LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY: ▲ ▼
China: ▲ ▼
Pakistan: ▲ ▼
India: ▲ ▼
TV ONE Logo
اہم خبریں
ڈیڈ لاک برقرار، حکومت اور اپوزیشن میں جاری مذاکرات بغیر کسی نتیجے کے ختم وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کا آج سے لانگ مارچ شروع کرنے کا اعلان حکومت اپوزیشن مذاکرات کا نتیجہ جلد سامنے آئے گا: شوکت یوسف زئی وائٹ سی ایگل راستہ بھٹک کر سندھ آپہنچا، نایاب پرندے کی آنکھیں سی کر پر کاٹ دیے گئے حکومت اور پاکستان تحریکِ انصاف کے درمیان مذاکرات ناکام، پی ٹی آئی کا لانگ مارچ جاری رکھنے کا اعلان مذاکرات شروع ہونا بڑی کامیابی، سلسلہ ٹوٹنا نہیں چاہیے: فواد چودھری ٹرمپ ایران کے ساتھ جنگ سے سبق سیکھ کر شرائط قبول کریں: ایرانی پاسداران انقلاب اسلام آباد ایئرپورٹ پر ایک ہفتے میں دو بڑی کارروائیاں، 47 کلوگرام مشتبہ منشیات برآمد اسلام آباد میں رینجرز کی تعیناتی میں 15 اکتوبر تک توسیع گورنر راج یا ایمرجنسی سے پہلے سیاسی جماعتوں کو راستہ تلاش کرنا چاہیے: بلاول بھٹو کراچی کے لیے اضافی پانی کی فراہمی جلد شروع ہوجائے گی، مراد علی شاہ حکومتی وفد نے پی ٹی آئی پر دہشتگردی کے معاملے پر عدم تعاون کا الزام عائد کردیا ایک صوبے کو دہشت گردی سے جوڑنا ناعاقبت اندیشی ہے: علامہ ناصر عباس راجہ وزیراعظم شہباز شریف سے محسن نقوی کی ملاقات، سکیورٹی صورِتحال پر بات چیت حکومت اور اپوزیشن کے مذاکرات بے نتیجہ ختم، ڈیڈ لاک برقرار

پاکستان کی پہلی فلائی گاڑی جناح ون 2028 میں چاند پر اترے گی: چیئرمین سپارکو

Web Desk

3 October 2026

پاکستان سپیس اینڈ اپر ایٹموسفیئر ریسرچ کمیشن (سپارکو) کے چیئرمین یوسف خان نے اعلان کیا ہے کہ پاکستان اب یورپی اور چینی سیٹلائٹس پر انحصار ختم کر کے مکمل طور پر اپنی سیٹلائٹ ٹیکنالوجی پر منتقل ہو رہا ہے، جبکہ پاکستان کی پہلی چاند گاڑی ‘جناح ون’ (Jinnah-1) سال 2028ء میں چاند کی سطح پر اترے گی۔ ورلڈ سپیس ویک کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ایسے بین الاقوامی ایام نوجوانوں کو خلائی ٹیکنالوجی سے روشناس کروانے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں اور حالیہ برسوں میں قومی خلائی پروگرام نے غیر معمولی کامیابی حاصل کی ہے۔

چیئرمین سپارکو نے خلائی مشنز کی تفصیلات بتاتے ہوئے انکشاف کیا کہ جنوری 2025ء میں پاکستان نے اپنا ‘ای ون’ (E-1) سیٹلائٹ خلا میں بھیجا، جس کے بعد جولائی 2025ء اور اکتوبر میں مزید دو سیٹلائٹس مدار میں بھیجے گئے۔ اس وقت پاکستان کے چھ ارتھ آبزرویشن سیٹلائٹس خلا میں سرگرم عمل ہیں جو زراعت، شہری منصوبہ بندی، انٹرنیٹ اور ٹی وی کوریج کی توسیع اور قدرتی آفات سے نمٹنے کی قومی صلاحیتوں کو مضبوط بنانے میں معاون ثابت ہو رہے ہیں۔