LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
ٹرمپ انتظامیہ کے ایران سے خفیہ رابطوں کا انکشاف افغانستان کا کابل میں امریکی سفارتخانہ کھولنے کا مطالبہ، واشنگٹن کا صاف انکار سرسبز پہاڑ اور شفاف پانی ہی سب سے مستحکم سرمایہ کاری ہے: یاسمین فواد مودی سرکار کی پالیسیوں سے تنگ کاکروچ جنتا پارٹی کا ’’سکول ٹھیک کرو‘‘ مہم کا آغاز ٹرمپ کا سعودی عرب، ترکیہ اور پاکستان کے مکہ دفاعی معاہدے کا خیر مقدم ایران پالیسی پر سوالات، اتحادی امریکی صدر کی سفارتی حکمت عملی سے ناخوش گوگل کا نیا فیچر، نینو بنانا کی تصاویر اور ویڈیوز سے واٹر مارک ہٹانا ممکن آزاد کشمیر میں مخصوص نشستوں کی پولنگ کب ہوگئی، شیڈول کا اعلان کردیا گیا غزہ کی صورتحال پر پاکستان سمیت 8 اسلامی ممالک نے مشترکہ مذمتی بیان جاری کردیا آبنائے ہرمز امریکی علاقہ بنانے کی بات پر مذاق بھی بڑی غلطی ہے، ایرانی آرمی چیف آزاد کشمیر کی مخصوص نشستیں، نواز شریف نے خواتین امیدواروں کے انٹرویوز مکمل کرلئے نئے انتظامی یونٹس سے صرف کراچی نہیں، پورے پاکستان کے مسائل حل ہوں گے: مصطفیٰ کمال پٹرولیم لیوی واپس لینے تک حکومت کے خلاف دھرنا جاری رہے گا، حافظ نعیم حکومتی یقین دہانی پر گڈز ٹرانسپورٹرز نے ہڑتال 40 دن کیلئے مؤخر کردی شیخ حسینہ کی حوالگی تک وزیراعظم بھارت کا دورہ نہیں کریں گے: بنگلادیش

بہتر گورننس کیلئے ملک میں مزید انتظامی یونٹس بننے چاہئیں: ماہرین

Web Desk

17 August 2026

سسٹین ایبل ڈیولپمنٹ پالیسی انسٹی ٹیوٹ (ایس ڈی پی آئی) کے زیراہتمام ’’کیا ملک میں نئے انتظامی یونٹس قائم ہونے چاہئیں؟‘‘ کے عنوان سے ایک قومی مباحثے کا انعقاد کیا گیا، جس میں ممتاز ماہرین، معاشی دانوں، صحافیوں اور سیاسی شخصیات نے شرکت کی۔ مباحثے میں اس بات پر اتفاق کیا گیا کہ بہتر طرزِ حکمرانی، انتظامی کارکردگی اور عوامی مسائل کے ان کی دہلیز پر حل کے لیے مزید انتظامی یونٹس اور مضبوط بلدیاتی نظام کا قیام ضروری ہے۔

پنجاب گروپ کے چیئرمین میاں عامر محمود نے کہا کہ نئے انتظامی یونٹس بننے سے سب سے زیادہ فائدہ بلوچستان اور سندھ کو ہوگا اور اس کا مقصد کسی علاقے کو تقسیم کرنا نہیں بلکہ عوام کی فلاح و بہبود ہے۔ وفاقی پارلیمانی سیکرٹری دانیال چودھری نے بنیادی مسائل کے حل پر زور دیا جبکہ معاشی ماہرین خاقان نجیب اور فرخ سلیم نے کہا کہ پاکستان کا اصل مسئلہ اوپر کی سطح پر اصلاحات اور حکومتی اخراجات کا انداز ہے، اور چھوٹے انتظامی یونٹس سے عوامی شمولیت میں اضافہ ممکن ہے۔ صحافی محمد مالک نے موجودہ انتظامی ڈھانچے کو موثر بنانے کی بات کی، جبکہ وزیراعظم کے معاون خصوصی رانا احسان افضل نے درست ڈیٹا کی دستیابی اور سرمایہ کاری کے لیے سازگار ماحول کی ضرورت پر روشنی ڈالی۔