LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
وزیراعظم نے نئی آٹو پالیسی کی منظوری دیدی، آئی ایم ایف کے ساتھ شیئر کی جائے گی روس کے شہر نووروسیسک پر یوکرینی ڈرون حملہ، بچے سمیت 4 افراد ہلاک الیکشن کمیشن کا بڑا فیصلہ: اثاثوں کے گوشوارے جمع نہ کرانے پر زرتاج گل سمیت 3 سابق ارکانِ قومی اسمبلی نااہل پنشنرز کے لیے ڈیجیٹل پروف آف لائف کا نیا ایس او پی جاری حکومت نے دھرنے ختم کرنے کی درخواست کی، ہم نے معذرت کرلی، حافظ نعیم الرحمن امریکا کا ایران کے 5 آئل ٹینکرز تباہ کرنے کا دعویٰ، حملے کی ویڈیوز بھی جاری کر دیں سعودی عرب نے یمن میں ٹھکانوں پر 32 سے زائد فضائی حملے کئے: حوثیوں کا دعویٰ کم آمدن اور متوسط طبقے کو سستے گھروں کی فراہمی ہماری ترجیح ہے، وزیر اعظم سپریم کورٹ: نصف صدی بعد خاتون کو وراثتی جائیداد کیس میں ریلیف مل گیا اسحاق ڈار کا مصری وزیر خارجہ سے رابطہ، علاقائی صورتحال پر تبادلہ خیال چین اور برطانیہ میں تعاون بڑھانے پر اتفاق، اختلافات مذاکرات سے حل کرنے پر زور دہلی کے سابق چیف سیکرٹری نے خودکشی کرلی حکومت کی 7 لاکھ 50 ہزار میٹرک ٹن گندم درآمد کرنے کی منظوری لانگ مارچ کیس: اسلام آباد ہائیکورٹ نے لارجر بنچ تشکیل دے دیا، چاروں صوبوں کے چیف سیکرٹریز اور آئی جیز کل طلب یمن سے سعودیہ پر حملوں سے مکہ مشترکہ دفاعی معاہدہ آپریشنل ہوگا: خواجہ آصف

پنشنرز کے لیے ڈیجیٹل پروف آف لائف کا نیا ایس او پی جاری

Web Desk

9 September 2026

اسلام آباد: وفاقی وزارتِ خزانہ نے پنشنرز کی لائف ویری فکیشن کے نظام کو جدید، شفاف اور آسان بنانے کے لیے ’ڈیجیٹل پروف آف لائف‘ کے نئے طریقہ کار (SOPs) جاری کر دیے ہیں۔ نئے قواعد و ضوابط کے تحت پنشنرز کی بائیومیٹرک تصدیق میں کمرشل بینکوں کا عمل دخل مکمل طور پر ختم کر دیا گیا ہے، جبکہ سال میں دو بار (مارچ اور ستمبر) لازمی فزیکل لائف سرٹیفکیٹ جمع کرانے کی شرط بھی منسوخ کر دی گئی ہے۔

وزارتِ خزانہ کے مطابق اب پنشنرز کی لائف ویری فکیشن صرف نادرا اور اکاؤنٹنٹ جنرل دفاتر کے ذریعے کی جائے گی۔ پنشنرز ہر 180 دن (چھ ماہ) میں ‘نادرا پاک آئی ڈی’ موبائل ایپ کے ذریعے اپنی تصدیق کروا سکیں گے، جس کا ڈیجیٹل لائف سگنل براہِ راست کنٹرولر جنرل آف اے۔کاؤنٹس (CGA) اور ملٹری اکاؤنٹنٹ جنرل (MAG) کو موصول ہوگا۔ اس نظام کے تحت کمرشل بینکوں کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ معمول کے حالات میں پنشنرز سے بائیومیٹرک ڈیٹا یا لائف سرٹیفکیٹ طلب نہ کریں اور صرف رقم کی منتقلی کے ادارے کے طور پر کام کریں۔

نئے ایس او پی کے تحت پنشن اکاؤنٹس کو آئندہ کبھی بھی غیر فعال یا ‘ڈارمنٹ’ قرار نہیں دیا جائے گا اور نہ ہی تصدیق میں تاخیر پر بینک اکاؤنٹ پر ڈیبٹ کی پابندی لگا سکیں گے۔ تاہم، اگر چھ ماہ تک ڈیجیٹل لائف سگنل موصول نہ ہوا تو پنشن عارضی طور پر ‘سسپنس اسٹیٹس’ میں چلی جائے گی، جو لائف سگنل ملتے ہی خودکار طور پر بحال ہو جائے گی اور تمام بقایا جات بھی جاری کر دیے جائیں گے۔ 22 اگست 2026ء سے پہلے ڈارمنٹ کیے گئے تمام اکاؤنٹس ستمبر 2026ء سے پنشن کی رقم موصول ہوتے ہی دوبارہ فعال ہو جائیں گے۔

حکومت نے فزیکل ڈسبرسر ہاف کا نظام بھی مستقل طور پر ختم کر دیا ہے۔ تاہم، تکنیکی دشواری یا ڈیجیٹل تصدیق نہ ہونے کی صورت میں ڈسٹرکٹ اکاؤنٹس دفاتر سے دستی تصدیق کی سہولت میسر ہوگی۔ انتہائی عمر رسیدہ پنشنرز ‘فارم 10’ کے ذریعے، جبکہ خاندانی پنشنرز اپنی ازدواجی حیثیت کی تصدیق کے لیے ‘فارم 12’ جمع کرا سکیں گے۔ وزارتِ خزانہ نے یہ بھی واضح کیا ہے کہ پنشن ادائیگی کے لیے بینک اکاؤنٹس کھولنے اور انہیں برقرار رکھنے پر کسی قسم کے سروس چارجز نہیں لیے جائیں گے۔