ایران کو معاہدے پر مجبور کرنے کیلئے ٹرمپ کا محدود فوجی آپشن پر غور
Web Desk
20 February 2026
واشنگٹن: امریکی جریدے وال اسٹریٹ جنرل کی رپورٹ کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ ایران کے خلاف محدود فوجی کارروائی کے امکان کا جائزہ لے رہے ہیں تاکہ اسے جوہری معاہدے پر آمادہ کیا جا سکے۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ممکنہ حملے میں ایران کی عسکری یا سرکاری تنصیبات کو نشانہ بنایا جا سکتا ہے۔ اس حکمت عملی کا بنیادی مقصد ایران پر دباؤ ڈال کر اسے مذاکرات کی میز پر لانا بتایا گیا ہے۔
اخبار کے مطابق اگر ایران نے معاہدہ تسلیم کرنے سے انکار کیا تو کارروائی کا دائرہ وسیع کیا جا سکتا ہے، جس سے خطے میں کشیدگی میں اضافہ ہونے کا خدشہ ہے۔
صدر ٹرمپ اس سے پہلے بھی ایران کے معاملے پر سفارتکاری کو اولین ترجیح قرار دے چکے ہیں، تاہم انہوں نے خبردار کیا تھا کہ اگر ضروری ہوا تو فوجی طاقت بھی استعمال کی جا سکتی ہے۔
غزہ بورڈ آف پیس کے ابتدائی اجلاس میں خطاب کرتے ہوئے امریکی صدر نے کہا تھا کہ ایران کو کسی بھی صورت ایٹمی ہتھیار حاصل کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی، اور اسے امن کے راستے کا انتخاب کرنا ہوگا۔
متعلقہ عنوانات
ایران اور امریکا کے درمیان مذاکرات کے دوسرے راؤنڈ کا آغاز
21 June 2026
پاکستان پیپلز پارٹی اور استحکام پاکستان پارٹی کے درمیان حکومت سازی کے معاملات طے پا گئے۔
21 June 2026
وزیراعظم اور فیلڈ مارشل کی ایرانی وفد سے اہم ملاقات، باضابطہ مذاکرات سے قبل مشاورت
21 June 2026
اسلام آباد مفاہمتی یادداشت کی تمام شقیں ہمارے حق میں ہیں: ایرانی صدر
21 June 2026
ایران امریکہ مذاکرات آج: وزیراعظم، فیلڈ مارشل کی امریکی نائب صدر جے ڈی وینس سے ملاقات
21 June 2026
قومی اسمبلی: 29 وزارتوں اور ڈویژنوں کے 40 کھرب 48 ارب کے 89 مطالبات زر منظور
21 June 2026
پاکستان ’اسلام آباد مفاہمتی یادداشت‘ پر عملدرآمد کیلئے کردار ادا کرے گا: دفتر خارجہ
21 June 2026
وزیراعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل عاصم منیر اعلیٰ سطح کے مذاکرات کے لیے سوئٹزرلینڈ پہنچ گئے
21 June 2026