LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
مصنوعی ذہانت 5 برس میں انسانی ذہانت سے آگے نکل سکتی ہے: ایلون مسک کا انتباہ اسرائیل کا مغربی کنارے میں بڑے فوجی آپریشن کا اعلان، نئی بستیاں قائم کرنے کا فیصلہ روس اور یوکرین کے درمیان حملوں میں شدت، فضائی کارروائیوں میں متعدد افراد ہلاک وزیراعلیٰ گلگت بلتستان کی چینی سفیر سے ملاقات: تجارت، سیاحت اور سرمایہ کاری بڑھانے پر اتفاق بھارت میں مون سون کا شدید سپیل، ریاست گجرات میں سیلابی صورتحال سندھ کے علاقے حیدر آباد سے مبینہ افغان دہشت گرد گرفتار آبنائے ہرمز پر سفارت کاری تیز، عمانی وفد تہران پہنچ گیا، قطر کا مذاکرات جاری رکھنے پر زور اسحاق ڈار کی کرغز ہم منصب سے ملاقات، تعلقات مزید مضبوط بنانے کے عزم کا اعادہ سکیورٹی خدشات: پیپلز پارٹی کو مینارِ پاکستان پر جلسے کی اجازت نہ مل سکی آبنائے ہرمز سے متعلق مطالبات پورے ہونے تک جنگ بندی قبول نہیں: عباس عراقچی پٹرول مزید 3 روپے 66 پیسے، ڈیزل4 روپے 80 پیسے مہنگا، نوٹیفکیشن جاری چین اور روس نے ایران کو ہتھیار نہ دینے کی یقین دہانی کرا دی: ٹرمپ کا دعویٰ سپین میں پہلی بار جنگلاتی آگ پر قومی ایمرجنسی نافذ، 19 ہزار افراد کے انخلا کا حکم آزاد کشمیر کے ہر ترقیاتی منصوبے پر مسلم لیگ (ن) کی مہر نظر آئے گی: نواز شریف وزیراعظم اور فیلڈ مارشل نے سکائی 47 ڈیٹا سینٹر ’قراقرم ون‘ کا افتتاح کر دیا

آبنائے ہرمز پر سفارت کاری تیز، عمانی وفد تہران پہنچ گیا، قطر کا مذاکرات جاری رکھنے پر زور

Web Desk

24 July 2026

خلیج میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے پیشِ نظر آبنائے ہرمز کے مستقبل اور بحری آمدورفت کے تحفظ کے لیے سفارتی سرگرمیوں میں تیزی آ گئی ہے۔ عمانی اعلیٰ سطحی وفد تہران پہنچ گیا ہے جہاں وہ ایرانی حکام سے ملاقاتوں کے دوران آبنائے ہرمز میں جہاز رانی کے مشترکہ انتظام پر تبادلہ خیال کرے گا۔ اگرچہ ایران عمان کے ساتھ مل کر اس بحری راستے کا انتظام سنبھالنے پر تیار ہے، تاہم امریکا اور خلیجی ممالک اس تجویز کو پہلے ہی مسترد کر چکے ہیں۔ دوسری جانب قطری وزیراعظم شیخ محمد بن عبدالرحمن آل ثانی نے برطانوی وزیر خارجہ ایڈ ملی بینڈ سے ملاقات میں امریکا اور ایران پر زور دیا ہے کہ وہ باہمی مفاہمتی یادداشت پر مکمل عملدرآمد کریں اور آبنائے ہرمز میں آزادانہ جہاز رانی کو یقینی بنائیں۔ قطری وزیراعظم نے واضح کیا کہ خطے میں پائیدار استحکام اور کشیدگی کے خاتمے کے لیے سفارتی مذاکرات اور جامع معاہدے ہی واحد حل ہیں۔