LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY: ▲ ▼
China: ▲ ▼
Pakistan: ▲ ▼
India: ▲ ▼
TV ONE Logo
اہم خبریں
حکومت نے پٹرول کی قیمت میں اضافہ، ڈیزل سستا کر دیا کرکٹ ورلڈ کپ 2027 کے شیڈول کا اعلان، پاکستان اور بھارت ایک ہی گروپ میں شامل حکومت کا پی ٹی ائی سے مذاکرات کا اعلان ،پیپلز پارٹی اور ن لیگ مشرکہ مذاکرات کرے گے بلاول بھٹو زرداری سے سندھ کے مختلف حکام اور سیاسی رہنماؤں کی ملاقاتیں پاکستان میں نیشنل مینٹل ہیلتھ پالیسی 2026-2035 کا اجرا بھارت نے ایک اور فالز فلیگ آپریشن کا ڈرامہ رچایا، ڈی جی آئی ایس پی آر نے بھانڈا پھوڑ دیا ایران کا آبنائے ہرمز میں ایک اور امریکی زیرآب ڈرون قبضے میں لینے کا دعویٰ شام اور حزب اللہ کے درمیان بشار الاسد حکومت کے خاتمے کے بعد پہلی خفیہ ملاقات اڈیالہ جیل میں بانی پی ٹی آئی سے کسی رہنما کی ملاقات نہ ہوسکی حقوق کی بازیابی کا سفر شروع، ناانصافیوں کے خاتمے کا آغاز ہو رہا ہے: فاروق ستار وقت آگیا کہ دنیا جان لے’پنک سالٹ‘ کس کا خزانہ ہے: مریم نواز گورنر راج یا ایمرجنسی کی افواہوں پر گہری تشویش ہے، تمام تر تحفظات کے باوجود مذاکرات کے لیے تیار ہیں: بیرسٹر گوہر جمہوری حکومت کبھی فاشسٹ نہیں ہوتی، ملک کو بحران سے نکالنے کی صلاحیت صرف بانی چیئرمین میں ہے: علامہ راجہ ناصر عباس افغانستان میں 36 سے زائد دہشت گرد گروہ موجود ہیں، ہمسایہ ممالک کے خلاف دہشت گردی روکی جائے: ترجمان دفتر خارجہ غلطیاں ٹھیک کیے بغیر ترقی ممکن نہیں، معاشی چیلنجز کو اقدامات کی ضرورت ہے: وزیراعظم

روسی خلائی جہاز

Web Desk

17 July 2026

روسی خلائی ادارے “روس کاسموس” کا انسان بردار خلائی جہاز “سویوز ایم ایس-29” کامیابی کے ساتھ زمین کے مدار میں داخل ہو گیا ہے، جس کا بین الاقوامی خلائی اسٹیشن (ISS) کے ساتھ الحاق (ڈاکنگ) پاکستانی وقت کے مطابق آج رات 10 بج کر 56 منٹ پر متوقع ہے۔ روس کاسموس کے مطابق، 75ویں طویل المدتی خلائی مشن کا یہ عملہ تیز رفتار ٹو آربٹ پرواز کے ذریعے محض تین گھنٹوں میں خلائی اسٹیشن پہنچے گا، جہاں ہوا بند دروازے (ہیچز) کھلنے کے بعد روسی خلا باز پیوتر دوبروف اور آنا کیکینا کے ہمراہ ناسا کے خلا باز انیل مینن اسٹیشن میں داخل ہوں گے۔ یہ عملہ خلا میں مجموعی طور پر 261 روز قیام کرے گا اور اس دوران 38 اہم سائنسی تجربات انجام دے گا، جن میں “گازوآنالیزاتور-ایف ایس”، “ٹیلی ڈروئیڈ” اور “سولنتسے-ٹیرا ہرٹز” جیسے اہم سائنسی و تحقیقی منصوبے شامل ہیں۔ ان تجربات کا بنیادی مقصد خلائی ٹیکنالوجی کو جدید بنانا اور مستقبل کے انسان بردار خلائی مشنز کے لیے نئی سائنسی معلومات حاصل کرنا ہے۔