LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
پیٹرول پر لیوی بھتہ ٹیکس، فارم 45 کی بنیاد پر جوڈیشل کمیشن بنایا جائے,حافظ نعیم الرحمٰن امریکا اسرائیل کے ساتھ حالیہ جنگ میں ایران کامیاب رہا: باقر قالیباف وزیراعلیٰ پنجاب کی امریکی اعلیٰ سطحی کاروباری وفد کو سرمایہ کاری کی دعوت کشمیر کی حکومت و مستقبل کے فیصلے کشمیری عوام خود کریں: بلاول بھٹو زرداری سورینج کان حادثہ: 45 گھنٹے بعد ریسکیو آپریشن مکمل، 34 لاشیں نکال لی گئیں ایف بی آر نے جولائی میں ہدف سے 40 ارب روپے زائد ٹیکس وصول کر لیا بھارت نے مسلسل گیارہویں مرتبہ سلال ڈیم سے پانی چھوڑ دیا، فلڈ الرٹ جاری عمانی ساحل کے قریب ایک آئل ٹینکر پر نامعلوم سمت سے حملہ گرمیوں کی تعطیلات ختم، کراچی سمیت سندھ بھر میں سکول اور کالج کھل گئے سانحہ پٹن کو 35 سال مکمل، یکم اگست 1990 کشمیری تاریخ کا سیاہ باب قرار ایران جنگ میں امریکی میزائل ذخائر میں نمایاں کمی ہوئی ہے: امریکی میڈیا عراقچی کا برطانیہ کو انتباہ، ایران پر حملے میں تعاون ناقابلِ قبول قرار ایران کا امریکی اسرائیلی حملے کی صورت میں بھرپور جواب دینے کا اعلان پینٹا گون کا ایران کی توانائی تنصیبات پر ممکنہ حملے کی رپورٹ پر تبصرہ کرنے سے انکار امریکا ایران جنگ سے عالمی عدم استحکام میں اضافہ ہو رہا: اقوام متحدہ

ایران جنگ میں امریکی میزائل ذخائر میں نمایاں کمی ہوئی ہے: امریکی میڈیا

Web Desk

1 August 2026

امریکی نشریاتی ادارے فاکس نیوز نے دعویٰ کیا ہے کہ ایران کے ساتھ جاری جنگی تنازع کے دوران امریکی فضائی و میزائل دفاعی نظام کے ذخائر میں نمایاں کمی واقع ہوئی ہے۔ رپورٹ کے مطابق امریکی دفاعی حکام اور عسکری ماہرین نے دفاعی صلاحتوں اور انٹرسیپٹرز کے ذخائر میں مسلسل کمی پر شدید تشویش کا اظہار کیا ہے۔

ارقام و شمار کے مطابق جنگ کا آغاز ہونے سے قبل امریکا کے پاس موجود ‘پیٹریاٹ’ میزائل انٹرسیپٹرز کی تعداد تقریباً 2 ہزار 300 تھی، جو حالیہ شدید استعمال کے بعد گھٹ کر صرف 827 رہ گئی ہے۔ اسی طرح ‘تھاڈ’ (THAAD) دفاعی نظام کے انٹرسیپٹرز کی تعداد بھی 452 سے کم ہو کر محض 278 تک آ پہنچی ہے، جس سے امریکی ایئر ڈیفنس پر دباؤ کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔

امریکی میڈیا کا بتانا ہے کہ پینٹاگون نے ان موثر دفاعی و ہجومی ہتھیاروں کے ذخائر کو ہنگامی بنیادوں پر دوبارہ مکمل کرنے کے لیے امریکی حکومت سے اربوں ڈالر کے اضافی اور ایمرجنسی فنڈز کی درخواست کی ہے۔ اس نئی فنڈنگ کا بنیادی مقصد پیٹریاٹ میزائل، تھاڈ انٹرسیپٹرز اور ٹوماہاک کروز میزائل کی ہنگامی خریداری اور پیداوار کو تیز بنانا ہے۔