امریکی ہتھیاروں کے ذخائر سے متعلق معلومات افشا ہونے پر ٹرمپ کا تحقیقات کا حکم
Web Desk
7 August 2026
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے ساتھ جاری جنگ کے دوران امریکی فوج کے حساس ہتھیاروں اور گولہ بارود کے ذخائر سے متعلق معلومات میڈیا تک پہنچنے کے معاملے کی اعلیٰ سطح کی تحقیقات کا حکم دے دیا ہے۔
امریکی اخبار “وال سٹریٹ جرنل” کے مطابق صدر ٹرمپ نے پینٹاگون کے عسکری ذخائر سے متعلق حساس پورٹس افشا ہونے پر شدید تشویش اور ناراضی کا اظہار کرتے ہوئے یہ ہدایت جاری کی ہے۔ امریکی انتظامیہ ان رپورٹس کو لے کر گہری تشویش میں مبتلا ہے جن میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ معرکے کے دوران امریکا کے پاس پٹریٹ میزائلوں، فضائی دفاعی نظام اور دیگر اہم جنگی سازوسامان کی دستیابی میں نمایاں کمی واقع ہوئی ہے۔ اگرچہ وائٹ ہاؤس مسلسل یہ موقف اپنا رہا ہے کہ امریکا کے پاس ایران کے خلاف کارروائیاں جاری رکھنے کے لیے بھرپور عسکری صلاحیت موجود ہے، تاہم نجی ملاقاتوں میں صدر ٹرمپ نے ان خبروں پر سخت برہمی ظاہر کی ہے۔
اخبار کے مطابق صدر ٹرمپ کا مؤقف ہے کہ امریکی عسکری صلاحیتوں اور ہتھیاروں کی کمی سے متعلق خبریں تہران کو یہ غلط تاثر دے سکتی ہیں کہ واشنگٹن طویل جنگ جاری رکھنے کی پوزیشن میں نہیں، جس سے ایران کی حوصلہ افزائی ہو سکتی ہے۔ انہوں نے تشویش ظاہر کی کہ اس طرح کا لیک جوہری پروگرام سے متعلق ایران پر دباؤ بڑھانے کی امریکی سفارتی پوزیشن کو کمزور کر سکتا ہے۔ چنانچہ تحقیقات کا بنیادی مقصد مزید حساس عسکری معلومات کے افشا کو روکنا اور امریکی عسکری پوزیشن کی رازداری قائم رکھنا ہے۔
متعلقہ عنوانات
وزیراعظم شہباز شریف کی کویتی ولی عہد سے ملاقات، دوطرفہ تعاون بڑھانے پر اتفاق
22 September 2026
اسرائیلی حکومت ٹرمپ کے غزہ منصوبے میں رکاوٹیں ڈال رہی ہے: اردوان
22 September 2026
ایم ون اور ایم 14 سمیت اہم شاہراہیں کل شام سے بند کرنے کا اعلان
22 September 2026
ایران کے ٹھکانوں کو نشانہ بنایا، اب مشرق وسطیٰ میں غنڈہ گردی نہیں کر سکتا: ٹرمپ
22 September 2026
8 اسلامی ممالک کا غزہ میں فوری امداد اور اسرائیلی فوج کے مکمل انخلا کا مطالبہ
22 September 2026
عالمی تقسیم تشویشناک، گوتریس کا جنگیں طاقت سے نہیں مذاکرات سے ختم کرنے پر زور
22 September 2026
امریکا کے پاس گولہ بارود کی کمی نہیں، ذخائر میں ریکارڈ اضافہ ہو رہا ہے: ٹرمپ
22 September 2026
فیلڈ مارشل عاصم منیر سے فرانسیسی سیکرٹری جنرل برائے دفاع و قومی سلامتی کی ملاقات
22 September 2026