LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
پمز آتشزدگی کی تحقیقات کے لئے اعلیٰ سطح انکوائری کمیٹی قائم سانحہ پمز: بچوں کی اموات آکسیجن بند ہونے اور جھلسنے سے ہوئی، ابتدائی رپورٹ ٹرمپ کا ایران پر مکمل غلبے کا دعویٰ، بڑی فتح جلد حاصل کرنے کی امید ظاہر کردی ایرانی فوج مکمل طور پر چوکس، فضائی دفاعی صلاحیتیں مزید بہتر بنا رہے ہیں: علی رضا الہامی مریم نواز کی سرکاری ہسپتالوں میں فائر سیفٹی سسٹم کی تنصیب یقینی بنانے کی ہدایت ایران جنگ: دبئی ایئرپورٹ پر مسافروں کی آمد میں ایک تہائی کمی نیتن یاہو نے ایران کے ساتھ سفارتی معاہدے کے امکانات مسترد کردیے آزاد کشمیر کے وزیراعظم کے انتخاب کیلئے شیڈول جاری امریکا، ایران مذاکرات کی بحالی کیلئے رابطے جاری ہیں: قطر امریکی وزارتِ خارجہ کا دنیا بھر میں امیگرینٹ ویزا انٹرویوز کا عمل عارضی طور پر معطل کرنے کا اعلان ٹرمپ کا ایران پر مکمل غلبے کا دعویٰ، بڑی فتح جلد حاصل کرنے کی امید ظاہر کردی پمز سانحہ: معصوم بچوں کی شہادت پر پوری کابینہ کو استعفیٰ دے دینا چاہیے۔علامہ راجہ ناصر عباس پمز ہسپتال آتشزدگی سانحہ: این آئی سی یو میں نیبولائزر پھٹنے سے آگ لگی، ابتدائی رپورٹ اسلام آباد میں نومولود بچوں کی ہلاکت انسانی تاریخ کا بدترین سانحہ ہے: بلاول بھٹو اسحاق ڈار کی لندن میں کامن ویلتھ سیکریٹری جنرل سے ملاقات

چین دنیا کیلئے قابل تقلید ماڈل، معاشی طاقت میں کوئی ثانی نہیں: وزیراعظم

Web Desk

26 May 2026

وزیراعظم شہباز شریف نے چین کی بے مثال ترقی اور عالمی اقتصادی و عسکری اثر و رسوخ کو دنیا کے لیے ایک رول ماڈل قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ معاشی طاقت کے لحاظ سے موجودہ دور میں چین کا کوئی ثانی نہیں ہے۔ انہوں نے عزم ظاہر کیا کہ پاکستان سخت محنت اور مستقل مزاجی کے ذریعے ملکی ترقی کے لیے چینی طرز کے معاشی ماڈل کی پیروی کرے گا۔

ان خیالات کا اظہار انہوں نے بیجنگ میں پاکستان اور چین کے درمیان سفارتی تعلقات کے 75 سال مکمل ہونے پر منعقدہ ایک خصوصی اور پروقار تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ تقریب میں وزیراعظم شہباز شریف کے ہمراہ چینی نائب صدر ہین ژینگ نے خصوصی شرکت کی اور دونوں رہنماؤں نے پاک چین دوستی کے 75 برس مکمل ہونے کی خوشی میں یادگاری کیک بھی کاٹا۔

وزیراعظم شہباز شریف نے اپنے خطاب میں چینی صدر شی جن پنگ کی بصیرت انگیز قیادت کو زبردست خراجِ تحسین پیش کیا۔ انہوں نے کہا “صدر شی جن پنگ کی مدبرانہ قیادت میں چین نے کروڑوں افراد کو غربت کے اندھیروں سے نکالا۔ خطے اور دنیا بھر میں امن، ترقی اور خوشحالی کے لیے چین کی کوششیں انتہائی قابلِ تحسین ہیں اور چینی صدر ہمیشہ تنازعات کے پرامن حل کے لیے مذاکرات کی پالیسی پر یقین رکھتے ہیں۔”

وزیراعظم نے چین کی جانب سے ماضی میں، بالخصوص 2010 کے تباہ کن سیلاب کے دوران پاکستان کی کی جانے والی بھرپور اور بروقت امداد پر چینی حکومت اور عوام کا شکریہ ادا کیا۔

پاک چین تعلقات کی تاریخی گہرائی کا ذکر کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ دونوں ممالک کے عظیم رہنماؤں نے اس لازوال دوستی کو انتہائی عزم، خلوص اور لگن سے استوار کیا ہے، جس کی مثال پوری دنیا میں ڈھونڈنا ناممکن ہے۔ انہوں نے دونوں ممالک کے گہرے تزویراتی تعلقات کو خوبصورت الفاظ میں بیان کرتے ہوئے کہا:

“آج ہم محض دو جسم نہیں بلکہ ایک روح اور ایک دل کی مانند ہیں، جن کے دل ایک ساتھ دھڑکتے ہیں۔ پاک چین دوستی کی جڑیں اتنی گہری ہیں کہ اس نے تاریخ کے ہر طوفان کا مردانہ وار مقابلہ کیا ہے اور ہمیشہ محبت کا سایہ اور ثمرات دیے ہیں۔”

وزیر اعظم نے اس بات پر زور دیا کہ دنیا کی سب سے طاقتور عسکری اور معاشی قوتوں میں شامل ہونے کے باوجود چین کا فلسفہ ہمیشہ امن اور شراکت داری پر مبنی رہا ہے، جو صدر شی جن پنگ کو اس دور کا سب سے قابلِ احترام رہنما بناتا ہے۔

انہوں نے پاکستانی عوام اور اداروں پر زور دیا کہ وہ چین کے اس عظیم ترقیاتی سفر سے سبق حاصل کریں۔ ان کا کہنا تھا کہ دنیا کا طویل ترین سفر بھی پہلے قدم سے شروع ہوتا ہے، اور وہ یقین دلاتے ہیں کہ پاکستان بہت جلد چینی طرزِ حکومت اور معاشی ماڈل کے چھوٹے روپ کو اپنے ملک میں نافذ کرنے کے اہداف حاصل کر لے گا۔ انہوں نے مزید کہا کہ اب یہ ہماری اور آنے والی نسلوں کی ذمہ داری ہے کہ ہم اس دوستی کے درخت میں نئی شاخیں پیدا کریں تاکہ یہ رشتہ مزید مضبوط ہو سکے۔