LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY: ▲ ▼
China: ▲ ▼
Pakistan: ▲ ▼
India: ▲ ▼
TV ONE Logo
اہم خبریں
گنجائش ختم! خیبرپختونخوا میں ایمرجنسی کا معاملہ فیصلہ کن مرحلے میں ہے: محسن نقوی بیرسٹر گوہر کی مولانا فضل الرحمان سے ملاقات؛ وزیراعظم سے گفتگو اور خیبر پختونخوا صورتحال پر تبادلہ خیال وزیراعظم اور مولانا ملاقات، خیبرپختونخوا کی صورتحال پر اختلافات سامنے آگئے حکومت اور اپوزیشن مذاکرات کی بحالی کے لئے اہم پیش رفت اسحاق ڈار کا وزیر خارجہ مالدیپ سے، صدر کے دورہ پاکستان کی تیاریوں پر تبادلہ خیال ایکنک کا ملک بھر میں 11 ترقیاتی منصوبوں کی منظوری دینے کا فیصلہ خیبرپختونخوا میں گورنر راج یا ایمرجنسی کے نفاذ پر اتفاق، وفاقی کابینہ کا اجلاس کل طلب خیبرپختونخوا بارے ایوان صدر میں ہونیوالے اجلاس کی اندرونی کہانی سامنے آگئی شارجہ میں خوشبوؤں کی بڑی ایکسپو سج گئی،200 کمپنیوں کی شرکت زیلنسکی کا یوکرین کے توانائی نظام کو بڑے پیمانے پر نقصان پہنچنے کا اعتراف سیاسی رابطوں میں تیزی، شہباز شریف کی مولانا فضل الرحمان سے اہم ملاقات جاری فلسطین میں صدارتی اور پارلیمانی انتخابات ملتوی، نئی تاریخ کا اعلان وزیراعظم کا طالبہ کی خودکشی کے واقعے کا نوٹس، ملزم فوری گرفتار کرنے کا حکم سعودیہ اور خلیجی ممالک میں کشیدگی، ملک بھر کے ایئرپورٹس پر فلائٹ آپریشن متاثر وزیراعظم کی ایئرپورٹس پر سمارٹ سکینرز نصب کرنے کی منظوری

بہتر گورننس کیلئے ملک میں مزید انتظامی یونٹس بننے چاہئیں: ماہرین

Web Desk

17 August 2026

سسٹین ایبل ڈیولپمنٹ پالیسی انسٹی ٹیوٹ (ایس ڈی پی آئی) کے زیراہتمام ’’کیا ملک میں نئے انتظامی یونٹس قائم ہونے چاہئیں؟‘‘ کے عنوان سے ایک قومی مباحثے کا انعقاد کیا گیا، جس میں ممتاز ماہرین، معاشی دانوں، صحافیوں اور سیاسی شخصیات نے شرکت کی۔ مباحثے میں اس بات پر اتفاق کیا گیا کہ بہتر طرزِ حکمرانی، انتظامی کارکردگی اور عوامی مسائل کے ان کی دہلیز پر حل کے لیے مزید انتظامی یونٹس اور مضبوط بلدیاتی نظام کا قیام ضروری ہے۔

پنجاب گروپ کے چیئرمین میاں عامر محمود نے کہا کہ نئے انتظامی یونٹس بننے سے سب سے زیادہ فائدہ بلوچستان اور سندھ کو ہوگا اور اس کا مقصد کسی علاقے کو تقسیم کرنا نہیں بلکہ عوام کی فلاح و بہبود ہے۔ وفاقی پارلیمانی سیکرٹری دانیال چودھری نے بنیادی مسائل کے حل پر زور دیا جبکہ معاشی ماہرین خاقان نجیب اور فرخ سلیم نے کہا کہ پاکستان کا اصل مسئلہ اوپر کی سطح پر اصلاحات اور حکومتی اخراجات کا انداز ہے، اور چھوٹے انتظامی یونٹس سے عوامی شمولیت میں اضافہ ممکن ہے۔ صحافی محمد مالک نے موجودہ انتظامی ڈھانچے کو موثر بنانے کی بات کی، جبکہ وزیراعظم کے معاون خصوصی رانا احسان افضل نے درست ڈیٹا کی دستیابی اور سرمایہ کاری کے لیے سازگار ماحول کی ضرورت پر روشنی ڈالی۔