LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY: ▲ ▼
China: ▲ ▼
Pakistan: ▲ ▼
India: ▲ ▼
TV ONE Logo
اہم خبریں
ریاض ایئرپورٹ کی بندش میں 5 روز کی توسیع، نوٹم جاری خلیجی ممالک دیکھ چکے امریکی نام نہاد سکیورٹی چھتری کتنی مؤثر ہے: ایران ہماری پالیسی اسلام آباد سے آئے گی، کابل، قندھار اور جلال آباد سے نہیں: فیصل کریم کنڈی وزیراعظم کا ایس ایم ایز کیلئے قرضوں کا حجم 2028 تک 2.2 ٹریلین روپے کرنے کا حکم خیبر پختونخوا کے 12 اضلاع میں امن و ترقی کیلئے فنڈز کی فوری فراہمی کا فیصلہ خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی نفاذ کے خلاف سینیٹ میں قرارداد جمع صدر زرداری کی سیکریٹری خارجہ سے ملاقات، عالمی تعلقات مضبوط بنانے پر زور ترکی میں مسافر بس اور ٹرک میں تصادم، 11 افراد ہلاک، 27 زخمی فیلڈ مارشل عاصم منیر سے برازیلی فوجی وفد کی ملاقات، دفاعی تعاون بڑھانے پر اتفاق ایمرجنسی کا نفاذ تحریک انصاف کی ضد اور عدم تعاون کا نتیجہ ہے: طارق فضل چودھری وزیر خزانہ کی سربراہ ای ایس سی اے پی سے ملاقات، معاشی اصلاحات پر گفتگو پاکستان سٹاک مارکیٹ میں مندی، ہنڈرڈ انڈیکس 1964 پوائنٹس گر گیا 11 اکتوبر جمہوریت کا سیاہ ترین دن، کے پی کے عوام ایمرجنسی اور گورنر راج کو مسترد کرتے ہیں: بیرسٹر گوہر علی خان ہمارا واسطہ آئین شکنوں سے ہے، حالات بلوچستان میں خراب ہیں تو وہاں ایمرجنسی لگائیں: علامہ راجہ ناصر عباس دہشت گردی پر سیکیورٹی کے ساتھ عوامی مسائل کا حل بھی لازمی

صدر مملکت نے مکہ مشترکہ دفاعی معاہدہ عالمی امن کیلئے اہم پیش رفت قرار دیدیا

Web Desk

7 August 2026

صدرِ مملکت آصف علی زرداری نے پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کے درمیان طے پانے والے تاریخی “مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے” کا پرجوش خیر مقدم کرتے ہوئے اسے علاقائی اور عالمی امن و استحکام کا ضامن قرار دیا ہے۔

اپنے ایک بیان میں صدر مملکت نے کہا کہ یہ تاریخی معاہدہ عالمی امن، سلامتی اور پائیدار استحکام کے لیے ایک انتہائی اہم پیشرفت ہے، جو تینوں برادر اسلامی ممالک کی مشترکہ دفاعی صلاحیتوں کو پہلے سے کہیں زیادہ مضبوط و توانا بنائے گا۔ انہوں نے زور دیا کہ مکہ معاہدہ پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کے مابین سٹریٹجک شراکت داری اور باہمی اعتماد کو مزید مستحکم کرنے کی جانب ایک روشن اور سنگِ میل اقدام ہے۔

آصف علی زرداری نے اس اہم ترین اور تاریخی کامیابی کو ممکن بنانے پر وزیراعظم اور فیلڈ مارشل کے کلیدی کردار کی بھرپور تعریف کی اور ان کی کوششوں کو سراہا۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ یہ اتحاد نہ صرف تینوں ریاستوں کے دفاعی تحفظ کو یقینی بنائے گا بلکہ خطے میں ایک محفوظ اور خوشحال ماحول کی تشکیل میں بھی اہم کردار ادا کرے گا۔