما۔ آمین”