LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
سابق افغان کرکٹر شاپور زدران کا جسدِ خاکی بھارت سے کابل پہنچ گیا، ساتھی کرکٹرز اشکبار امریکا کی جانب سے پابندیوں میں چھوٹ ختم، ایران کا 6 کروڑ 30 لاکھ بیرل خام تیل سمندر میں پھنس گیا امریکا نے ایران پر حملے جوابی کارروائی میں کئے: سابق عہدیدار پینٹاگون امریکی صدر ایران کیخلاف حملوں کو محدود رکھنے کی کوشش کررہے ہیں: عالمی میڈیا امریکی سینیٹر برنی سینڈرز کی ایران کیساتھ دوبارہ جنگی کارروائیوں پر شدید تنقید چین کے بحرالکاہل میں بیلسٹک میزائل تجربے، امریکہ کا اظہارِ تشویش غیر ملکی فوج ایرانی ساحل پر اتری تو علاقہ ان کیلئے جہنم بنا دیں گے: ایرانی بحریہ خطےمیں کشیدگی کا ذمہ دار واشنگٹن ہے: علی اکبر ولایتی مادر ملت فاطمہ جناحؒ کی آج 59 برسی منائی جارہی ہے بحری جہازوں پر حملوں کے ردعمل میں ایران پر حملےکیے، نتائج سنگین بھی ہوسکتے ہیں۔ را ٹرمپ ریڈ کارڈ معطلی کا معاملہ، یورپی ارکانِ پارلیمنٹ کا سربراہ فیفا کیخلاف تحقیقات کا مطالبہ اسرائیل کا عرب لیگ کے نئے سیکرٹری جنرل کو, رام اللہ کا دورہ کرنے کی اجازت دینے سے انکار جنوبی لبنان میں اسرائیلی ڈرون حملے، مزید 2 افراد جاں بحق ہوگئے اٹلی کا ایران کیخلاف کسی بھی فوجی کارروائی میں شریک نہ ہونے کا اعلان اقوام متحدہ کا امریکا اور ایران پر کشیدگی کم، مذاکرات دوبارہ شروع کرنے پر زور

سوشل میڈیا سے 6 لاکھ روپے آمدن پر کوئی ٹیکس نہیں ہوگا، چیئرمین ایف بی آر

Web Desk

15 June 2026

سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کے ذریعے ہونے والی کمائی پر ٹیکس عائد کرنے کی تجویز سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ کے اجلاس میں زیرِ بحث آئی، جس کے دوران چیئرمین ایف بی آر راشد محمود لنگڑیال اور کمیٹی ارکان کے درمیان دلچسپ نوک جھونک دیکھنے کو ملی۔ چیئرمین ایف بی آر نے واضح کیا کہ سوشل میڈیا سے سالانہ 6 لاکھ روپے تک کمانے والوں پر کوئی ٹیکس لاگو نہیں ہوگا، تاہم 6 لاکھ سے 12 لاکھ روپے تک کی آمدن پر 5 فیصد ودہولڈنگ ٹیکس عائد کیا جائے گا۔ راشد محمود لنگڑیال کا کہنا تھا کہ سوشل میڈیا سے اس وقت بہت سے لوگ بھاری رقوم کما رہے ہیں اور ہم تو صرف اس کمائی میں سے حکومت کا جائز حصہ مانگ رہے ہیں۔ قائمہ کمیٹی نے تفصیلی غور و خوض کے بعد سوشل میڈیا کی آمدن پر اس 5 فیصد ودہولڈنگ ٹیکس کی تجویز کو باقاعدہ منظور کر لیا ہے۔

دوسری جانب، سینیٹ کمیٹی کے ارکان نے آئی ٹی اور سوشل میڈیا سیکٹر پر ٹیکس لگانے کی سخت مخالفت کی اور فری لانسرز و کنٹنٹ کریٹرز کی حمایت میں آواز اٹھائی۔ چیئرمین کمیٹی سلیم مانڈوی والا نے چیئرمین ایف بی آر کو ٹوکتے ہوئے کہا کہ آپ ٹیکس اس لیے لینا چاہتے ہیں کیونکہ آپ کو وہاں ایک بڑی رقم آتی ہوئی نظر آ رہی ہے، لہٰذا لوگوں کو سکون سے کمانے دیں اور ان پر بوجھ نہ ڈالیں۔ کمیٹی کے رکن سینیٹر عبدالقادر نے بھی اس مؤقف کی بھرپور تائید کرتے ہوئے کہا کہ جو نوجوان اپنی محنت سے کچھ کر رہے ہیں اور ملک میں قیمتی ڈالرز لا رہے ہیں، انہیں چلنے دیا جائے اور ان کی حوصلہ شکنی نہ کی جائے، کیونکہ ڈالرز کی آمد ملکی معیشت کے لیے خود ایک مثبت اشارہ ہے۔