LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY: ▲ ▼
China: ▲ ▼
Pakistan: ▲ ▼
India: ▲ ▼
TV ONE Logo
اہم خبریں
ایران کیخلاف کسی بھی طاقت کا اتحاد ناکامی سے دوچار ہوگا: ترجمان ایرانی فوج شہباز شریف کی نواز شریف سے ملاقات، ملکی سیاسی و معاشی صورتحال پر مشاورت صدر پوتن کی امریکہ میں جی 20 سربراہی اجلاس میں شرکت کا فیصلہ نہیں ہوا: کریملن پاکستان پوسٹ میں غیر قانونی بھرتیوں کا کیس، اسعد محمود تفتیش سے روپوش قرار پاکستان میں انتظامی یونٹس بنانے کے حوالے سے غور کرنا چاہئے: خواجہ آصف وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز کی دیوالی کے تہوار پر ہندو برادری کو مبارکباد وزیراعظم شہباز شریف کی آذربائیجان کو یوم فتح کی چھٹی سالگرہ پر مبارکباد شادی اور بچے پیدا کرنے کی ہمت کریں: پوپ لیو کی جنوبی امریکا میں نوجوانوں کو نصیحت سعودی عرب نے ریاض کی جانب داغے گئے 2 بیلسٹک اور 2 کروز میزائل تباہ کر دیے ڈی جی آئی ایس پی آر کا لاہور کی تین جامعات کا دورہ، طلبہ اور اساتذہ سے خصوصی نشستیں ٹرمپ کا سیاسی انتقام لینے اور دھمکیاں دینے پر ڈیموکریٹس کے خلاف تحقیقات کا حکم فضائی آلودگی میں لاہور دنیا کے آلودہ ترین شہروں میں سرفہرست صدر اور وزیراعظم کا دیوالی پر ملک میں اتحاد، مذہبی ہم آہنگی کے فروغ پر زور امریکی فوج کا بحیرۂ عمان میں تجارتی جہاز کو نشانہ بنانے کا دعویٰ پاکستان اور سری لنکا کے درمیان دو ٹیسٹ میچوں کی سیریز کا کل سے آغاز: بابر اعظم اور کوشال مینڈس اپنی ٹیموں کی قیادت کریں گے

پودوں کے سانس لینے کا عمل دیکھنا ممکن ہوگیا، سائنسدانوں کا انکشاف

Web Desk

22 January 2026

سائنسدانوں نے پہلی مرتبہ پودوں کے سانس لینے کے عمل کو براہِ راست دیکھنے اور ریکارڈ کرنے میں کامیابی حاصل کر لی ہے۔ نئی سائنسی تحقیق کے ذریعے پودوں کے پتوں میں موجود باریک سوراخوں کی سرگرمی کو حقیقی وقت میں دیکھا گیا، جو ہوا اور پانی کے تبادلے میں بنیادی کردار ادا کرتے ہیں۔

یہ تحقیق امریکا کی یونیورسٹی آف الینوائے اربانا شیمپین کے سائنسدانوں نے کی، جنہوں نے ایک جدید آلہ تیار کیا ہے جس کی مدد سے پودوں کے پتوں میں موجود نہایت باریک سوراخوں، جنہیں ’سٹوماٹا‘ کہا جاتا ہے، کی حرکت اور سرگرمی کو واضح طور پر دیکھا جا سکتا ہے۔ یہ سوراخ پودوں میں گیسوں کے لین دین کا ذریعہ ہوتے ہیں۔

تحقیقی ٹیم نے ایک ویڈیو بھی ریکارڈ کی جس میں دیکھا جا سکتا ہے کہ پودے کس طرح کاربن ڈائی آکسائیڈ جذب کرتے ہیں اور آکسیجن اور پانی کے بخارات خارج کرتے ہیں۔ یہی عمل پودوں کے لیے خوراک بنانے اور ان کی بقا کے لیے نہایت ضروری ہوتا ہے۔

یونیورسٹی آف الینوائے کے شعبہ نباتاتی حیاتیات اور انسٹیٹیوٹ فار جینومک بائیولوجی سے وابستہ ماہر اینڈریو لیکی کے مطابق پودے دن کی روشنی میں یہ سوراخ کھولتے ہیں تاکہ خوراک تیار کر سکیں، جبکہ رات یا شدید گرمی اور خشکی کے دوران انہیں بند کر لیتے ہیں تاکہ پانی کے ضیاع سے بچا جا سکے۔ نئی مشین کی بدولت یہ عمل پہلی بار حقیقی وقت میں براہِ راست مشاہدہ کیا گیا ہے۔

تحقیق کے دوران پتے کے ایک چھوٹے حصے کو ایک خصوصی چیمبر میں رکھا گیا جہاں روشنی، درجہ حرارت، نمی اور ہوا کی مقدار کو قابو میں رکھا گیا، جس سے سائنسدانوں کو یہ سمجھنے میں مدد ملی کہ مختلف ماحولیاتی حالات میں پودے کس طرح ردِعمل دیتے ہیں۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ پانی کی قلت اور شدید گرمی فصلوں کے لیے ایک بڑا چیلنج بنتی جا رہی ہے، اور اس تحقیق سے یہ جاننے میں مدد ملے گی کہ کون سی فصلیں کم پانی میں بھی بہتر طور پر زندہ رہ سکتی ہیں۔ سائنسدانوں کے مطابق ان نئی معلومات کی بنیاد پر مستقبل میں خشک سالی برداشت کرنے والی بہتر فصلیں تیار کی جا سکیں گی، جس سے زرعی پیداوار میں اضافہ ممکن ہوگا۔