LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY: ▲ ▼
China: ▲ ▼
Pakistan: ▲ ▼
India: ▲ ▼
TV ONE Logo
اہم خبریں
پی ٹی آئی نے خیبرپختونخوا دہشت گردوں کے حوالے کر دیا:عطا اللہ تارڑ نیشنل ٹیکنالوجی پارک پاکستان میں آئی ٹی کے فروغ کا سنگِ میل ثابت ہوگا: وزیراعظم پاکستان پولٹری پیداوار میں 11ویں نمبر پر، برآمدات بڑھانے کی ضرورت ہے: وزیر خزانہ خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی یا گورنر راج لگانے کیلئے تمام تیاریاں مکمل وزیراعظم کی ذیابیطس کی روک تھام کے لیے جامع حکمتِ عملی مرتب کرنے کی ہدایت لاہور ہائیکورٹ نے آئل مل ڈی سیل کرنے کا مجسٹریٹ کا حکم کالعدم قرار دے دیا محسن نقوی کا ترقیاتی منصوبوں کا دورہ، 31 دسمبر تک مکمل کرنے کی ہدایت آٹے کی قیمتوں میں اضافے پر مریم نواز برہم، 10 ارب روپے کی سبسڈی منظور نواب شاہ میں مال بردار ٹرین کی بوگی پٹری سے اتر گئی مقبوضہ جموں و کشمیر سمیت تمام تصفیہ طلب مسائل پر مذاکرات ہونے چاہئیں: طاہر اندرابی دہلی میں کاکروچ پارٹی کا احتجاج، 250 ٹرینیں منسوخ، 57 میٹرو سٹیشنز بند بجلی اور گیس کے موجودہ سلیب اور کراس سبسڈی نظام ختم کرنے کی تیاری پی ٹی آئی کا لانگ مارچ سہیل آفریدی کی قیادت میں چارسدہ پہنچ گیا حرمین شریفین کی حرمت سرخ لکیر، عبور نہیں کیا جا سکتا: امام حرم شیخ السدیس گورنر راج یا ایمرجنسی؟ وزیراعظم نے خیبرپختونخوا کے متعلق اہم اجلاس طلب کرلیا

غزہ کی صورتحال پر پاکستان سمیت 8 اسلامی ممالک نے مشترکہ مذمتی بیان جاری کردیا

Web Desk

17 August 2026

پاکستان سمیت 8 اسلامی ممالک کے وزرائے خارجہ نے غزہ کی بگڑتی ہوئی صورتحال اور امریکی امن منصوبے کو اسرائیل کی جانب سے مسترد کیے جانے کے خلاف ایک مشترکہ مذمتی بیان جاری کیا ہے۔ ترجمان دفتر خارجہ کے مطابق مشترکہ بیان میں اسرائیلی موقف کی شدید مذمت کرتے ہوئے غزہ سے متعلق امریکی امن منصوبے پر فوری اور بلا تاخیر عملدرآمد کا مطالبہ کیا گیا ہے۔ اسلامی ممالک کا کہنا ہے کہ اسرائیل غزہ میں امن کی راہ میں مسلسل رکاوٹیں کھڑی کر رہا ہے اور منصفانہ و دیرپا امن کے لیے کی جانے والی تمام مشترکہ کوششوں کو سبوتاژ کر رہا ہے۔

مشترکہ بیان میں خبردار کیا گیا کہ امن منصوبے میں تاخیر سے علاقے کی صورتحال مزید سنگین اور خوفناک ہو سکتی ہے، جبکہ اس روڈ میپ کو فلسطینیوں نے بھی قبول کیا تھا۔ ترجمان دفتر خارجہ نے مزید بتایا کہ یہ امن روڈ میپ مصر، قطر، ترکیہ، امریکہ، غزہ کے نمائندوں اور پيس بورڈ کی مشترکہ کاوشوں کا نتیجہ ہے۔ 8 اسلامی ممالک نے اس بات پر زور دیا کہ خطے میں پائیدار اور پائیدار امن کے قیام کے لیے اس منصوبے پر فوری عملدرآمد ناگزیر ہے۔