LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY: ▲ ▼
China: ▲ ▼
Pakistan: ▲ ▼
India: ▲ ▼
TV ONE Logo
اہم خبریں
خاران کے مغوی ڈپٹی کمشنر منیر احمد سومرو بازیاب امریکہ اور جنوبی کوریا کے معاہدے میں مزید بہتری آگئی: ٹرمپ برطانیہ میں فضائی ٹریفک کنٹرول کے نظام میں خرابی، 2 ہزار سے زائد پروازیں متاثر رواں مالی سال کے پہلے تین ماہ میں تجارتی خسارہ 10.79 ارب ڈالر تک پہنچ گیا حکومتی کمیٹی سے مذاکرات کے پہلے روز کے بعد اپوزیشن قیادت کی اہم بیٹھک سٹاک مارکیٹ میں اتار چڑھاؤ، ہنڈرڈ انڈیکس منفی زون میں بند ہوا روپے کی قدر میں بہتری، انٹربینک میں ڈالر مزید سستا ہوگیا پُرتشدد انتشار، 9 مئی جیسے حالات پیدا کرنے کی کوشش کیساتھ بلاامتیاز نمٹا جائیگا: کور کمانڈرز کانفرنس اقوام متحدہ میں وزیراعظم نے فلسطین سمیت اہم امور پر مؤقف مدلل انداز میں پیش کیا: اسحاق ڈار وزیر خزانہ سے ورلڈ بینک کے وفد کی ملاقات، معاشی اصلاحات کا جائزہ لیا صومالی قزاقوں سے چار پاکستانی چھڑوا لیے، کل وطن پہنچیں گے: اسحاق ڈار الیکشن کمیشن نے پنجاب میں بلدیاتی انتخابات 14 دسمبر کو کرانے کی تجویز دیدی وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب اور عالمی بینک کے وفد کی ملاقات، حکومت اور پی ٹی آئی قیادت کے درمیان ملاقات، تمام بات چیت راز میں رکھنے پر زور جماعت اسلامی نے اپوزیشن کی آل پارٹیز کانفرنس میں شرکت کا اعلان کردیا

یوٹیوب نے اے آئی سے بنائے متعدد چینلز ڈیلیٹ کر دیے

Web Desk

2 February 2026

2026 کے آغاز پر گوگل کی ملکیت یوٹیوب نے اے آئی سے بنائی گئی ناقص کوالٹی کی ویڈیوز (AI Slops) کے خلاف بڑی کارروائی کرتے ہوئے 4.7 ارب سے زائد ویوز ڈیلیٹ کر دیے ہیں۔

نومبر 2025 میں آن لائن ویڈیو ایڈیٹنگ پلیٹ فارم Kapwing کی جانب سے جاری کی گئی ابتدائی رپورٹ میں یوٹیوب کے سب سے زیادہ سبسکرائب کیے گئے 100 اے آئی سلوپ چینلز کی نشاندہی کی گئی تھی۔ تازہ رپورٹ کے مطابق ان میں سے 16 چینلز اب مکمل طور پر یوٹیوب سے ہٹا دیے گئے ہیں یا ان کا تمام مواد ڈیلیٹ کر دیا گیا ہے۔

ڈیلیٹ ہونے والے چینلز میں CuentosFacianantes (کم معیار کی ڈریگن بال تھیم ویڈیوز)، Imperio de Jesus (Empire of Jesus) اور Super Cat League شامل ہیں۔ یہ تمام چینلز مجموعی طور پر 3 کروڑ 50 لاکھ سے زائد سبسکرائبرز رکھتے تھے۔

ان چینلز کی ویڈیوز کو اب تک 4.7 ارب سے زائد بار دیکھا جا چکا تھا اور یہ چینلز سالانہ تقریباً ایک کروڑ ڈالر تک کمائی کر رہے تھے۔ اگرچہ فہرست میں شامل کچھ بڑے اے آئی چینلز اب بھی موجود ہیں، تاہم ان کا سارا مواد بھی یوٹیوب سے ہٹا دیا گیا ہے۔

ذرائع کے مطابق یوٹیوب یہ کارروائیاں اپنے جدید اسپیم ڈیٹیکشن سسٹمز کے تحت کر رہا ہے، جس کا مقصد اے آئی کے ذریعے تیار کیے گئے کم معیار اور گمراہ کن مواد کا خاتمہ کرنا ہے۔