ایران پالیسی پر سوالات، اتحادی امریکی صدر کی سفارتی حکمت عملی سے ناخوش
Web Desk
17 August 2026
امریکی اخبار ’واشنگٹن پوسٹ‘ کی رپورٹ کے مطابق مشرق وسطیٰ میں جنگ کے خاتمے میں ناکامی اور غیر مستقل سفارتی حکمتِ عملی کے باعث خلیجی ممالک امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے شدید مایوس اور ناخوش ہو گئے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، قطر، کویت اور بحرین میں امریکی پالیسیوں کو لے کر شدید بے چینی پائی جاتی ہے اور کئی ممالک نے اپنی سرزمین پر قائم امریکی فوجی اڈوں کی میزبانی اور انہیں برقرار رکھنے پر تحفظات ظاہر کرتے ہوئے ان پر نظرثانی کا غور شروع کر دیا ہے۔
اخبار کی رپورٹ میں مکہ دفاعی معاہدے کو امریکہ کے لیے ایک اہم پیغام قرار دیتے ہوئے کہا گیا ہے کہ خلیجی ممالک اب اپنی دفاعی سیکیورٹی کے لیے صرف امریکہ پر انحصار نہیں کرنا چاہتے۔ خلیجی حکام کا کہنا ہے کہ صدر ٹرمپ نے ایران کے خلاف بارہا فوجی کارروائی کی دھمکیاں دیں اور پھر مذاکرات میں پیشرفت کا حوالہ دے کر پیچھے ہٹ گئے، جس کے باعث امریکی انتظامیہ کی ایران پالیسی کو غیر مستقل، غیر متوقع اور ناقابلِ بھروسہ سمجھا جا رہا ہے۔
متعلقہ عنوانات
وزیراعظم شہباز شریف کی کویتی ولی عہد سے ملاقات، دوطرفہ تعاون بڑھانے پر اتفاق
22 September 2026
اسرائیلی حکومت ٹرمپ کے غزہ منصوبے میں رکاوٹیں ڈال رہی ہے: اردوان
22 September 2026
ایم ون اور ایم 14 سمیت اہم شاہراہیں کل شام سے بند کرنے کا اعلان
22 September 2026
ایران کے ٹھکانوں کو نشانہ بنایا، اب مشرق وسطیٰ میں غنڈہ گردی نہیں کر سکتا: ٹرمپ
22 September 2026
8 اسلامی ممالک کا غزہ میں فوری امداد اور اسرائیلی فوج کے مکمل انخلا کا مطالبہ
22 September 2026
عالمی تقسیم تشویشناک، گوتریس کا جنگیں طاقت سے نہیں مذاکرات سے ختم کرنے پر زور
22 September 2026
امریکا کے پاس گولہ بارود کی کمی نہیں، ذخائر میں ریکارڈ اضافہ ہو رہا ہے: ٹرمپ
22 September 2026
فیلڈ مارشل عاصم منیر سے فرانسیسی سیکرٹری جنرل برائے دفاع و قومی سلامتی کی ملاقات
22 September 2026