LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
ن لیگ نئے صوبوں پر جلد فیصلہ کر کے اپنا مؤقف سامنے لائے گی: رانا ثنا اللہ حکومت کا پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں مزید کمی کا اعلان اسحاق ڈار القدس سے متعلق وزارتی اجلاس میں شرکت کیلئے اردن روانہ آبنائے ہرمز معاہدے کی راہ ہموار، ایران کی عمان سے مثبت مذاکرات کی تصدیق وزیراعظم شہباز شریف 6 اور 7 اگست کو سعودی عرب کا دورہ کریں گے پی ٹی اے کا بڑا کریک ڈاؤن، 7 ماہ میں 18 لاکھ سے زائد سمز بلاک روس میں کرپٹو کرنسی کے لیے جامع قانون منظور، صدر پوتن نے دستخط کر دیے فیلڈ مارشل کا این ڈی ایم اے ہیڈکوارٹرز کا دورہ، مون سون آفات سے نمٹنے کی تیاریوں کا جائزہ نیب کی 2026 کی دوسری سہ ماہی میں 2.45 ٹریلین روپے ریکارڈ ریکوری آبنائے ہرمز پر مثبت پیش رفت، عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں نمایاں کمی ایران کو آخری موقع دے دیا، آبنائے ہرمز کل مکمل طور پر کھل جائے گی: ٹرمپ کا دعویٰ آبنائے ہرمز سے جہازوں کی آزادانہ آمدو رفت بحال، معاہدہ جلد طے پا جائے گا: اسکاٹ بیسنٹ کویت میں دھماکوں اور عمان کے قریب کارگو جہاز پر حملے کی اطلاعات روسی اور قطری وزرائے خارجہ کا رابطہ، مشرقِ وسطیٰ کی صورتحال پر تبادلہ خیال خیبرپختونخوا میں ڈیجیٹل تعلیمی انقلاب، 2 برس میں شرح خواندگی 35 فیصد بڑھانے کا ہدف

ایران کا روس سے جدید فضائی دفاعی نظام ’وربا‘ خریدنے کا خفیہ معاہدہ

Web Desk

22 February 2026

ایران اور روس کے درمیان جدید فضائی دفاعی نظام کی فراہمی کا اہم معاہدہ طے پا گیا ہے، جس کے تحت ایران کو ہزاروں جدید میزائل فراہم کیے جائیں گے۔

برطانوی اخبار فنانشل ٹائمز کی رپورٹ کے مطابق ایران نے اپنے فضائی دفاعی ڈھانچے کو مضبوط بنانے کے لیے روس کے ساتھ تقریباً 60 کروڑ ڈالر مالیت کے اسلحے کی خریداری کا خفیہ معاہدہ کیا۔

ذرائع کے مطابق یہ سمجھوتہ دسمبر میں ماسکو میں طے پایا، جس کے تحت روس آئندہ تین برسوں میں ایران کو 500 وربا لانچ یونٹس اور 2500 جدید میزائل فراہم کرے گا۔

وربا نظام روس کے جدید ترین پورٹیبل فضائی دفاعی نظاموں میں شامل ہے اور اسے کندھے پر رکھ کر فائر کیا جا سکتا ہے۔ یہ نظام کم بلندی پر پرواز کرنے والے طیاروں، کروز میزائلوں اور بغیر پائلٹ طیاروں کو نشانہ بنانے کی بھرپور صلاحیت رکھتا ہے۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ دفاعی نظام کی فراہمی تین مرحلوں میں 2027 سے 2029 کے دوران مکمل ہوگی، تاہم یہ بھی امکان ظاہر کیا گیا ہے کہ کچھ نظام پہلے ہی ایران کے حوالے کیے جا چکے ہوں۔