LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
وزیراعظم نے نئی آٹو پالیسی کی منظوری دیدی، آئی ایم ایف کے ساتھ شیئر کی جائے گی روس کے شہر نووروسیسک پر یوکرینی ڈرون حملہ، بچے سمیت 4 افراد ہلاک الیکشن کمیشن کا بڑا فیصلہ: اثاثوں کے گوشوارے جمع نہ کرانے پر زرتاج گل سمیت 3 سابق ارکانِ قومی اسمبلی نااہل پنشنرز کے لیے ڈیجیٹل پروف آف لائف کا نیا ایس او پی جاری حکومت نے دھرنے ختم کرنے کی درخواست کی، ہم نے معذرت کرلی، حافظ نعیم الرحمن امریکا کا ایران کے 5 آئل ٹینکرز تباہ کرنے کا دعویٰ، حملے کی ویڈیوز بھی جاری کر دیں سعودی عرب نے یمن میں ٹھکانوں پر 32 سے زائد فضائی حملے کئے: حوثیوں کا دعویٰ کم آمدن اور متوسط طبقے کو سستے گھروں کی فراہمی ہماری ترجیح ہے، وزیر اعظم سپریم کورٹ: نصف صدی بعد خاتون کو وراثتی جائیداد کیس میں ریلیف مل گیا اسحاق ڈار کا مصری وزیر خارجہ سے رابطہ، علاقائی صورتحال پر تبادلہ خیال چین اور برطانیہ میں تعاون بڑھانے پر اتفاق، اختلافات مذاکرات سے حل کرنے پر زور دہلی کے سابق چیف سیکرٹری نے خودکشی کرلی حکومت کی 7 لاکھ 50 ہزار میٹرک ٹن گندم درآمد کرنے کی منظوری لانگ مارچ کیس: اسلام آباد ہائیکورٹ نے لارجر بنچ تشکیل دے دیا، چاروں صوبوں کے چیف سیکرٹریز اور آئی جیز کل طلب یمن سے سعودیہ پر حملوں سے مکہ مشترکہ دفاعی معاہدہ آپریشنل ہوگا: خواجہ آصف

27 ویں آئینی ترمیم کوئی طوفان نہیں، ابھی مشاورت کا آغاز ہوا ہے: رانا ثنااللہ

Web Desk

4 November 2025

وزیراعظم کے مشیر برائے سیاسی و انتظامی امور رانا ثنااللہ نے کہا ہے کہ 27ویں آئینی ترمیم کو بلاوجہ خوفناک بنا کر پیش کیا جا رہا ہے، حالانکہ ابھی صرف مشاورت کا آغاز ہوا ہے۔
انہوں نے واضح کیا کہ اتفاقِ رائے کے بغیر کوئی ترمیم نہیں کی جائے گی۔ رانا ثنا نے کہا کہ بلاول بھٹو کی جانب سے جن نکات کا ذکر کیا گیا، ان میں سے کوئی بھی ایسی چیز نہیں جو زیرِ بحث نہ ہو۔
ان کا کہنا تھا کہ ن لیگ کو 18ویں آئینی ترمیم سے کوئی مسئلہ نہیں، تاہم صوبوں اور وفاق کے درمیان وسائل کے توازن کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ دفاعی اخراجات اور قرضوں کی ادائیگی کے بعد وفاق کے پاس کچھ نہیں بچتا، اس لیے وسائل کی منصفانہ تقسیم ناگزیر ہے۔
رانا ثنااللہ نے کہا کہ اتحادی جماعتوں سے بات چیت کے بعد تمام نکات عوام کے سامنے لائے جائیں گے۔ ان کے مطابق آئین میں ترامیم کا مقصد ہمیشہ بہتری اور نظام کی مضبوطی ہوتا ہے، نہ کہ کسی کے اختیارات کو کم یا زیادہ کرنا۔