سوشل میڈیا کمپنیوں کے خلاف تاریخی مقدمہ، آپریٹنگ طریقہ کار بدلنے کا امکان
Web Desk
11 February 2026
امریکا میں سوشل میڈیا کمپنیوں کے خلاف ایک اہم اور تاریخی مقدمہ لاس اینجلس کی اعلیٰ عدالت میں زیرِ سماعت ہے، جس میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ پلیٹ فارمز جان بوجھ کر صارفین کو نشہ آور بنانے میں ملوث ہیں، بالکل ویسے ہی جیسے 1980 کی دہائی میں تمباکو صنعت نے لوگوں کو عادی بنایا تھا۔
مقدمے میں مجموعی طور پر 22 بیل ویدر کیسز شامل ہیں، اور پہلے مقدمے میں مارک زکربرگ سمیت دیگر بڑی ٹیک کمپنیوں کے سربراہان کے بیانات متوقع ہیں۔
سوشل میڈیا کمپنیوں کا دفاع امریکا کے مواصلاتی ایکٹ کے سیکشن 230 پر مبنی ہے، جو آن لائن پلیٹ فارمز کو صارفین کے تیار کردہ مواد کی قانونی ذمہ داری سے مستثنیٰ قرار دیتا ہے۔ موجودہ مقدمہ اس قانونی تحفظ کو ایک نئے زاویے سے چیلنج کر رہا ہے۔
گذشتہ برسوں میں نوجوانوں کی ذہنی صحت پر منفی اثرات کے الزامات کے تحت متعدد افراد اور اداروں نے انسٹاگرام، فیس بک، یوٹیوب، ٹک ٹاک اور سنیپ چیٹ کے خلاف قانونی کارروائی کی کوشش کی تھی، مگر اب تک وہ کامیاب نہیں ہو سکے۔
متعلقہ عنوانات
سپارکو نے پاکستان سپیس بیسڈ آگمینٹیشن سسٹم متعارف کرا دیا
8 November 2026
میٹا نے متنازع تبدیلی کے حوالے سے فیصلہ واپس لے لیا
8 November 2026
پاکستان میں سیٹلائٹ انٹرنیٹ سروسز فراہم کرنے کے لیے 6 کمپنیاں رجسٹرڈ
7 November 2026
میٹا نے پی ٹی اے کی درخواست پر ایک لاکھ 76 ہزار اکاؤنٹس بند کردیے
6 November 2026
خوش مزاج بچی کو خودکشی کے دہانے پہنچا دیا: والدین کا گوگل پر مقدمہ
6 November 2026
پاکستان اور روس کا آئی ٹی، مصنوعی ذہانت اور جدید کمپیوٹنگ میں تعاون بڑھانے پر اتفاق
6 November 2026
امریکی کمپنی کا رات کو سورج کی روشنی بیچنے کا منصوبہ
6 November 2026
خلائی دوربین کا 22 سالہ مشن اختتام پذیر، ملبہ زمین پر گرنے کا خدشہ
6 November 2026