پلاسٹک کے کچرے سے بسکٹ بنانے کا تجربہ، سائنسدانوں کی نئی پیش رفت
Web Desk
6 October 2026
امریکی ریاست الینوائے کی سدرن الینوائے یونیورسٹی کے سائنسدانوں نے پلاسٹک کے کچرے کو دوبارہ قابلِ استعمال بنانے کے لیے ایک منفرد تجربہ کرتے ہوئے پلاسٹک سے حاصل ہونے والے اجزا سے بسکٹ تیار کر لیے ہیں۔ “یو بائٹس” نامی اس منصوبے کے تحت محققین نے بیکر کے خمیر کی ایک تبدیل شدہ شکل تیار کی ہے جو پلاسٹک کے ٹکڑوں کو توڑ کر ایسے مادوں میں تبدیل کرتی ہے جو خوراک کی تیاری میں کام آ سکیں۔ سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ یہ ٹیکنالوجی بالخصوص خلا میں طویل سفر کرنے والے انسانوں کے لیے خوراک کے حصول میں مددگار ثابت ہو سکتی ہے۔ تاہم، پراجیکٹ کے رہنما پروفیسر لہِرو جیاکوڈی کے مطابق اس ٹیکنالوجی کی کامیابی کے بعد سب سے بڑا چیلنج عوام کو اس خوراک کے استعمال پر آمادہ کرنا اور صارفین کا اعتماد حاصل کرنا ہے، جبکہ مارکیٹ میں لانے سے قبل اس کی حفاظت اور غذائی معیار سے متعلق مزید سائنسی مراحل بھی طے کیے جائیں گے۔
متعلقہ عنوانات
سپارکو نے پاکستان سپیس بیسڈ آگمینٹیشن سسٹم متعارف کرا دیا
8 November 2026
میٹا نے متنازع تبدیلی کے حوالے سے فیصلہ واپس لے لیا
8 November 2026
پاکستان میں سیٹلائٹ انٹرنیٹ سروسز فراہم کرنے کے لیے 6 کمپنیاں رجسٹرڈ
7 November 2026
میٹا نے پی ٹی اے کی درخواست پر ایک لاکھ 76 ہزار اکاؤنٹس بند کردیے
6 November 2026
خوش مزاج بچی کو خودکشی کے دہانے پہنچا دیا: والدین کا گوگل پر مقدمہ
6 November 2026
پاکستان اور روس کا آئی ٹی، مصنوعی ذہانت اور جدید کمپیوٹنگ میں تعاون بڑھانے پر اتفاق
6 November 2026
امریکی کمپنی کا رات کو سورج کی روشنی بیچنے کا منصوبہ
6 November 2026
خلائی دوربین کا 22 سالہ مشن اختتام پذیر، ملبہ زمین پر گرنے کا خدشہ
6 November 2026