LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
سیکرٹری خارجہ آمنہ بلوچ سبکدوش، ترکیہ میں نئی سفارتی ذمہ داری سنبھالیں گی پٹرول کی قیمت میں معمولی کمی، ہائی سپیڈ ڈیزل مزید مہنگا وزیراعظم شہباز شریف کا ملک گیر سادگی و کفایت شعاری مہم کا اعلان حوثیوں کا سعودی عرب پر ڈرون حملہ، ایک شہری جاں بحق، پاکستانی سمیت 2 زخمی قیصر احمد شیخ کی نٹالی بیکر سے ملاقات، پاک امریکا اقتصادی و تجارتی تعاون بڑھانے پر زور امریکی ایوان نمائندگان نے ایران اور روس پر پابندیوں کا بل منظور کرلیا عراقچی کا ترک ہم منصب سے ٹیلی فونک رابطہ، علاقائی صورتحال پر تبادلہ خیال دفتر خارجہ میں دستاویزات کی تصدیق کی رپورٹ، ڈی جی آڈٹ عہدے سے ہٹا دیئے گئے ادویات کنٹینرز روکنے کی خبر پر محسن نقوی کا نوٹس، فوری ریلیز کا حکم چین کے ساتھ مذاکرات کامیاب، آج کے فیصلے خطے کے مستقبل کا تعین کرینگے: عراقچی نئی کفایت شعاری مہم، سرکاری فیول میں 50 فیصد کٹوتی، غیرملکی دوروں، خریداری پر پابندی پی ٹی آئی سیکرٹری جنرل سلمان اکرم راجہ کو حراست میں لے لیا گیا پنجاب نے کسی کا حق نہیں کھایا، اپنے حصے سے دوسروں کو دیا: وزیراعلیٰ مریم نواز تحریکِ تحفظِ آئینِ پاکستان کا سربراہی اجلاس کل اسلام آباد میں طلب، لانگ مارچ پر مشاورت ہو گی اقوام متحدہ کی تحقیقات، ایران میں امریکی حملوں پر جنگی جرائم کے شواہد کا دعویٰ کردیا

سائنس دانوں نے سگریٹ نوشی ترک کرنے کا مؤثر طریقہ ڈھونڈ نکالا!

Web Desk

3 April 2026

عالمی طبی جائزہ: حالیہ سائنسی جائزوں کے مطابق، جو افراد سگریٹ نوشی چھوڑنے کے لیے نکوٹین والے ویپس کا استعمال کرتے ہیں، ان میں کامیابی کی شرح نکوٹین پیچز، چیونگ گم اور لوزینجز استعمال کرنے والوں سے کہیں زیادہ ہے۔ رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ نکوٹین والے ای سگریٹس ناصرف روایتی متبادلات بلکہ نکوٹین سے پاک ویپس سے بھی زیادہ بہتر نتائج فراہم کر رہے ہیں۔

تاہم، امریکی ادارے سینٹر فار ڈیزیز کنٹرول اینڈ پریونشن (CDC) نے اس رجحان پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ ایک نکوٹین والی چیز چھوڑ کر دوسری نکوٹین والی چیز اپنانا صحت کے لیے “مکمل بہتری” قرار نہیں دیا جا سکتا۔ اگرچہ عام سگریٹ کے دھوئیں میں 7000 سے زائد مہلک کیمیکلز ہوتے ہیں اور ویپس میں ان کی تعداد نسبتاً کم ہے، لیکن ویپس میں موجود دیگر کیمیائی مادے پھیپھڑوں اور دل کے لیے اب بھی خطرہ بنے ہوئے ہیں۔