LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY: ▲ ▼
China: ▲ ▼
Pakistan: ▲ ▼
India: ▲ ▼
TV ONE Logo
اہم خبریں
ایران کیخلاف کسی بھی طاقت کا اتحاد ناکامی سے دوچار ہوگا: ترجمان ایرانی فوج شہباز شریف کی نواز شریف سے ملاقات، ملکی سیاسی و معاشی صورتحال پر مشاورت صدر پوتن کی امریکہ میں جی 20 سربراہی اجلاس میں شرکت کا فیصلہ نہیں ہوا: کریملن پاکستان پوسٹ میں غیر قانونی بھرتیوں کا کیس، اسعد محمود تفتیش سے روپوش قرار پاکستان میں انتظامی یونٹس بنانے کے حوالے سے غور کرنا چاہئے: خواجہ آصف وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز کی دیوالی کے تہوار پر ہندو برادری کو مبارکباد وزیراعظم شہباز شریف کی آذربائیجان کو یوم فتح کی چھٹی سالگرہ پر مبارکباد شادی اور بچے پیدا کرنے کی ہمت کریں: پوپ لیو کی جنوبی امریکا میں نوجوانوں کو نصیحت سعودی عرب نے ریاض کی جانب داغے گئے 2 بیلسٹک اور 2 کروز میزائل تباہ کر دیے ڈی جی آئی ایس پی آر کا لاہور کی تین جامعات کا دورہ، طلبہ اور اساتذہ سے خصوصی نشستیں ٹرمپ کا سیاسی انتقام لینے اور دھمکیاں دینے پر ڈیموکریٹس کے خلاف تحقیقات کا حکم فضائی آلودگی میں لاہور دنیا کے آلودہ ترین شہروں میں سرفہرست صدر اور وزیراعظم کا دیوالی پر ملک میں اتحاد، مذہبی ہم آہنگی کے فروغ پر زور امریکی فوج کا بحیرۂ عمان میں تجارتی جہاز کو نشانہ بنانے کا دعویٰ پاکستان اور سری لنکا کے درمیان دو ٹیسٹ میچوں کی سیریز کا کل سے آغاز: بابر اعظم اور کوشال مینڈس اپنی ٹیموں کی قیادت کریں گے

یوٹیوب نے اے آئی سے بنائے متعدد چینلز ڈیلیٹ کر دیے

Web Desk

2 February 2026

2026 کے آغاز پر گوگل کی ملکیت یوٹیوب نے اے آئی سے بنائی گئی ناقص کوالٹی کی ویڈیوز (AI Slops) کے خلاف بڑی کارروائی کرتے ہوئے 4.7 ارب سے زائد ویوز ڈیلیٹ کر دیے ہیں۔

نومبر 2025 میں آن لائن ویڈیو ایڈیٹنگ پلیٹ فارم Kapwing کی جانب سے جاری کی گئی ابتدائی رپورٹ میں یوٹیوب کے سب سے زیادہ سبسکرائب کیے گئے 100 اے آئی سلوپ چینلز کی نشاندہی کی گئی تھی۔ تازہ رپورٹ کے مطابق ان میں سے 16 چینلز اب مکمل طور پر یوٹیوب سے ہٹا دیے گئے ہیں یا ان کا تمام مواد ڈیلیٹ کر دیا گیا ہے۔

ڈیلیٹ ہونے والے چینلز میں CuentosFacianantes (کم معیار کی ڈریگن بال تھیم ویڈیوز)، Imperio de Jesus (Empire of Jesus) اور Super Cat League شامل ہیں۔ یہ تمام چینلز مجموعی طور پر 3 کروڑ 50 لاکھ سے زائد سبسکرائبرز رکھتے تھے۔

ان چینلز کی ویڈیوز کو اب تک 4.7 ارب سے زائد بار دیکھا جا چکا تھا اور یہ چینلز سالانہ تقریباً ایک کروڑ ڈالر تک کمائی کر رہے تھے۔ اگرچہ فہرست میں شامل کچھ بڑے اے آئی چینلز اب بھی موجود ہیں، تاہم ان کا سارا مواد بھی یوٹیوب سے ہٹا دیا گیا ہے۔

ذرائع کے مطابق یوٹیوب یہ کارروائیاں اپنے جدید اسپیم ڈیٹیکشن سسٹمز کے تحت کر رہا ہے، جس کا مقصد اے آئی کے ذریعے تیار کیے گئے کم معیار اور گمراہ کن مواد کا خاتمہ کرنا ہے۔