LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY: ▲ ▼
China: ▲ ▼
Pakistan: ▲ ▼
India: ▲ ▼
TV ONE Logo
اہم خبریں
ایران کیخلاف کسی بھی طاقت کا اتحاد ناکامی سے دوچار ہوگا: ترجمان ایرانی فوج شہباز شریف کی نواز شریف سے ملاقات، ملکی سیاسی و معاشی صورتحال پر مشاورت صدر پوتن کی امریکہ میں جی 20 سربراہی اجلاس میں شرکت کا فیصلہ نہیں ہوا: کریملن پاکستان پوسٹ میں غیر قانونی بھرتیوں کا کیس، اسعد محمود تفتیش سے روپوش قرار پاکستان میں انتظامی یونٹس بنانے کے حوالے سے غور کرنا چاہئے: خواجہ آصف وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز کی دیوالی کے تہوار پر ہندو برادری کو مبارکباد وزیراعظم شہباز شریف کی آذربائیجان کو یوم فتح کی چھٹی سالگرہ پر مبارکباد شادی اور بچے پیدا کرنے کی ہمت کریں: پوپ لیو کی جنوبی امریکا میں نوجوانوں کو نصیحت سعودی عرب نے ریاض کی جانب داغے گئے 2 بیلسٹک اور 2 کروز میزائل تباہ کر دیے ڈی جی آئی ایس پی آر کا لاہور کی تین جامعات کا دورہ، طلبہ اور اساتذہ سے خصوصی نشستیں ٹرمپ کا سیاسی انتقام لینے اور دھمکیاں دینے پر ڈیموکریٹس کے خلاف تحقیقات کا حکم فضائی آلودگی میں لاہور دنیا کے آلودہ ترین شہروں میں سرفہرست صدر اور وزیراعظم کا دیوالی پر ملک میں اتحاد، مذہبی ہم آہنگی کے فروغ پر زور امریکی فوج کا بحیرۂ عمان میں تجارتی جہاز کو نشانہ بنانے کا دعویٰ پاکستان اور سری لنکا کے درمیان دو ٹیسٹ میچوں کی سیریز کا کل سے آغاز: بابر اعظم اور کوشال مینڈس اپنی ٹیموں کی قیادت کریں گے

انٹارکٹیکا کی برف کے نیچے کیا ہے؟ سائنس دانوں نے پتہ لگا لیا

Web Desk

19 January 2026

سائنس دانوں نے انٹارکٹیکا کی برف کے نیچے چھپی زمین کے بارے میں ایسی حیران کن تفصیلات دریافت کر لی ہیں جن کی ماضی میں کوئی مثال نہیں ملتی۔ جدید نقشہ سازی اور سیٹلائٹ ٹیکنالوجی کی مدد سے پہلی بار اس برف پوش براعظم کی اصل جغرافیائی ساخت واضح ہو گئی ہے۔

ماہرین کے مطابق انٹارکٹیکا کی موٹی اور جمی ہوئی برف طویل عرصے سے اس کے نیچے موجود زمینی حقائق کو جاننے میں سب سے بڑی رکاوٹ رہی ہے۔ تاہم اب جدید ترین سائنسی طریقوں کے ذریعے اس مسئلے پر قابو پا لیا گیا ہے۔

تحقیق میں سیٹلائٹ ڈیٹا، گلیشیئرز کی حرکت (Glacier Dynamics) اور برف کے دباؤ سے متعلق طبیعیاتی اصولوں کو استعمال کیا گیا، جس کے نتیجے میں انٹارکٹیکا کی برف کے نیچے موجود زمین کا تفصیلی نقشہ تیار کیا گیا۔

تحقیقی نتائج کے مطابق برف کی موٹی تہوں کے نیچے ہزاروں پہاڑی چوٹیاں، گہری گھاٹیاں اور وسیع وادیاں دفن ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ یہاں بڑے پہاڑی سلسلے موجود ہیں جن کی ساخت دنیا کے دیگر بڑے پہاڑی نظاموں سے مماثلت رکھتی ہے۔

نقشہ سازی سے یہ بھی معلوم ہوا کہ بعض مقامات پر انتہائی تنگ اور گہری گھاٹیاں پائی جاتی ہیں، جبکہ کچھ علاقوں میں وسیع و عریض وادیاں موجود ہیں جو ممکنہ طور پر ماضی میں دریاؤں یا برفانی نظاموں کا حصہ رہی ہوں گی۔

سائنس دانوں کے مطابق یہ دریافت نہ صرف زمین کی جغرافیائی تاریخ کو سمجھنے میں مدد دے گی بلکہ موسمیاتی تبدیلی، برف کے پگھلاؤ اور سمندری سطح میں اضافے سے متعلق تحقیق میں بھی کلیدی کردار ادا کرے گی۔