LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
“پاکستان کی قیادت پر فخر ہے”: بلاول بھٹو زرداری کا امریکہ اور ایران کے درمیان جنگ بندی کا خیرمقدم عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں بڑی گراوٹ: برینٹ اور ڈبلیو ٹی آئی 100 ڈالر سے نیچے آ گئے امریکی صدر اور ایران کے درمیان جنگ بندی، یورپی یونین کا خیرمقدم جنگ بندی کے اعلان کے بعد ایرانی شہری سڑکوں پر نکل آئے، پرچم اٹھا کر جشن تحریک انصاف کا ایران اور امریکا کے درمیان جنگ بندی کا خیرمقدم وفاقی کابینہ کا اہم اجلاس آج طلب، مشرق وسطیٰ کی صورتحال پر غور ہوگا امریکا اور ایران جنگ بندی کا دنیا بھر میں خیر مقدم، پاکستانی کردار کی تعریف ایران امریکا جنگ بندی: پاکستان سمیت ایشیائی سٹاک مارکیٹس میں زبردست تیزی امریکی ڈیموکریٹس کا ٹرمپ کیخلاف آئین کی 25 ویں ترمیم کے تحت کارروائی کا مطالبہ جنگ بندی پر اظہار تشکر، وزیراعظم نے فریقین کو بات چیت کیلئے اسلام آباد مدعو کرلیا پاکستان اور روس کے درمیان عالمی سلامتی، اسلحہ کنٹرول اور ایران کی صورتحال پر تبادلہ خیال ایران کی جنگ بندی معاہدے کی توثیق، آبنائے ہرمز کھولنے کا اعلان ایران کی سپریم نیشنل سیکورٹی کونسل نے جنگ بندی معاہدے کی توثیق کردی، مذاکرات 10 اپریل کو اسلام آباد میں ہوں گے اسرائیل بھی عارضی جنگ بندی پر آمادہ، ایران پر بمباری روکنے کا اعلان امریکی صدر کا 2 ہفتے کیلئے ایران پر حملے روکنے اور جنگ بندی کا اعلان

پاکستان کے نان بینکنگ مالیاتی شعبے میں ریکارڈ نمو، اثاثوں کی مالیت 6.84 کھرب روپے تک پہنچ گئی

Web Desk

25 February 2026

سیکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن آف پاکستان (SECP) کے مطابق پاکستان کے غیر بینکنگ مالیاتی شعبے (NBFC) نے جولائی تا دسمبر 2025ء کے دوران غیر معمولی نمو ریکارڈ کی ہے۔ رپورٹ کے مطابق اس شعبے کے مجموعی اثاثے سالانہ اور ششماہی بنیادوں پر 21 فیصد اضافے کے ساتھ 6.84 کھرب روپے تک پہنچ گئے ہیں، جبکہ جون 2025ء میں یہ اثاثے 5.63 کھرب روپے تھے۔ اس عرصے کے دوران میوچل فنڈز کے اثاثے 4.5 کھرب روپے ہو گئے اور فنڈز کی تعداد 369 سے بڑھ کر 409 تک پہنچ گئی۔ سرمایہ کار اکاؤنٹس میں بھی 8 فیصد اضافہ دیکھا گیا، جس کے بعد ان کی تعداد 8 لاکھ 45 ہزار ہو گئی ہے۔

ایس ای سی پی کے اعداد و شمار ظاہر کرتے ہیں کہ سرمایہ کاروں کا سب سے زیادہ رجحان منی مارکیٹ فنڈز کی طرف رہا جہاں 44 فیصد سرمایہ کاری ہوئی، جبکہ انکم فنڈز میں 23 فیصد اور ایکوئیٹی فنڈز میں 14 فیصد سرمایہ کاری ریکارڈ کی گئی۔ اسی طرح قرض فراہم کرنے والی کمپنیوں کے اثاثوں میں 65 فیصد کا نمایاں اضافہ ہوا جو 824 ارب روپے تک پہنچ گئے ہیں۔ شریعہ کمپلائنٹ اثاثے 2.47 کھرب روپے رہے جو مجموعی مالیاتی حجم کا 36 فیصد ہیں۔ مزید برآں، رضاکارانہ پنشن اسکیم کے شرکاء کی تعداد ایک لاکھ 43 ہزار سے تجاوز کر گئی ہے اور رجسٹرڈ نان بینک مالیاتی اداروں کی تعداد 174 سے بڑھ کر 185 ہو گئی ہے۔