LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY: ▲ ▼
China: ▲ ▼
Pakistan: ▲ ▼
India: ▲ ▼
TV ONE Logo
اہم خبریں
ڈیڈ لاک برقرار، حکومت اور اپوزیشن میں جاری مذاکرات بغیر کسی نتیجے کے ختم وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کا آج سے لانگ مارچ شروع کرنے کا اعلان حکومت اپوزیشن مذاکرات کا نتیجہ جلد سامنے آئے گا: شوکت یوسف زئی وائٹ سی ایگل راستہ بھٹک کر سندھ آپہنچا، نایاب پرندے کی آنکھیں سی کر پر کاٹ دیے گئے حکومت اور پاکستان تحریکِ انصاف کے درمیان مذاکرات ناکام، پی ٹی آئی کا لانگ مارچ جاری رکھنے کا اعلان مذاکرات شروع ہونا بڑی کامیابی، سلسلہ ٹوٹنا نہیں چاہیے: فواد چودھری ٹرمپ ایران کے ساتھ جنگ سے سبق سیکھ کر شرائط قبول کریں: ایرانی پاسداران انقلاب اسلام آباد ایئرپورٹ پر ایک ہفتے میں دو بڑی کارروائیاں، 47 کلوگرام مشتبہ منشیات برآمد اسلام آباد میں رینجرز کی تعیناتی میں 15 اکتوبر تک توسیع گورنر راج یا ایمرجنسی سے پہلے سیاسی جماعتوں کو راستہ تلاش کرنا چاہیے: بلاول بھٹو کراچی کے لیے اضافی پانی کی فراہمی جلد شروع ہوجائے گی، مراد علی شاہ حکومتی وفد نے پی ٹی آئی پر دہشتگردی کے معاملے پر عدم تعاون کا الزام عائد کردیا ایک صوبے کو دہشت گردی سے جوڑنا ناعاقبت اندیشی ہے: علامہ ناصر عباس راجہ وزیراعظم شہباز شریف سے محسن نقوی کی ملاقات، سکیورٹی صورِتحال پر بات چیت حکومت اور اپوزیشن کے مذاکرات بے نتیجہ ختم، ڈیڈ لاک برقرار

سوشل میڈیا کمپنیوں کے خلاف تاریخی مقدمہ، آپریٹنگ طریقہ کار بدلنے کا امکان

Web Desk

11 February 2026

امریکا میں سوشل میڈیا کمپنیوں کے خلاف ایک اہم اور تاریخی مقدمہ لاس اینجلس کی اعلیٰ عدالت میں زیرِ سماعت ہے، جس میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ پلیٹ فارمز جان بوجھ کر صارفین کو نشہ آور بنانے میں ملوث ہیں، بالکل ویسے ہی جیسے 1980 کی دہائی میں تمباکو صنعت نے لوگوں کو عادی بنایا تھا۔

مقدمے میں مجموعی طور پر 22 بیل ویدر کیسز شامل ہیں، اور پہلے مقدمے میں مارک زکربرگ سمیت دیگر بڑی ٹیک کمپنیوں کے سربراہان کے بیانات متوقع ہیں۔

سوشل میڈیا کمپنیوں کا دفاع امریکا کے مواصلاتی ایکٹ کے سیکشن 230 پر مبنی ہے، جو آن لائن پلیٹ فارمز کو صارفین کے تیار کردہ مواد کی قانونی ذمہ داری سے مستثنیٰ قرار دیتا ہے۔ موجودہ مقدمہ اس قانونی تحفظ کو ایک نئے زاویے سے چیلنج کر رہا ہے۔

گذشتہ برسوں میں نوجوانوں کی ذہنی صحت پر منفی اثرات کے الزامات کے تحت متعدد افراد اور اداروں نے انسٹاگرام، فیس بک، یوٹیوب، ٹک ٹاک اور سنیپ چیٹ کے خلاف قانونی کارروائی کی کوشش کی تھی، مگر اب تک وہ کامیاب نہیں ہو سکے۔