LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
آزاد کشمیر انتخابات کا دوسرا مرحلہ: 21 نشستوں پر پولنگ کل، 12 لاکھ سے زائد ووٹرز شامل پیٹرول پر لیوی بھتہ ٹیکس، فارم 45 کی بنیاد پر جوڈیشل کمیشن بنایا جائے,حافظ نعیم الرحمٰن امریکا اسرائیل کے ساتھ حالیہ جنگ میں ایران کامیاب رہا: باقر قالیباف وزیراعلیٰ پنجاب کی امریکی اعلیٰ سطحی کاروباری وفد کو سرمایہ کاری کی دعوت کشمیر کی حکومت و مستقبل کے فیصلے کشمیری عوام خود کریں: بلاول بھٹو زرداری سورینج کان حادثہ: 45 گھنٹے بعد ریسکیو آپریشن مکمل، 34 لاشیں نکال لی گئیں ایف بی آر نے جولائی میں ہدف سے 40 ارب روپے زائد ٹیکس وصول کر لیا بھارت نے مسلسل گیارہویں مرتبہ سلال ڈیم سے پانی چھوڑ دیا، فلڈ الرٹ جاری عمانی ساحل کے قریب ایک آئل ٹینکر پر نامعلوم سمت سے حملہ گرمیوں کی تعطیلات ختم، کراچی سمیت سندھ بھر میں سکول اور کالج کھل گئے سانحہ پٹن کو 35 سال مکمل، یکم اگست 1990 کشمیری تاریخ کا سیاہ باب قرار ایران جنگ میں امریکی میزائل ذخائر میں نمایاں کمی ہوئی ہے: امریکی میڈیا عراقچی کا برطانیہ کو انتباہ، ایران پر حملے میں تعاون ناقابلِ قبول قرار ایران کا امریکی اسرائیلی حملے کی صورت میں بھرپور جواب دینے کا اعلان پینٹا گون کا ایران کی توانائی تنصیبات پر ممکنہ حملے کی رپورٹ پر تبصرہ کرنے سے انکار

امریکا کی جانب سے ایٹمی تنصیبات پرگرائے گئے کئی بم نہ پھٹ سکے، اب بھی خطرہ ہیں، ایران

Web Desk

10 February 2026

ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کہا ہے کہ جون 2025 میں ایرانی تنصیبات پر امریکی حملوں میں استعمال ہونے والے  کچھ بم پھٹ نہیں سکے۔وہ بم اب بھی ان ایٹمی تنصیبات میں موجود ہیں  جو معائنہ کاروں کے لیے سنگین حفاظتی خطرہ بنے ہوئے ہیں۔

ایران نے واضح کیا ہے کہ جب تک حفاظتی، سکیورٹی اور رسائی کے پروٹوکول پر اتفاق نہیں ہو جاتا، ان تنصیبات کا معائنہ ممکن نہیں۔امریکا نے گزشتہ برس ایران کی تین اہم جوہری تنصیبات پر حملے کیے تھے جن میں فردو، نطنز اور اصفہان میں قائم ایٹمی تنصیبات شامل ہیں۔ یہ تنصیبات ایران کی یورینیم افزودگی اور جوہری ٹیکنالوجی کے پروگرام کا مرکز سمجھی جاتی ہیں۔

ان حملوں میں امریکی فضائیہ کے بی-2 اسٹریٹجک بمبار طیاروں کے ذریعے میسیو آرڈیننس پینیٹریٹر بم گرائے گئے، جن کا وزن تقریباً 13 ہزار 600 کلوگرام ہے اور انہیں چٹانوں اور مضبوط کنکریٹ کی تہوں کو پار کرکےدھماکا کرنے کے لیے تیار کیا گیا ہے۔ ان بموں کے علاوہ ایرانی جوہری انفراسٹرکچر سے منسلک اہداف پر ٹوماہاک کروز میزائل بھی داغے گئے۔