LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
آبنائے ہرمز سے متعلق ایران، عمان فریم ورک پر متفق، حتمی منظوری باقی ہے: حسن قشقاوی صدر مملکت نے مکہ مشترکہ دفاعی معاہدہ عالمی امن کیلئے اہم پیش رفت قرار دیدیا ایران اور عمان آبنائے ہرمز پر معاہدہ کرنے کے قریب پہنچ گئے: ایگزیوس روسی تیل کی فروخت روکنے کیلئے امریکی سینیٹ میں بل کثرت رائے سے منظور حکومت کا عوام کو ریلیف: پٹرول 2 روپے 2 پیسے فی لٹر سستا مکہ مکرمہ میں مشترکہ دفاعی معاہدے پر دستخط میرے لیے اعزاز ہے: وزیراعظم امریکی ہتھیاروں کے ذخائر سے متعلق معلومات افشا ہونے پر ٹرمپ کا تحقیقات کا حکم بلوچستان بلدیاتی انتخابات: 9 اگست کو مختلف وارڈز میں ہونے والی پولنگ ملتوی صدر آصف علی زرداری دو روزہ دورے پر لاہور پہنچ گئے مکہ دفاعی معاہدہ خطے میں مشترکہ سلامتی کے نئے باب کا آغاز ہے: سرفراز بگٹی احتجاجی تحریک تیز، ضرورت پڑی تو دھرنا طویل کریں گے: حافظ نعیم الرحمان مکہ مشترکہ دفاعی معاہدہ: خصوصی نغمہ جاری کر دیا گیا مکہ مشترکہ دفاعی معاہدہ خطے میں امن کیلئے سنگ میل ہے: احسن اقبال دفاعی معاہدہ کسی ملک کے خلاف نہیں، خطے میں امن کی جانب اہم پیش رفت ہے : ترک صدر مکہ دفاعی معاہدہ امن، سلامتی، خوشحالی کی جانب اہم سنگِ میل ہے:سعودی وزیرِ خارجہ

دنیا کی ایک تہائی آبادی صحت بخش غذا خریدنے سے محروم ہے: اقوام متحدہ کا انتباہ

Web Desk

17 July 2026

اقوامِ متحدہ نے ایک ہنگامی انتباہ جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ گزشتہ 5 سال کے دوران عالمی سطح پر صحت بخش غذا کی لاگت میں 25 فیصد اضافہ ہوا ہے، جس کے باعث دنیا کی تقریباً ایک تہائی آبادی کے لیے متوازن اور صحت بخش خوراک خریدنا اب ناممکن ہو چکا ہے۔ نیویارک میں اقوامِ متحدہ کے ہیڈکوارٹرز میں منعقدہ پریس کانفرنس کے دوران فوڈ اینڈ ایگریکلچر آرگنائزیشن (FAO) کے چیف اکانامسٹ میکسیمو ٹوریرو نے “اسٹیٹ آف فوڈ سکیورٹی اینڈ نیوٹریشن ان دا ورلڈ” رپورٹ کے باضابطہ اجرا سے قبل ان ہولناک حقائق سے پردہ اٹھایا۔

رپورٹ کے مطابق، گزشتہ پانچ برسوں میں صحت بخش غذا کی عالمی لاگت بڑھ کر اب فی شخص یومیہ 4.28 امریکی ڈالر (خریداری قوتِ مساوات – PPP) تک پہنچ چکی ہے۔ اس ہوش ربا اضافے کے نتیجے میں دنیا بھر کے 2.69 ارب افراد (یعنی دنیا کا ہر تیسرا شخص) صحت بخش اور غذائیت سے بھرپور خوراک خریدنے کی مالی استطاعت کھو چکا ہے۔ رپورٹ میں صحت بخش غذا کے مختلف گروپوں کی لاگت کا موازنہ کرتے ہوئے بتایا گیا کہ بنیادی غذائیں اناج، غلے اور پھلیاں  مجموعی لاگت کا محض 13 فیصد بنتی ہیں۔ پھل اور سبزیاں  مجموعی خوراک کی لاگت کا 16 فیصد حصہ ہیں۔ جانوروں سے حاصل ہونے والی غذا گوشت، دودھ، انڈے وغیرہ  سب سے مہنگا حصہ ہیں جو مجموعی لاگت کے 30 فیصد پر مشتمل ہیں۔

میکسیمو ٹوریرو نے پریس کانفرنس کے دوران خوراک کے عالمی بحران پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اس وقت دنیا کے سامنے اصل چیلنج صرف اتنی خوراک یا کیلوریز پیدا کرنا نہیں ہے جس سے پیٹ بھرا جا سکے، بلکہ سب سے بڑا چیلنج غذائیت سے بھرپور خوراک کو غریب طبقے کے لیے سستا اور قابلِ رسائی بنانا ہے، کیونکہ یہی صحت بخش غذا کی مجموعی لاگت میں کمی لانے کا واحد موثر طریقہ ہے۔”