LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY: ▲ ▼
China: ▲ ▼
Pakistan: ▲ ▼
India: ▲ ▼
TV ONE Logo
اہم خبریں
ایران کیخلاف کسی بھی طاقت کا اتحاد ناکامی سے دوچار ہوگا: ترجمان ایرانی فوج شہباز شریف کی نواز شریف سے ملاقات، ملکی سیاسی و معاشی صورتحال پر مشاورت صدر پوتن کی امریکہ میں جی 20 سربراہی اجلاس میں شرکت کا فیصلہ نہیں ہوا: کریملن پاکستان پوسٹ میں غیر قانونی بھرتیوں کا کیس، اسعد محمود تفتیش سے روپوش قرار پاکستان میں انتظامی یونٹس بنانے کے حوالے سے غور کرنا چاہئے: خواجہ آصف وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز کی دیوالی کے تہوار پر ہندو برادری کو مبارکباد وزیراعظم شہباز شریف کی آذربائیجان کو یوم فتح کی چھٹی سالگرہ پر مبارکباد شادی اور بچے پیدا کرنے کی ہمت کریں: پوپ لیو کی جنوبی امریکا میں نوجوانوں کو نصیحت سعودی عرب نے ریاض کی جانب داغے گئے 2 بیلسٹک اور 2 کروز میزائل تباہ کر دیے ڈی جی آئی ایس پی آر کا لاہور کی تین جامعات کا دورہ، طلبہ اور اساتذہ سے خصوصی نشستیں ٹرمپ کا سیاسی انتقام لینے اور دھمکیاں دینے پر ڈیموکریٹس کے خلاف تحقیقات کا حکم فضائی آلودگی میں لاہور دنیا کے آلودہ ترین شہروں میں سرفہرست صدر اور وزیراعظم کا دیوالی پر ملک میں اتحاد، مذہبی ہم آہنگی کے فروغ پر زور امریکی فوج کا بحیرۂ عمان میں تجارتی جہاز کو نشانہ بنانے کا دعویٰ پاکستان اور سری لنکا کے درمیان دو ٹیسٹ میچوں کی سیریز کا کل سے آغاز: بابر اعظم اور کوشال مینڈس اپنی ٹیموں کی قیادت کریں گے

واٹس ایپ صارفین خبردار: وارننگ اور حفاظتی اقدامات جاری

Web Desk

5 January 2026

واٹس ایپ صارفین کو ایک نئے اور خطرناک سائبر فراڈ ’’گوسٹ پیئرنگ‘‘ سے خبردار کیا جا رہا ہے، جس کے ذریعے ہیکرز بغیر کسی سیکیورٹی سسٹم کو توڑے صارفین کے واٹس ایپ اکاؤنٹس تک خاموشی سے رسائی حاصل کر لیتے ہیں۔

سائبر سیکیورٹی ماہرین کے مطابق ہیکرز واٹس ایپ کی Linked Devices (منسلک ڈیوائسز) کی سہولت کا ناجائز فائدہ اٹھاتے ہوئے صارف کے اکاؤنٹ کو اپنے آلے سے جوڑ لیتے ہیں۔ اس طریقۂ واردات کے بعد ہیکرز کو صارف کے پیغامات، تصاویر، ویڈیوز اور وائس نوٹس تک مکمل رسائی حاصل ہو جاتی ہے، جبکہ متاثرہ صارف کو اکثر کسی غیر معمولی سرگرمی کا فوری علم نہیں ہو پاتا۔

فراڈ کا طریقہ کار
ماہرین کے مطابق ہیکرز عموماً صارف کو ایک جعلی لنک ارسال کرتے ہیں جو کسی معروف ویب سائٹ سے مشابہ ہوتا ہے۔ جیسے ہی صارف اس لنک پر جا کر اپنا موبائل نمبر اور واٹس ایپ کا تصدیقی کوڈ درج کرتا ہے، درحقیقت وہ اپنا اکاؤنٹ ہیکر کی ڈیوائس سے منسلک کر دیتا ہے، جس کے بعد ہیکر اکاؤنٹ پر مکمل کنٹرول حاصل کر لیتا ہے۔

اکاؤنٹ ہیک ہونے کے بعد ممکنہ خطرات

  • نجی پیغامات تک غیر مجاز رسائی

  • تصاویر، ویڈیوز اور وائس نوٹس کی ڈاؤن لوڈنگ

  • صارف کی شناخت سے پیغامات ارسال کرنا

  • فراڈ اور اسکیمز کو صارف کے رابطوں تک پھیلانا

واٹس ایپ اکاؤنٹ کو محفوظ رکھنے کیلئے احتیاطی تدابیر
1۔ منسلک ڈیوائسز کی باقاعدہ جانچ: واٹس ایپ سیٹنگز میں جا کر Linked Devices چیک کریں اور کسی بھی مشکوک یا نامعلوم ڈیوائس کو فوراً لاگ آؤٹ کریں۔
2۔ دو مرحلوں کی تصدیق (Two-Step Verification) فعال کریں: چھ ہندسوں کا سیکیورٹی پن غیر مجاز رسائی کو مشکل بنا دیتا ہے۔
3۔ مشکوک لنکس سے گریز: کسی بھی نامعلوم یا غیر مصدقہ لنک پر اپنا موبائل نمبر، تصدیقی کوڈ یا کیو آر کوڈ ہرگز درج نہ کریں، خواہ پیغام کسی جاننے والے کے نام سے ہی کیوں نہ موصول ہوا ہو۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ صارفین کو ہر قسم کی تصدیقی کوڈ یا کیو آر اسکین کی درخواست پر غیر معمولی احتیاط برتنی چاہیے اور واٹس ایپ کی دستیاب حفاظتی خصوصیات کو فعال رکھنا چاہیے تاکہ اس نوعیت کے جدید سائبر فراڈ اور ہائی جیکنگ سے محفوظ رہا جا سکے