LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY: ▲ ▼
China: ▲ ▼
Pakistan: ▲ ▼
India: ▲ ▼
TV ONE Logo
اہم خبریں
صدر اور وزیراعظم کی ملاقات، ملکی سکیورٹی صورتحال، لانگ مارچ پر تبادلہ خیال روس یوکرین پر بڑے حملے کی تیاری کر رہا ہے، زیلنسکی کا دعویٰ لیتھوانیا میں جوہری ہتھیاروں کی ممکنہ تعیناتی پر روس جوابی اقدامات کرے گا، کریملن آبنائے ہرمز کا فیصلہ ٹرمپ کی کھوکھلی سوشل میڈیا پوسٹس نہیں کریں گی، ایرانی ڈپٹی سپیکر شامی صدر کی سعودی ولی عہد سے ملاقات، خطے کی تازہ صورتحال پر گفتگو امریکا اقتصادی جنگ کی طرح فوجی محاذ میں بھی ناکام ہوگا: محسن رضائی روس کیساتھ جنگ کی تیاری سے متعلق نیٹو کے بیانات پر نظر رکھے ہوئے ہیں، سرگئی لاوروف یوکرینی ڈرونز کا پرومائسک پر بڑا حملہ، 7 رہائشی عمارتوں اور سٹی آرکائیو متاثر بانی پی ٹی آئی اور بشریٰ بی بی کے طبی معائنوں کی تفصیلات سامنے آگئیں سرکاری حج سکیم دوسری قسط: 22 ہزار 172 عازمین نے ادائیگی مکمل کرلی جنگ ختم کرنے کیلئے تیار، ایران کو یورینیم افزدگی کم کرنا ہوگی: امریکا کا دوٹوک مؤقف اپوزیشن جماعتوں کا آل پارٹیز کانفرنس کے انعقاد کی تجویز پر مشاورت کا فیصلہ مذاکرات کی پیشکش موجود، پی ٹی آئی کو لانگ مارچ ختم کرنا ہو گا: رانا ثناء اللہ بحیرہ احمر میں امریکی ہیلی کاپٹر گرنے کی خبر بے بنیاد ہے: امریکی سینٹکام ابوظہبی میں اے آئی ایوری تھنگ گلوبل 2026، پاکستان پویلین کا افتتاح

ملٹری اے آئی کے استعمال میں انسانی فیصلہ سازی اور کنٹرول یقینی بنایا جائے: شرمیلا فاروقی

Web Desk

7 October 2026

پاکستان کی رکن قومی اسمبلی ڈاکٹر شرمیلا فاروقی نے تنزانیہ کے شہر اروشا میں منعقدہ انٹر پارلیمنٹری یونین (آئی پی یو) کی 153ویں اسمبلی کے اجلاس میں شرکت کرتے ہوئے بین الاقوامی امن و سلامتی سے متعلق قائمہ کمیٹی کے سامنے ملٹری آرٹیفیشل انٹیلی جنس (Military AI) کے ذمہ دارانہ استعمال اور بین الاقوامی ضابطہ کار سے متعلق پاکستان کے مؤقف کی ترجمانی کی ہے۔ ڈاکٹر شرمیلا فاروقی نے زور دیا کہ عسکری شعبے میں مصنوعی ذہانت کے استعمال میں ‘بامعنی انسانی کنٹرول’ اور فیصلہ سازی کو ہر صورت برقرار رکھا جانا چاہیے، کیونکہ جوابدہی کی ذمہ داری کسی کمپیوٹر الگورتھم کے سپرد نہیں کی جا سکتی۔

انہوں نے کہا کہ مکمل طور پر خودکار مہلک ہتھیاروں کے نظام (LAWS) پر قانونی طور پر پابند بین الاقوامی قواعد تشکیل دینے کی اشد ضرورت ہے تاکہ غیر ارادی عسکری کشیدگی کو روکا جا سکے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ بالخصوص جنوبی ایشیا جیسے حساس اور جوہری خطے میں اے آئی پر مبنی تیز رفتار فیصلوں سے غلط فہمیاں اور سنگین خطرات جنم لے سکتے ہیں۔ ڈاکٹر شرمیلا فاروقی کا کہنا تھا کہ ملٹری اے آئی سے متعلق عالمی پالیسی سازی کا عمل کثیرالجہتی اور اقوامِ متحدہ کی زیرِ نگرانی ہونا چاہیے جس میں ترقی پذیر ممالک کو مساوی نمائندگی ملے۔ انہوں نے متنبہ کیا کہ اے آئی جنگ کے عمل کو تیز کر سکتی ہے، مگر عالمی برادری کی ذمہ داری ہے کہ وہ اسے تنازعات میں اضافے کا ذریعہ نہ بننے دے۔