LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY: ▲ ▼
China: ▲ ▼
Pakistan: ▲ ▼
India: ▲ ▼
TV ONE Logo
اہم خبریں
ایران کیخلاف کسی بھی طاقت کا اتحاد ناکامی سے دوچار ہوگا: ترجمان ایرانی فوج شہباز شریف کی نواز شریف سے ملاقات، ملکی سیاسی و معاشی صورتحال پر مشاورت صدر پوتن کی امریکہ میں جی 20 سربراہی اجلاس میں شرکت کا فیصلہ نہیں ہوا: کریملن پاکستان پوسٹ میں غیر قانونی بھرتیوں کا کیس، اسعد محمود تفتیش سے روپوش قرار پاکستان میں انتظامی یونٹس بنانے کے حوالے سے غور کرنا چاہئے: خواجہ آصف وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز کی دیوالی کے تہوار پر ہندو برادری کو مبارکباد وزیراعظم شہباز شریف کی آذربائیجان کو یوم فتح کی چھٹی سالگرہ پر مبارکباد شادی اور بچے پیدا کرنے کی ہمت کریں: پوپ لیو کی جنوبی امریکا میں نوجوانوں کو نصیحت سعودی عرب نے ریاض کی جانب داغے گئے 2 بیلسٹک اور 2 کروز میزائل تباہ کر دیے ڈی جی آئی ایس پی آر کا لاہور کی تین جامعات کا دورہ، طلبہ اور اساتذہ سے خصوصی نشستیں ٹرمپ کا سیاسی انتقام لینے اور دھمکیاں دینے پر ڈیموکریٹس کے خلاف تحقیقات کا حکم فضائی آلودگی میں لاہور دنیا کے آلودہ ترین شہروں میں سرفہرست صدر اور وزیراعظم کا دیوالی پر ملک میں اتحاد، مذہبی ہم آہنگی کے فروغ پر زور امریکی فوج کا بحیرۂ عمان میں تجارتی جہاز کو نشانہ بنانے کا دعویٰ پاکستان اور سری لنکا کے درمیان دو ٹیسٹ میچوں کی سیریز کا کل سے آغاز: بابر اعظم اور کوشال مینڈس اپنی ٹیموں کی قیادت کریں گے

یو اے ای سپیس ایجنسی نے ایمریٹس مارس مشن کی مدت 2028 تک بڑھا دی

Web Desk

18 February 2026

متحدہ عرب امارات کی سپیس ایجنسی نے ایمریٹس مارس مشن (Hope Probe) کی سائنسی مشاہدات اور آپریشنل مدت 2028 تک بڑھانے کا اعلان کر دیا ہے۔ اس توسیع کے ذریعے مشن کو مریخ کے موسمیاتی نظام اور طویل المدتی سائنسی ڈیٹا جمع کرنے کے مزید مواقع حاصل ہوں گے۔

سپیس ایجنسی کے مطابق Hope Probe نے مریخ کے مدار میں متعدد کامیاب مشاہدات کیے ہیں اور اب سائنسی ٹیمیں مزید ڈیٹا جمع کر کے بین الاقوامی برادری کے ساتھ اشتراک کریں گی۔ توسیع کے ذریعے مریخ کے موسم، غبار، توانائی کے بہاؤ اور دیگر ماحولیاتی عوامل پر گہرائی سے تحقیق ممکن ہوگی، جس سے زمین پر موسمیاتی مطالعات میں بھی نئی بصیرتیں حاصل ہوں گی۔

ماہرینِ فلکیات کے مطابق یہ طویل مشن مریخ کے موسمی تغیرات، درجہ حرارت کے پیٹرنز اور سمندری بخارات جیسے عوامل کی بہتر تحقیق میں مددگار ثابت ہوگا، جبکہ یہ قدم خلیجی خطے کو سپیس سائنسی تحقیق میں نمایاں مقام دلانے میں بھی معاون ہے۔