LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
وینزویلا میں قیامت خیز زلزلے؛ ہلاکتیں 920 ہو گئیں، ملبے تلے زندگی کی تلاش جاری، ہسپتالوں میں شدید بحران نیویارک کرائے داروں کی بڑی جیت، سٹی بورڈ نے مئیر مامدانی کی ‘کرایہ منجمد کرنے’ کی تاریخی تجویز منظور کر لی جنگ بندی کے باوجود جنوبی لبنان میں اسرائیلی حملے جاری، مزید 7 افراد شہید عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں کمی کا سلسلہ جاری، نیچرل گیس معمولی مہنگی پوتن نے روسی تیل پر مغربی پرائس کیپ مسترد، برآمدی پابندی 2027 کے آخر تک بڑھا دی روس اور یوکرین کے درمیان 160، 160 جنگی قیدیوں کا تبادلہ امریکا کا ایران حملوں میں بربادی کے بعد عرب ممالک سے اپنے اڈے منتقل کرنے کا فیصلہ این ڈی ایم اے کا ملک بھر میں بارشوں اور تیز ہواؤں کا الرٹ جاری نیویارک,یومِ عاشور کی مجلسِ عزا:ظہران ممدانی کی شرکت,امام حسینؓ کو خراجِ عقیدت ایران نے پڑوسی ممالک میں موجود اسرائیلی فوجی طیاروں کیلئے سخت انتباہ جاری کردیا جاپان کا ایران، لبنان اور فلسطین کیلئے ڈیڑھ کروڑ ڈالر کی ہنگامی امداد کا اعلان روس کا یوکرین کے 660 ڈرونز تباہ کرنے کا دعویٰ حزب اللہ کا لبنان سے اسرائیل کے مکمل انخلا تک ہتھیار نہ ڈالنے کا اعلان ایران جنگ میں پاکستان کا کردار قیامت تک یاد رکھا جائے گا: خواجہ آصف امریکا ایران معاہدے کے تحت ایرانی جوہری تنصیبات تک رسائی حاصل ہوگی: سربراہ آئی اے ای اے

ٹرمپ انتظامیہ کا سخت اقدام: بائیڈن دور کے تمام پناہ گزین کیسز کی دوبارہ جانچ، افغان خاندانوں سمیت ہزاروں افراد میں بے چینی

Web Desk

26 November 2025

امریکہ میں ٹرمپ انتظامیہ کے تازہ فیصلے نے افغان شہریوں سمیت ملک بھر کی پناہ گزین کمیونٹی میں شدید بے چینی پیدا کر دی ہے۔ اگرچہ یہ پالیسی اُن افغان باشندوں پر براہِ راست لاگو نہیں ہوتی جو مختلف خصوصی پروگراموں کے تحت امریکہ آئے تھے، لیکن تیز رفتار تبدیلیوں نے اُن کے مستقبل کو بھی غیر یقینی بنا دیا ہے۔

امریکی میڈیا کے مطابق USCIS کے ایک خفیہ میمو میں انکشاف ہوا ہے کہ بائیڈن دور میں آنے والے تمام پناہ گزینوں کے کیسز دوبارہ کھولنے کا فیصلہ کر لیا گیا ہے۔ میمو میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ بائیڈن انتظامیہ نے “سخت سیکیورٹی ویٹنگ”  کو ترجیح نہیں  دی، جس کے بعد اب دو لاکھ سے زائد افراد کی دوبارہ جانچ اور انٹرویوز کیے جانے کا امکان ہے۔

رپورٹس کے مطابق وہ لوگ بھی اس نئے سکریننگ عمل میں شامل ہوں گے جنہیں پہلے ہی گرین کارڈ جاری کیا جا چکا ہے، جبکہ بائیڈن دور کے گرین کارڈز کی منظوری بھی عارضی طور پر روک دی گئی ہے۔

پناہ گزینوں کے حقوق کی تنظیموں نے اس فیصلے کو “غیر انسانی” اور “ناقابلِ عمل” قرار دیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ جنگ، ظلم اور برسوں کی بے وطنی سے بچ کر امریکہ آنے والے افراد ایک بار پھر شدید ذہنی دباؤ کا شکار ہو گئے ہیں۔

ایک شامی پناہ گزین نے بتایا کہ امریکہ پہنچنا ان کا خواب تھا، مگر اب اپنی حیثیت دوبارہ مشکوک ہوتے دیکھ کر پورا خاندان خوفزدہ ہے۔ دوسری جانب ہوم لینڈ سیکیورٹی نے اس پالیسی کا دفاع کرتے ہوئے کہا ہے کہ اصلاحی اقدامات ضروری تھے تاکہ صرف وہی لوگ امریکہ میں رہیں جو “واقعی حقدار” ہیں۔