بہتر گورننس کیلئے ملک میں مزید انتظامی یونٹس بننے چاہئیں: ماہرین
Web Desk
17 August 2026
سسٹین ایبل ڈیولپمنٹ پالیسی انسٹی ٹیوٹ (ایس ڈی پی آئی) کے زیراہتمام ’’کیا ملک میں نئے انتظامی یونٹس قائم ہونے چاہئیں؟‘‘ کے عنوان سے ایک قومی مباحثے کا انعقاد کیا گیا، جس میں ممتاز ماہرین، معاشی دانوں، صحافیوں اور سیاسی شخصیات نے شرکت کی۔ مباحثے میں اس بات پر اتفاق کیا گیا کہ بہتر طرزِ حکمرانی، انتظامی کارکردگی اور عوامی مسائل کے ان کی دہلیز پر حل کے لیے مزید انتظامی یونٹس اور مضبوط بلدیاتی نظام کا قیام ضروری ہے۔
پنجاب گروپ کے چیئرمین میاں عامر محمود نے کہا کہ نئے انتظامی یونٹس بننے سے سب سے زیادہ فائدہ بلوچستان اور سندھ کو ہوگا اور اس کا مقصد کسی علاقے کو تقسیم کرنا نہیں بلکہ عوام کی فلاح و بہبود ہے۔ وفاقی پارلیمانی سیکرٹری دانیال چودھری نے بنیادی مسائل کے حل پر زور دیا جبکہ معاشی ماہرین خاقان نجیب اور فرخ سلیم نے کہا کہ پاکستان کا اصل مسئلہ اوپر کی سطح پر اصلاحات اور حکومتی اخراجات کا انداز ہے، اور چھوٹے انتظامی یونٹس سے عوامی شمولیت میں اضافہ ممکن ہے۔ صحافی محمد مالک نے موجودہ انتظامی ڈھانچے کو موثر بنانے کی بات کی، جبکہ وزیراعظم کے معاون خصوصی رانا احسان افضل نے درست ڈیٹا کی دستیابی اور سرمایہ کاری کے لیے سازگار ماحول کی ضرورت پر روشنی ڈالی۔
متعلقہ عنوانات
ٹرمپ انتظامیہ کے ایران سے خفیہ رابطوں کا انکشاف
17 August 2026
افغانستان کا کابل میں امریکی سفارتخانہ کھولنے کا مطالبہ، واشنگٹن کا صاف انکار
17 August 2026
سرسبز پہاڑ اور شفاف پانی ہی سب سے مستحکم سرمایہ کاری ہے: یاسمین فواد
17 August 2026
مودی سرکار کی پالیسیوں سے تنگ کاکروچ جنتا پارٹی کا ’’سکول ٹھیک کرو‘‘ مہم کا آغاز
17 August 2026
ٹرمپ کا سعودی عرب، ترکیہ اور پاکستان کے مکہ دفاعی معاہدے کا خیر مقدم
17 August 2026
ایران پالیسی پر سوالات، اتحادی امریکی صدر کی سفارتی حکمت عملی سے ناخوش
17 August 2026
گوگل کا نیا فیچر، نینو بنانا کی تصاویر اور ویڈیوز سے واٹر مارک ہٹانا ممکن
17 August 2026
آزاد کشمیر میں مخصوص نشستوں کی پولنگ کب ہوگئی، شیڈول کا اعلان کردیا گیا
17 August 2026