LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
پولیس اور عدالتی نظام ناقص ، پورے سسٹم کو جڑ سے اکھاڑنا ہوگا: حافظ نعیم الرحمان سندھ طاس معاہدے کی پاسداری علاقائی امن و استحکام کیلئے ضروری ہے: اسحاق ڈار ٹرمپ کی ایران کو نئی دھمکی، رائفل تھامے تصویر کیساتھ ’نو مور نائس گائے‘ کا پیغام امریکا ایران تنازع کا واحد قابلِ عمل حل مذاکرات اور سفارت کاری ہے: چین آبنائے ہرمز سے کسی جہاز کو بغیر اجازت گزرنے کی اجازت نہیں: ایران امریکا کو سمجھنا ہوگا کہ دباؤ سے سفارتکاری بحال نہیں ہوسکتی: عباس عراقچی ایل این جی کی قیمتوں میں بڑی کمی، اوگرا نے نوٹیفکیشن جاری کردیا روسی اخبارات میں سی آئی اے چیف کے دورہ ماسکو، برطانیہ کو روسی انتباہ اور سوئس پابندیوں کے مستقبل پر بحث پنجاب اسمبلی میں بجلی کی غیراعلانیہ لوڈشیڈنگ کے خلاف قرارداد متفقہ طور پر منظور پاکستان کے پورٹ سسٹم میں اصلاحات، 85 اقدامات پر عملدرآمد پی ٹی آئی نے الیکشن کمیشن میں مالی گوشواروں کی تفصیلات جمع کرادیں نو منتخب وزیراعظم آزاد کشمیر افتخار گیلانی نے عہدے کا حلف اٹھا لیا این ای ڈی یونیورسٹی اور پاکستان سافٹ ویئر ایکسپورٹ بورڈ کے درمیان مفاہمتی یادداشت پر دستخط ایران نے امریکی پابندیوں کو ریاستی دہشتگردی قرار دے دیا ہاکی ورلڈ کپ: پاکستان نے جنوبی افریقہ کو ہرا کر 11ویں پوزیشن حاصل کرلی

پھیلتا ایبولا وائرس تاریخ کی مہلک ترین وبا ثابت ہوسکتا ہے: عالمی ادارہ صحت نے خبردار کر دیا

Web Desk

14 August 2026

جمہوری جمہوریہ کانگو میں تیزی سے پھیلتی ہوئی ایبولا وبا کے پیش نظر عالمی ادارہ صحت (WHO) کے ڈائریکٹر جنرل ڈاکٹر ٹیڈروس ایڈہانوم گیبریئسس نے خبردار کیا ہے کہ اگر یہ وبا اپنی موجودہ رفتار سے پھیلتی رہی تو یہ 2014ء سے 2016ء کے دوران مغرب افریقہ میں پھیلنے والی تاریخ کی سب سے مہلک ترین وبا کا ریکارڈ بھی توڑ دے گی، جس کے نتیجے میں 11 ہزار سے زائد افراد جان بحق ہوئے تھے۔ جنیوا میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ کانگو میں رواں سال مئی کے وسط میں اس وبا کا باضابطہ اعلان کیا گیا تھا، اور صرف چند ماہ میں اس کے کیسز کی تعداد 4,300 سے تجاوز کر چکی ہے جبکہ 2,000 سے زائد افراد لقمہ اجل بن چکے ہیں۔

عالمی ادارہ صحت نے واضح کیا ہے کہ ہنگامی اقدامات کا مقصد آئندہ تین ماہ میں وائرس کی منتقلی اور پھیلنے کی رفتار کو کنٹرول کرنا ہے، تاثر یہ نہیں ہونا چاہیے کہ اس سے وائرس کا مکمل خاتمہ ممکن ہو جائے گا۔ دوسری جانب، ایبولا کے مرکز کے قریب واقع شہر بونیا میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے ڈبلیو ایچ او افریقہ کے ڈائریکٹر ڈاکٹر محمد جنابی نے اعتراف کیا کہ “وائرس کی رفتار ہم سے تیز ہے”۔ انہوں نے انکشاف کیا کہ تحقیقات سے معلوم ہوا ہے کہ وائرس رواں سال فروری کے آغاز میں ہی پھیلنا شروع ہو گیا تھا، تاہم ابتدائی دنوں میں اسے غلطی سے ملیریا یا ٹائیفائیڈ سمجھا جاتا رہا۔ 2026ء کی یہ وبا ایبولا وائرس کی نایاب “بنڈی بوگیو” (Bundibugyo) قسم کی وجہ سے پھوٹی ہے، جس کے خلاف فی الوقت کوئی منظور شدہ ویکسین یا باقاعدہ علاج دستیاب نہیں ہے۔