LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY: ▲ ▼
China: ▲ ▼
Pakistan: ▲ ▼
India: ▲ ▼
TV ONE Logo
اہم خبریں
حوثی ملیشیا کا عدن ایئرپورٹ پر بیلسٹک میزائل حملہ روس اور ایران کے درمیان 8 جوہری پاور یونٹس کی تعمیر کے معاہدوں پر دستخط گھریلو تنازع پر بھائی نے فائرنگ کرکے دو بہنوں کو قتل کردیا ایران کا مستقبل سپریم لیڈر کی ہدایات کے مطابق ہوگا، صدر مسعود پزشکیان انٹربینک میں روپے کی قدر میں بہتری، ڈالر مزید سستا ہوگیا ماسکو میں تیسرے روس افریقہ سربراہی اجلاس کا آغاز، پوتن کا کثیر قطبی عالمی نظام پر زور سیاسی جماعتیں عوامی ریلیف اور عملی اقدامات پر توجہ دیں: شرجیل میمن پولٹری سیکٹر میں اینٹی بائیوٹکس کے استعمال میں کمی کیلئے پاکستان اور ڈنمارک کے ادارے میں معاہدہ چار ملکی اجلاس خطے میں امن و سلامتی کے لیے اہم موقع ہے، عباس عراقچی وزیراعظم آزاد کشمیر کا وادی سیماری میں ایکو ٹورازم منصوبے کا دورہ، حکومتی سرپرستی کا اعلان نیتن یاہو فتح کے قریب، میری حمایت نے بہت مدد کی: ٹرمپ کا دعویٰ اسحاق ڈار کا عمانی ہم منصب سے ٹیلیفونک رابطہ، دوطرفہ تعاون بڑھانے پر اتفاق ملکی ترقی کا راز مصنوعی ذہانت اور ڈیجیٹلائزیشن میں مضمر ہے: شہباز شریف سپین میں دو تیز رفتار ٹرینیں آپس میں ٹکرا گئیں، 30 افراد ہلاک وزیراعلیٰ مریم نواز کے کاشتکاروں کیلئے بڑے اعلانات، اپنا کسان بینک قائم کرنے کا فیصلہ

پاکستان کو 10 سال میں 3 کروڑ نوکریاں پیدا کرنا ہوں گی: صدرعالمی بینک

Web Desk

6 February 2026

عالمی بینک کے صدر اجے بنگا نے کہا ہے کہ پاکستان کو اگلے 10 سال میں تقریباً 3 کروڑ نوکریاں پیدا کرنا ہوں گی تاکہ بڑھتی ہوئی نوجوان آبادی کو روزگار مل سکے۔ انہوں نے کہا کہ ملک میں ہر سال 25 سے 30 لاکھ نئی ملازمتیں پیدا کرنا ضروری ہیں، بصورت دیگر بے روزگاری، سماجی بدامنی اور ہجرت میں اضافہ ہوگا۔

اجے بنگا نے بین الاقوامی میڈیا کو دیے گئے انٹرویو میں بتایا کہ عالمی بینک پاکستان کے ساتھ سالانہ 4 ارب ڈالر کی شراکت داری کرے گا۔ انہوں نے کہا کہ نوکریوں کا 90 فیصد حصہ نجی شعبہ پیدا کرتا ہے، جبکہ زراعت سے بھی تقریباً ایک تہائی روزگار حاصل کیا جا سکتا ہے۔

انہوں نے بجلی کے شعبے کو سب سے بڑا مسئلہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ نظام میں اصلاحات کی فوری ضرورت ہے کیونکہ بجلی کے نقصانات معیشت اور سرمایہ کاری کو متاثر کر رہے ہیں۔

علاوہ ازیں اجے بنگا نے کہا کہ شمسی توانائی فائدہ مند ہے مگر اس کے نظام میں بہتری ضروری ہے، جبکہ صحت، انفراسٹرکچر، سیاحت اور زراعت میں زیادہ روزگار کے مواقع موجود ہیں۔ انہوں نے زور دیا کہ ماحولیاتی تحفظ کو ترقیاتی منصوبوں میں لازمی شامل کیا جانا چاہیے۔