LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY: ▲ ▼
China: ▲ ▼
Pakistan: ▲ ▼
India: ▲ ▼
TV ONE Logo
اہم خبریں
بھارت نے ایک اور فالز فلیگ آپریشن کا ڈرامہ رچایا، ڈی جی آئی ایس پی آر نے بھانڈا پھوڑ دیا ایران کا آبنائے ہرمز میں ایک اور امریکی زیرآب ڈرون قبضے میں لینے کا دعویٰ شام اور حزب اللہ کے درمیان بشار الاسد حکومت کے خاتمے کے بعد پہلی خفیہ ملاقات اڈیالہ جیل میں بانی پی ٹی آئی سے کسی رہنما کی ملاقات نہ ہوسکی حقوق کی بازیابی کا سفر شروع، ناانصافیوں کے خاتمے کا آغاز ہو رہا ہے: فاروق ستار وقت آگیا کہ دنیا جان لے’پنک سالٹ‘ کس کا خزانہ ہے: مریم نواز گورنر راج یا ایمرجنسی کی افواہوں پر گہری تشویش ہے، تمام تر تحفظات کے باوجود مذاکرات کے لیے تیار ہیں: بیرسٹر گوہر جمہوری حکومت کبھی فاشسٹ نہیں ہوتی، ملک کو بحران سے نکالنے کی صلاحیت صرف بانی چیئرمین میں ہے: علامہ راجہ ناصر عباس افغانستان میں 36 سے زائد دہشت گرد گروہ موجود ہیں، ہمسایہ ممالک کے خلاف دہشت گردی روکی جائے: ترجمان دفتر خارجہ غلطیاں ٹھیک کیے بغیر ترقی ممکن نہیں، معاشی چیلنجز کو اقدامات کی ضرورت ہے: وزیراعظم میر رضا کیس: انکوائری کمیشن کی مدت میں توسیع منظور وفاقی آئینی عدالت کے رولز جاری، اہم قانونی معاملات کی وضاحت روس جوہری حملے کی دھمکیاں دینا بند کرے، نیٹو لانگ مارچ سے کبھی کوئی فائدہ ہوا اور نہ آئندہ ہوگا، مصطفی کمال معاشی ترقی میں سرمایہ کاروں کی شراکت ڈھائی سال میں دوگنا سے زائد بڑھ چکی ہے: وزیر خزانہ

انٹارکٹیکا کی برف کے نیچے کیا ہے؟ سائنس دانوں نے پتہ لگا لیا

Web Desk

19 January 2026

سائنس دانوں نے انٹارکٹیکا کی برف کے نیچے چھپی زمین کے بارے میں ایسی حیران کن تفصیلات دریافت کر لی ہیں جن کی ماضی میں کوئی مثال نہیں ملتی۔ جدید نقشہ سازی اور سیٹلائٹ ٹیکنالوجی کی مدد سے پہلی بار اس برف پوش براعظم کی اصل جغرافیائی ساخت واضح ہو گئی ہے۔

ماہرین کے مطابق انٹارکٹیکا کی موٹی اور جمی ہوئی برف طویل عرصے سے اس کے نیچے موجود زمینی حقائق کو جاننے میں سب سے بڑی رکاوٹ رہی ہے۔ تاہم اب جدید ترین سائنسی طریقوں کے ذریعے اس مسئلے پر قابو پا لیا گیا ہے۔

تحقیق میں سیٹلائٹ ڈیٹا، گلیشیئرز کی حرکت (Glacier Dynamics) اور برف کے دباؤ سے متعلق طبیعیاتی اصولوں کو استعمال کیا گیا، جس کے نتیجے میں انٹارکٹیکا کی برف کے نیچے موجود زمین کا تفصیلی نقشہ تیار کیا گیا۔

تحقیقی نتائج کے مطابق برف کی موٹی تہوں کے نیچے ہزاروں پہاڑی چوٹیاں، گہری گھاٹیاں اور وسیع وادیاں دفن ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ یہاں بڑے پہاڑی سلسلے موجود ہیں جن کی ساخت دنیا کے دیگر بڑے پہاڑی نظاموں سے مماثلت رکھتی ہے۔

نقشہ سازی سے یہ بھی معلوم ہوا کہ بعض مقامات پر انتہائی تنگ اور گہری گھاٹیاں پائی جاتی ہیں، جبکہ کچھ علاقوں میں وسیع و عریض وادیاں موجود ہیں جو ممکنہ طور پر ماضی میں دریاؤں یا برفانی نظاموں کا حصہ رہی ہوں گی۔

سائنس دانوں کے مطابق یہ دریافت نہ صرف زمین کی جغرافیائی تاریخ کو سمجھنے میں مدد دے گی بلکہ موسمیاتی تبدیلی، برف کے پگھلاؤ اور سمندری سطح میں اضافے سے متعلق تحقیق میں بھی کلیدی کردار ادا کرے گی۔