افغان طالبان وفد کے ممکنہ برسلز دورے کیخلاف سپین میں یورپی پارلیمنٹ دفتر کے باہر احتجاج
Web Desk
9 June 2026
برسلز/کابل: یورپی یونین کے ہیڈ کوارٹر برسلز میں افغان طالبان کے ایک اعلیٰ سطح کے وفد کے ممکنہ دورے کی خبروں پر یورپی اراکینِ پارلیمنٹ، بین الاقوامی انسانی حقوق کی تنظیموں اور افغان شہریوں کی جانب سے شدید ردعمل سامنے آیا ہے اور اس دورے کی ملک گیر سطح پر سخت مخالفت کی جا رہی ہے۔
افغان میڈیا جریدے “افغانستان انٹرنیشنل” کی رپورٹ کے مطابق، اس ممکنہ دورے کے خلاف برسلز اور دیگر یورپی شہروں میں مقیم افغان شہریوں اور انسانی حقوق کے علمبرداروں نے شدید احتجاج کیا ہے۔ مظاہرین کا مؤقف ہے کہ طالبان حکومت کو کسی بھی یورپی فورم پر نمائندگی دینا افغان عوام، بالخصوص خواتین کے ساتھ ناانصافی ہوگی۔
مظاہرین اور عالمی برادری نے افغانستان کے موجودہ اندرونی حالات اور خواتین کی ابتر صورتحال پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے: احتجاجی رہنماؤں کا کہنا ہے کہ پچھلے 5 سالوں کے دوران طالبان نے اپنی سخت گیر پالیسیوں کے ذریعے پورے افغانستان کو خواتین اور لڑکیوں کے لیے ایک بہت بڑے قید خانے میں تبدیل کر دیا ہے، جہاں ان سے تعلیم، روزگار اور نقل و حرکت کی بنیادی آزادیاں چھین لی گئی ہیں۔ ماہرین کے مطابق، افغانستان میں طالبان کی موجودہ پالیسیاں خواتین اور لڑکیوں کی عزت، حفاظت اور ان کے محفوظ مستقبل کے لیے ایک مسلسل اور سنگین خطرہ بنی ہوئی ہیں۔
طالبان وفد کی برسلز آمد کے خلاف یورپی یونین کے اندر سے بھی ایک مضبوط سیاسی آواز اٹھی ہے”یورپی پارلیمنٹ کے اراکین اور 82 سے زائد عالمی انسانی حقوق کی تنظیموں نے ایک مشترکہ اعلامیے میں طالبان وفد کے دورہ برسلز پر شدید ترین تشویش کا اظہار کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ طالبان کو یورپی اداروں میں مدعو کرنا ان کی پالیسیوں سے متاثرہ لاکھوں افغان شہریوں کی توہین اور افغان خواتین کی بے پناہ مشکلات کو یکسر نظر انداز کرنے کے برابر ہے۔”
یورپی اراکینِ پارلیمنٹ نے دوٹوک الفاظ میں واضح کیا کہ طالبان کی یورپی پارلیمنٹ جیسے جمہوری فورم پر کوئی جگہ نہیں ہے، بلکہ ان کی انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں پر انہیں بین الاقوامی عدالتوں (International Courts) میں انصاف کے کٹہرے میں لایا جانا چاہیے۔
بین الاقوامی سیاسی ماہرین کے مطابق، اس وقت خود افغانستان کے اندر بھی زمینی حالات تیزی سے تبدیل ہو رہے ہیں۔ طالبان رجیم کے سخت گیر قوانین، معاشی بدحالی اور بنیادی انسانی حقوق پر پابندیوں کے باعث کابل سمیت مختلف صوبوں میں طالبان حکومت کے خلاف اندرونی عوامی اور سیاسی مزاحمت میں مسلسل اضافہ دیکھا جا رہا ہے، جس کی وجہ سے طالبان اب عالمی سطح پر قانونی حیثیت (Legitimacy) حاصل کرنے کے لیے یورپی ممالک کے دوروں کی سرتوڑ کوششیں کر رہے ہیں۔
متعلقہ عنوانات
ایران سے اچھے تعلقات کی امید، آبنائے ہرمز جمعہ تک مکمل کھول دی جائیگی: ٹرمپ
15 June 2026
امریکا اور ایران نے مفاہمتی یادداشت پر ڈیجیٹل دستخط کردیئے
15 June 2026
روس کا سٹریٹیجک بمبار طیارہ ٹی یو 22 سائبیریا میں گر کر تباہ
15 June 2026
بلاول بھٹو زرداری کی برطانوی وزیر ہیمش فالکن سے ملاقات، خطے میں امن کے لیے پاکستان کے سفارتی کردار پر گفتگو
15 June 2026
ایران نے جنگ میں بے مثال قربانیاں دیں، لبنان جنگ بندی بھی معاہدے کا حصہ ہے: اسماعیل بقائی
15 June 2026
اسحاق ڈار کی برطانوی حکام سے ملاقات، پاکستانی سفارتی کردار کو سراہا گیا
15 June 2026
سفیر پاکستان کی چیچن رہنما سے ملاقات، دوطرفہ تعاون مضبوط بنانے پر اتفاق
15 June 2026
صدر پوتن کا امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو 80ویں سالگرہ پر فون کر کے مبارکباد
15 June 2026