LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
برطانوی ادارے کا پاکستان کے ٹرانسمیشن سیکٹر میں سرمایہ کاری میں اظہار دلچسپی وزیراعظم سے گیٹس فاؤنڈیشن کے وفد کی ملاقات، پولیو کے خاتمے، ڈیجیٹل ادائیگیوں پر گفتگو وزیر خزانہ سے ایگزیکٹو ڈائریکٹر اے سی سی اے گلوبل کی ملاقات، معاشی اصلاحات پر گفتگو قطر سے 81 ہزار 936 میٹرک ٹن ایل این جی لے کر جہاز پورٹ قاسم پہنچ گیا الجزائر کا متحدہ عرب امارات سے سفارتی تعلقات منقطع کرنے کا فیصلہ مشرقی چین میں مال بردار جہاز میں خوفناک آتشزدگی، 20 افراد ہلاک آزاد کشمیر کی ترقیاتی ترجیحات کا جائزہ، اسحاق ڈار کی عملدرآمد تیز کرنے کی ہدایت ایران نے 27 ایئرلائنز پر امریکی پابندیوں کو معاشی دہشت گردی قرار دے دیا سہیل آفریدی، مینا خان سمیت 4 ملزموں کے ناقابل ضمانت وارنٹ جاری مشرق وسطیٰ میں بڑھتی کشیدگی، سٹاک مارکیٹ میں شدید مندی آنکھوں کے امراض کی بروقت تشخیص سے بینائی کے نقصان سے بچا جا سکتا ہے: گورنر سندھ لوڈشیڈنگ کیس: لاہور ہائیکورٹ نے 15 ستمبر کو جواب طلب کرلیا پی ٹی آئی کے 27 ستمبر احتجاج اور لانگ مارچ کے خلاف درخواست: اسلام آباد ہائیکورٹ کے لارجر بنچ میں اہم سماعت وزیراعظم کی زیرِ صدارت اجلاس میں نئی آٹو پالیسی اور الیکٹرک گاڑیوں کے لیے بڑی مراعات کی منظوری حماد اظہر کی گرفتاری کے بعد پی ٹی آئی رہنماؤں کے وارنٹس پر عملدرآمد تیز کرنے کا فیصلہ

امریکہ ایران مفاہمتی یادداشت پر نئے حملوں کے اثرات سے متعلق خدشات بڑھ گئے

Web Desk

28 June 2026

امریکہ اور ایران کے درمیان حال ہی میں طے پانے والی مفاہمتی یادداشت پر نئے امریکی حملوں کے بعد شدید خطرات کے بادل منڈلانے لگے ہیں، جس سے خطے میں تزویراتی استحکام اور سفارتی کوششوں کو شدید دھچکا پہنچنے کا خدشہ پیدا ہو گیا ہے۔

ذرائع اور عالمی میڈیا کی رپورٹس کے مطابق، امریکہ کی جانب سے ایران کے دو انتہائی اہم اور حساس علاقوں، سرک اور جزیرہ قشم کو نشانہ بنایا گیا ہے۔ تاحال سامنے آنے والی اطلاعات کے مطابق ان حملوں میں ایران کی متعدد فوجی تنصیبات، مواصلاتی ٹاورز اور نگرانی کے مراکز (Surveillance Centers) کو نشانہ بنایا گیا ہے، جو آبنائے ہرمز اور ملحقہ بحری گزرگاہوں کی نگرانی کے لیے کلیدی اہمیت رکھتے تھے۔ تشویشناک بات یہ ہے کہ اب تک ایران میں کسی بھی اعلیٰ سیاسی یا فوجی حکام کی جانب سے ان تازہ حملوں کے حوالے سے کوئی باضابطہ یا تند و تیز بیان جاری نہیں کیا گیا، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ تہران صورتحال کا باریک بینی سے جائزہ لے رہا ہے۔ تجزیہ کاروں کے مطابق، یہ صورتحال اب ایک نئے اور خطرناک رجحان (Trend) کی شکل اختیار کرتی دکھائی دے رہی ہے۔ امریکہ اور ایران کے درمیان سوئٹزرلینڈ اور عمان کے ذریعے طے پانے والی تاریخی مفاہمتی یادداشت پر دستخط کے بعد، دونوں ممالک کے درمیان یہ دوسرا براہ راست فوجی تصادم ہے۔

ان تازہ حملوں کے بعد عالمی سفارتی حلقوں میں یہ خدشات تیزی سے بڑھ گئے ہیں کہ آیا دونوں ممالک کے درمیان طے پانے والی یہ مفاہمتی یادداشت برقرار رہ سکے گی یا نہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ براہ راست فوجی کارروائیوں کے بعد اس نازک معاہدے پر عمل درآمد اور قیدیوں یا منجمد اثاثوں کی منتقلی جیسے اہم امور شدید متاثر ہو سکتے ہیں، جس سے خطہ ایک بار پھر وسیع تر تصادم کی طرف دھکیلا جا سکتا ہے۔