LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
عظمیٰ خانم اور نورین نیازی کی نظربندی معطل کرنے کی استدعا مسترد وزیر خزانہ کی اہم ملاقاتیں، ڈیجیٹائزیشن، پی آئی اے اور ریکوڈک پر مشاورت لانگ مارچ مؤخر کیے جانے تک پی ٹی آئی سے مذاکرات نہیں ہوسکتے: رانا ثنااللہ ایرانی وزارت خارجہ کا کینیڈین وزیراعظم مارک کارنی کے بیان پر سخت ردعمل افغان سرزمین سے ڈرون حملے ناقابلِ قبول، دفاع ہمارا حق، فوری جواب دیا جائے گا: عطا تارڑ وزیراعظم کی امریکا میں اہم ملاقاتیں، نوجوانوں کو ملکی بہتری کیلئے کردار ادا کرنے کی دعوت 26 نومبر احتجاج کیس: راولپنڈی کی انسداد دہشت گردی عدالت کا محفوظ فیصلہ کل سنایا جائے گا اسحاق ڈار کی عباس عراقچی سے ملاقات، امن و استحکام کیلئے مذاکرات پر زور نیتن یاہو نے خطے میں اجتماعی قتل کا سلسلہ جاری رکھا ہوا ہے: ہسپانوی وزیراعظم امریکی بحریہ کے طویل مشن کے دوران آٹھ اہلکاروں کی خودکشی کی کوشش پاکستان سٹاک ایکسچینج میں مثبت رجحان، انڈیکس 186 پوائنٹس بڑھ گیا دراندازی پر سخت ردعمل، پاکستان کے افغانستان میں 10 فوجی اہداف پر حملے پاکستان نے افغان سرزمین سے ڈرونز بھیجنا ملکی خود مختاری، سالمیت کی کھلی خلاف ورزی قرار دیدیا چینی صدر 3 روزہ دورے پر امریکہ پہنچ گئے، ریڈ کارپٹ استقبال، توپوں کی سلامی آبنائے ہرمز میں ایک اور مال بردار بحری جہاز کو پروجیکٹائل سے نشانہ بنایا گیا: برطانوی میری ٹائم

امریکی ایوان نمائندگان میں ایران کیخلاف جنگ روکنے کی قرارداد پھر منظور

Web Desk

23 July 2026

امریکی ایوانِ نمائندگان (US House of Representatives) نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اقدامات کے خلاف ایک اہم سیاسی تحرک سامنے لاتے ہوئے ایران کے خلاف بلا اجازت عسکری کارروائیوں اور جنگ کو فوری طور پر روکنے سے متعلق قرارداد منظور کر لی ہے۔ امریکی میڈیا کے مطابق 208 کے مقابلے میں 214 ووٹوں سے منظور ہونے والی یہ قرارداد دراصل صدر ٹرمپ کے لیے کانگریس کی جانب سے واضح اور سخت وارننگ تصور کی جا رہی ہے۔

4 ریپبلکن ارکان نے اپنی ہی پارٹی کے موقف سے ہٹ کر اس قرارداد کی حمایت میں ڈیموکریٹس کو ووٹ دیا۔ تاہم، ریپبلکنز کی اکثریت نے صدر ٹرمپ کے جنگی اختیارات کے حق میں رائے دہی کی۔ فلور پر قرارداد کی قیادت کرنے والی ڈیموکریٹ رکن پرامیلا جے پال (Pramila Jayapal) نے کہا کہ ایران کے خلاف اس عسکری اقدام کا “کوئی واضح مشن، کوئی حکمت عملی اور نہ ہی کوئی حتمی ہدف سامنے آیا ہے”۔

  • دوسری جانب صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے دفاع میں اصرار کیا ہے کہ ایران پر امریکی عسکری حملوں کا مطلب کسی نئی طویل مدتی جنگ کی طرف جانا ہرگز نہیں ہے۔ واضح رہے کہ ایوانِ نمائندگان سے منظوری کے بعد اسی نوعیت کی قرارداد پر امریکی سینیٹ میں بھی رائے شماری کی جا رہی ہے۔