LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
پنجاب میں عید الاضحیٰ کی تعطیلات کے دوران شدید ہیٹ ویو کا خدشہ نائب وزیراعظم اسحاق ڈار سرکاری دورے پر نیویارک پہنچ گئے مریم نواز کی اے آئی آئی بی کو ڈویلپمنٹ پراجیکٹ میں شراکت داری کی پیشکش پاکستان اور چین کا تزویراتی شراکت داری کو مزید گہرا کرنے پر اتفاق: مشترکہ اعلامیہ بھارت میں عیدالاضحیٰ پر نمازعید اور قربانی پر پابندی عائد ایران کے ساتھ معاہدہ اب بھی ممکن، قطر میں بات ہوئی ہے: امریکی وزیر خارجہ چین دنیا کیلئے قابل تقلید ماڈل، معاشی طاقت میں کوئی ثانی نہیں: وزیراعظم وزیر داخلہ محسن نقوی کا منیٰ میں پاکستانی حجاج کرام کے کیمپس کا دورہ وزیراعظم کی چینی وفود سے ملاقاتیں، اقتصادی تعاون کو وسعت دینے کا عزم لبیک اللھم لبیک! حج کا رکن اعظم ’’وقوف عرفہ‘‘ آج ادا کیا جائے گا ملک بھر میں بوہری برادری آج عیدالاضحیٰ مذہبی جوش وخروش سے منا رہی ہے ایران میں صدر مسعود پزشکیان کی ہدایت پر انٹرنیٹ سروس بحال کرنے کا فیصلہ مشرقِ وسطیٰ میں جنگ بندی کی امید، پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں کاروبار کا زبردست تیزی پر اختتام سوئی گیس کا عید الاضحیٰ کے لیے نیا شیڈول جاری، صارفین کو سہولت دینے کا اعلان پاکستان میں گردشی قرض، غربت اور بے روزگاری میں اضافہ

بھارت میں عیدالاضحیٰ پر نمازعید اور قربانی پر پابندی عائد

Web Desk

26 May 2026

بھارت میں مسلمانوں کے بڑے مذہبی تہوار عیدالاضحیٰ (بقرعید) کے موقع پر مودی حکومت اور بی جے پی وزرائے اعلیٰ کے متعصبانہ اور انتہا پسندانہ اقدامات نے نئی دہلی کے نام نہاد سیکولر ریاست ہونے کے دعوؤں کی قلعی کھول دی ہے۔ مسلم اقلیت کو نشانہ بنانے کے لیے ریاستی مشینری کا بے جا استعمال اب کھل کر سامنے آ رہا ہے۔

معروف بھارتی جریدے ‘ٹائمز آف انڈیا’ کی رپورٹ کے مطابق عیدالاضحیٰ کی آمد سے قبل ہی مودی حکومت نے گائے، بچھڑے اور اونٹ کی قربانی پر سخت پابندی عائد کرتے ہوئے شہریوں کو وارننگ جاری کر دی ہے۔ اس مسلم دشمن پالیسی کو آگے بڑھاتے ہوئے اتر پردیش (یو پی) کے جنونی وزیراعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ نے بقرعید کے موقع پر قربانی کرنے اور نمازِ عید ادا کرنے والے مسلمانوں کو کھلی دھمکیاں دی ہیں، جس سے مسلم آبادی میں شدید خوف و ہراس پھیل گیا ہے۔

مودی کے نقشِ قدم پر چلتے ہوئے اتراکھنڈ کے وزیراعلیٰ پشکر سنگھ دھامی نے بھی عیدالاضحیٰ سے قبل ایک متنازع بیان جاری کیا ہے جس میں انہوں نے مسلمانوں کو خبردار کیا ہے کہ سڑکوں اور عوامی مقامات پر کسی بھی قسم کی مذہبی سرگرمی یا نماز برداشت نہیں کی جائے گی۔

دوسری جانب، بھارتی عدلیہ کا جھکاؤ بھی ہندوتوا نظریات کی طرف واضح نظر آ رہا ہے۔ کلکتہ ہائیکورٹ نے مسلمانوں کے جذبات کو مجروح کرتے ہوئے ایک انتہائی متعصبانہ فیصلہ جاری کیا، جس میں عدالت کا کہنا تھا کہ”گائے کی قربانی دینا نہ تو عیدالاضحیٰ کا لازمی حصہ ہے اور نہ ہی اسلام میں اس کا کوئی قطعی مذہبی حکم ہے۔”

دلچسپ بات یہ ہے کہ بی جے پی حکومت کی اس انتہا پسند سوچ نے نہ صرف مسلمانوں کو متاثر کیا ہے بلکہ خود ہندو برادری کے لیے بھی معاشی مشکلات کھڑی کر دی ہیں۔ مغربی بنگال میں بی جے پی کی جانب سے قربانی کے جانوروں کی خرید و فروخت پر پابندی عائد کیے جانے کے بعد مقامی ہندو تاجر سڑکوں پر نکل آئے اور حکومت کے خلاف شدید احتجاج کیا۔ تاجروں کا کہنا ہے کہ اس پابندی سے ان کا کروڑوں روپے کا کاروبار تباہ ہو گیا ہے۔

عالمی مبصرین اور انسانی حقوق کے بین الاقوامی ماہرین نے بھارت کی اس موجودہ صورتحال پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے۔ ماہرین کے مطابق”نریندر مودی اور بی جے پی کی انتہا پسند سوچ نے اقلیتوں، بالخصوص مسلمانوں کے خلاف نفرت کو ریاستی سطح پر فروغ دیا ہے۔ ان اقدامات نے ملک کو شدید اندرونی انتشار اور عدم استحکام کا شکار کر دیا ہے، جس سے بھارت کا نام نہاد سیکولر ازم مکمل طور پر دفن ہو چکا ہے۔”