LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY: ▲ ▼
China: ▲ ▼
Pakistan: ▲ ▼
India: ▲ ▼
TV ONE Logo
اہم خبریں
کسی بھی دورے کے دوران مارکیٹیں اور کاروبار بند نہ کئے جائیں، مریم نواز کی حکام کو ہدایت امریکی انتخابات کے نتائج نے امریکا کو تاریخ میں کئی قدم پیچھے دھکیل دیا: ٹرمپ مصر میں مسافر ٹرین حادثہ، متعدد بوگیاں پٹری سے اتر گئیں، 64 افراد زخمی غزہ میں بارشوں سے 70 ہزار خیمے زیر آب، ساڑھے 3 لاکھ بے گھر افراد متاثر ایران کیخلاف کسی بھی طاقت کا اتحاد ناکامی سے دوچار ہوگا: ترجمان ایرانی فوج شہباز شریف کی نواز شریف سے ملاقات، ملکی سیاسی و معاشی صورتحال پر مشاورت صدر پوتن کی امریکہ میں جی 20 سربراہی اجلاس میں شرکت کا فیصلہ نہیں ہوا: کریملن پاکستان پوسٹ میں غیر قانونی بھرتیوں کا کیس، اسعد محمود تفتیش سے روپوش قرار پاکستان میں انتظامی یونٹس بنانے کے حوالے سے غور کرنا چاہئے: خواجہ آصف وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز کی دیوالی کے تہوار پر ہندو برادری کو مبارکباد وزیراعظم شہباز شریف کی آذربائیجان کو یوم فتح کی چھٹی سالگرہ پر مبارکباد شادی اور بچے پیدا کرنے کی ہمت کریں: پوپ لیو کی جنوبی امریکا میں نوجوانوں کو نصیحت سعودی عرب نے ریاض کی جانب داغے گئے 2 بیلسٹک اور 2 کروز میزائل تباہ کر دیے ڈی جی آئی ایس پی آر کا لاہور کی تین جامعات کا دورہ، طلبہ اور اساتذہ سے خصوصی نشستیں ٹرمپ کا سیاسی انتقام لینے اور دھمکیاں دینے پر ڈیموکریٹس کے خلاف تحقیقات کا حکم

روسی خلائی جہاز

Web Desk

17 July 2026

روسی خلائی ادارے “روس کاسموس” کا انسان بردار خلائی جہاز “سویوز ایم ایس-29” کامیابی کے ساتھ زمین کے مدار میں داخل ہو گیا ہے، جس کا بین الاقوامی خلائی اسٹیشن (ISS) کے ساتھ الحاق (ڈاکنگ) پاکستانی وقت کے مطابق آج رات 10 بج کر 56 منٹ پر متوقع ہے۔ روس کاسموس کے مطابق، 75ویں طویل المدتی خلائی مشن کا یہ عملہ تیز رفتار ٹو آربٹ پرواز کے ذریعے محض تین گھنٹوں میں خلائی اسٹیشن پہنچے گا، جہاں ہوا بند دروازے (ہیچز) کھلنے کے بعد روسی خلا باز پیوتر دوبروف اور آنا کیکینا کے ہمراہ ناسا کے خلا باز انیل مینن اسٹیشن میں داخل ہوں گے۔ یہ عملہ خلا میں مجموعی طور پر 261 روز قیام کرے گا اور اس دوران 38 اہم سائنسی تجربات انجام دے گا، جن میں “گازوآنالیزاتور-ایف ایس”، “ٹیلی ڈروئیڈ” اور “سولنتسے-ٹیرا ہرٹز” جیسے اہم سائنسی و تحقیقی منصوبے شامل ہیں۔ ان تجربات کا بنیادی مقصد خلائی ٹیکنالوجی کو جدید بنانا اور مستقبل کے انسان بردار خلائی مشنز کے لیے نئی سائنسی معلومات حاصل کرنا ہے۔