LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
ایران شرائط پوری کرے تو 300 ارب ڈالر کے تعمیراتی فنڈز مل سکتے ہیں: جے ڈی وینس ایران سے اچھے تعلقات کی امید، آبنائے ہرمز جمعہ تک مکمل کھول دی جائیگی: ٹرمپ امریکا اور ایران نے مفاہمتی یادداشت پر ڈیجیٹل دستخط کردیئے ڈونلڈ ٹرمپ جنگ بندی معاہدے کی تقریب میں شرکت کیلئے جنیوا پہنچ گئے بلاول بھٹو زرداری کی برطانوی وزیر ہیمش فالکن سے ملاقات، خطے میں امن کے لیے پاکستان کے سفارتی کردار پر گفتگو ایران نے جنگ میں بے مثال قربانیاں دیں، لبنان جنگ بندی بھی معاہدے کا حصہ ہے: اسماعیل بقائی سفیر پاکستان کی چیچن رہنما سے ملاقات، دوطرفہ تعاون مضبوط بنانے پر اتفاق مانیٹری پالیسی کا اعلان: اسٹیٹ بینک کا شرح سود 11.50 فیصد پر برقرار رکھنے کا فیصلہ کسی کو فتنہ الخوارج، فتنہ الہندوستان کہنے سے مسئلہ حل نہیں ہوگا،مولانا فضل الرحمان صدر پوتن کا امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو 80ویں سالگرہ پر فون کر کے مبارکباد ایران پاکستان کی مخلصانہ کاوشوں کو ہمیشہ یاد رکھے گا: ایرانی سفیر اسحاق ڈار سے جاپانی وزیر خارجہ کا رابطہ، ایران امریکا مفاہمت کا خیر مقدم کراچی: اسٹیٹ بینک نے وزیر اعظم اپنا گھر پروگرام کے دائرہ کار میں توسیع کر دی پنجاب کا 5131 ارب روپے کا بجٹ کل پیش ہوگا، ترقیاتی بجٹ نصف کر دیا گیا امن کا سورج طلوع، جنیوا میں ایران امریکا معاہدے کی میزبانی پاکستان کرے گا: وزیراعظم

افغان طالبان وفد کے ممکنہ برسلز دورے کیخلاف سپین میں یورپی پارلیمنٹ دفتر کے باہر احتجاج

Web Desk

9 June 2026

برسلز/کابل: یورپی یونین کے ہیڈ کوارٹر برسلز میں افغان طالبان کے ایک اعلیٰ سطح کے وفد کے ممکنہ دورے کی خبروں پر یورپی اراکینِ پارلیمنٹ، بین الاقوامی انسانی حقوق کی تنظیموں اور افغان شہریوں کی جانب سے شدید ردعمل سامنے آیا ہے اور اس دورے کی ملک گیر سطح پر سخت مخالفت کی جا رہی ہے۔

افغان میڈیا جریدے “افغانستان انٹرنیشنل” کی رپورٹ کے مطابق، اس ممکنہ دورے کے خلاف برسلز اور دیگر یورپی شہروں میں مقیم افغان شہریوں اور انسانی حقوق کے علمبرداروں نے شدید احتجاج کیا ہے۔ مظاہرین کا مؤقف ہے کہ طالبان حکومت کو کسی بھی یورپی فورم پر نمائندگی دینا افغان عوام، بالخصوص خواتین کے ساتھ ناانصافی ہوگی۔

مظاہرین اور عالمی برادری نے افغانستان کے موجودہ اندرونی حالات اور خواتین کی ابتر صورتحال پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے: احتجاجی رہنماؤں کا کہنا ہے کہ پچھلے 5 سالوں کے دوران طالبان نے اپنی سخت گیر پالیسیوں کے ذریعے پورے افغانستان کو خواتین اور لڑکیوں کے لیے ایک بہت بڑے قید خانے میں تبدیل کر دیا ہے، جہاں ان سے تعلیم، روزگار اور نقل و حرکت کی بنیادی آزادیاں چھین لی گئی ہیں۔ ماہرین کے مطابق، افغانستان میں طالبان کی موجودہ پالیسیاں خواتین اور لڑکیوں کی عزت، حفاظت اور ان کے محفوظ مستقبل کے لیے ایک مسلسل اور سنگین خطرہ بنی ہوئی ہیں۔

طالبان وفد کی برسلز آمد کے خلاف یورپی یونین کے اندر سے بھی ایک مضبوط سیاسی آواز اٹھی ہے”یورپی پارلیمنٹ کے اراکین اور 82 سے زائد عالمی انسانی حقوق کی تنظیموں نے ایک مشترکہ اعلامیے میں طالبان وفد کے دورہ برسلز پر شدید ترین تشویش کا اظہار کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ طالبان کو یورپی اداروں میں مدعو کرنا ان کی پالیسیوں سے متاثرہ لاکھوں افغان شہریوں کی توہین اور افغان خواتین کی بے پناہ مشکلات کو یکسر نظر انداز کرنے کے برابر ہے۔”

یورپی اراکینِ پارلیمنٹ نے دوٹوک الفاظ میں واضح کیا کہ طالبان کی یورپی پارلیمنٹ جیسے جمہوری فورم پر کوئی جگہ نہیں ہے، بلکہ ان کی انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں پر انہیں بین الاقوامی عدالتوں (International Courts) میں انصاف کے کٹہرے میں لایا جانا چاہیے۔

بین الاقوامی سیاسی ماہرین کے مطابق، اس وقت خود افغانستان کے اندر بھی زمینی حالات تیزی سے تبدیل ہو رہے ہیں۔ طالبان رجیم کے سخت گیر قوانین، معاشی بدحالی اور بنیادی انسانی حقوق پر پابندیوں کے باعث کابل سمیت مختلف صوبوں میں طالبان حکومت کے خلاف اندرونی عوامی اور سیاسی مزاحمت میں مسلسل اضافہ دیکھا جا رہا ہے، جس کی وجہ سے طالبان اب عالمی سطح پر قانونی حیثیت (Legitimacy) حاصل کرنے کے لیے یورپی ممالک کے دوروں کی سرتوڑ کوششیں کر رہے ہیں۔