LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
وزیراعلیٰ مریم نواز نے جناح انسٹیٹیوٹ آف کارڈیالوجی کا افتتاح کر دیا وزیراعظم کا گوگل ٹیم کے اعزاز میں استقبالیہ، اہم مفاہمتی یادداشت پر دستخط مکہ مشترکہ دفاعی معاہدہ، مشرق وسطیٰ اور جنوبی ایشیا میں امن واستحکام کی ضمانت حکومت اپوزیشن ہاتھ ملائیں ایکدوسرے کے ساتھ ہاتھ نہ کریں: لیاقت بلوچ جو کچھ ہوا اس کی توقع نہیں تھی، بانی پی ٹی آئی کو ہسپتال سے واپس منتقل کرنا بدقسمتی ہے: چیئرمین پی ٹی آئی ایران کو جوہری ہتھیاروں سے روکنے کیلئے سو مرتبہ جنگ کرنے کو تیار ہوں: ٹرمپ ملک بھر میں غیر قانونی کال سینٹرز کے خلاف گرینڈ آپریشن کا فیصلہ پاکستان سٹاک مارکیٹ میں کاروبار کا مثبت زون میں آغاز عمران خان کا شفا ہسپتال میں تفصیلی معائنہ، صحت مند قرار، دوبارہ اڈیالہ جیل منتقل کر دیا: عطا تارڑ بلوچستان میں دشمن عناصر ریاست اور عوام کے درمیان خلیج پیدا کرنا چاہتے ہیں: فیلڈ مارشل پاکستان اور شام کا دفاعی شعبوں میں تعاون اور روابط بڑھانے پر اتفاق ایران کے خلاف امریکی پابندیاں، عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں اضافہ عائشہ وہاب امریکی کانگریس کی پہلی افغان نژاد خاتون رکن منتخب روس کے یوکرین میں مزید فضائی حملے، 17 افراد ہلاک، 40 زخمی دشمن کی دھمکیوں، حملوں کے باعث اپنی دفاعی صلاحیتوں کو مزید مضبوط بنا دیا: ایران

مزارِ قائد مینجمنٹ بورڈ: پنجاب اور بلوچستان نے سالوں سے فنڈز نہیں دیے، پانی کے 162 ملین کے واجبات کا انکشاف

Web Desk

8 July 2026

سینیٹر وقار مہدی کی زیرِ صدارت سینیٹ کی ذیلی کمیٹی کے اجلاس میں یہ سنسنی خیز انکشاف سامنے آیا ہے کہ پنجاب اور بلوچستان کی حکومتوں نے قواعد و ضوابط کی خلاف ورزی کرتے ہوئے کئی سالوں سے مزارِ قائد اعظم مینجمنٹ بورڈ کو کوئی فنڈز جاری نہیں کیے۔ اجلاس میں پیش کردہ تفصیلات کے مطابق، پنجاب حکومت نے مالی سال 2018-19 سے اب تک مزارِ قائد کو ایک روپیہ بھی نہیں دیا، جبکہ خیبر پختونخوا حکومت نے 2019-20 میں محض 50 لاکھ روپے دیے، اس کے برعکس سندھ حکومت نے 2018 سے 2026 تک 120 ملین روپے کے فنڈز فراہم کیے۔ ریزیڈنٹ انجینئر نے کمیٹی کو بتایا کہ مزارِ قائد کو شدید قلتِ آب کا سامنا ہے، جہاں روزانہ 3 لاکھ گیلن کی ضرورت کے مقابلے میں صرف 1 لاکھ گیلن پانی مل رہا ہے اور کراچی واٹر کارپوریشن کے 162 ملین روپے کے واجبات بھی بقایا ہیں۔ اجلاس میں مزارِ قائد کے متصل گراؤنڈ کی گرلز نشئیوں کی جانب سے اتارے جانے اور سیکیورٹی خدشات کے نام پر مزار کو عوام کے لیے بند رکھنے پر سینیٹر بشریٰ انجم بٹ اور مسرور احسن نے شدید تشویش کا اظہار کیا۔ کمیٹی نے مزارِ قائد کے پانی اور بجلی کے بل معاف کرنے اور پارکنگ فیس کی چھوٹ دینے کی سفارشات بھی پیش کیں۔