LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
ایرانی وارننگ پر برطانیہ کا اہم بیان ٹرمپ کے جنگی اختیارات محدود کرنے کی قرارداد ناکام برطانوی ارکان پارلیمنٹ کا وزیر اعظم کو خط، اسرائیل کی غزہ پالیسی پر مؤقف تبدیل کرنے کا مطالبہ ٹرمپ نے ایران پر اب تک کے سب سے بڑے حملے پر غور شروع کر دیا، ایگزیوس ایم آئی 5 کو صحافی کا غیرقانونی طور پر ڈیٹا لینے پر معاوضہ ادا کرنے کا حکم امریکی ایوان نمائندگان میں ایران کیخلاف جنگ روکنے کی قرارداد پھر منظور ٹرمپ کی نقل اتارنے والے شخص کی ویڈیو وائرل پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں مسلسل چوتھے روز اضافہ اسحاق ڈار ایس سی او وزرائے خارجہ اجلاس کیلئے کرغزستان پہنچ گئے روس مذاکرات کے لیے تیار، یوکرین میں فوجی آپریشن جاری رہے گا: کریملن پٹرولیم قیمتوں کے روزانہ تعین پر سینیٹ میں توجہ دلاؤ نوٹس جمع مشرقِ وسطیٰ کی صورتحال قابو سے باہر، فوری جنگ بندی ضروری ہے: انتونیو گوتریس ایران نے فوجی اڈوں کے استعمال پر برطانیہ کو سخت وارننگ دے دی سعودی توانائی معاہدہ ابراہیمی معاہدوں سے مشروط، وائٹ ہاؤس نے ٹرمپ کا مؤقف دہرا دیا عراقی وزیراعظم علی الزیدی کا ایران کا اہم دورہ، دوطرفہ تعلقات بڑھانے پر اتفاق

ایم آئی 5 کو صحافی کا غیرقانونی طور پر ڈیٹا لینے پر معاوضہ ادا کرنے کا حکم

Web Desk

23 July 2026

برطانیہ کے ‘انوسٹی گیٹری پاورز ٹربیونل’ (IPT) نے ایک اہم ترین فیصلے میں برطانوی اندرونی استخباراتی ایجنسی ایم آئی 5 (MI5) اور شمالی آئرلینڈ کی پولیس سروس (PSNI) کو بی بی سی کے سابق سینئر صحافی ونسنٹ کیرنی (Vincent Kearney) کو غیر قانونی طور پر فون کا ڈیٹا حاصل کرنے پر ہرجانہ ادا کرنے اور معافی مانگنے کا حکم دیا ہے۔

ٹربیونل نے اپنے فیصلے میں واضح کیا کہ صحافی کے فون ریکارڈز اور خفیہ معلومات تک رسائی رازداری کے بنیادی حقوق اور صحافتی ذرائع (Journalistic Sources) میں ایک غیر متناسب اور نا روا مداخلت تھی۔ ونسنٹ کیرنی، جو اس وقت آئرش براڈکاسٹر ‘آر ٹی ای’ (RTE) کے ساتھ وابستہ ہیں، کو MI5 اور PSNI کی جانب سے الگ الگ 10,000 برطانوی پاؤنڈز (تقریباً 13,326 امریکی ڈالر) بطورِ ہرجانہ و معاوضہ ادا کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔

اس فیصلے کے فوری بعد PSNI کے چیف کانسٹیبل جون باؤچر (Jon Boutcher) نے ٹربیونل کے فیصلے کو تسلیم کرتے ہوئے ونسنٹ کیرنی سے باضابطہ معافی مانگ لی اور یقین دہانی کروائی کہ مستقبل میں اس قسم کے واقعات کی روک تھام کے لیے پولیس کی پالیسیوں اور طریقۂ کار میں اہم تبدیلیاں کی جا چکی ہیں۔