LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY: ▲ ▼
China: ▲ ▼
Pakistan: ▲ ▼
India: ▲ ▼
TV ONE Logo
اہم خبریں
ڈیڈ لاک برقرار، حکومت اور اپوزیشن میں جاری مذاکرات بغیر کسی نتیجے کے ختم وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کا آج سے لانگ مارچ شروع کرنے کا اعلان حکومت اپوزیشن مذاکرات کا نتیجہ جلد سامنے آئے گا: شوکت یوسف زئی وائٹ سی ایگل راستہ بھٹک کر سندھ آپہنچا، نایاب پرندے کی آنکھیں سی کر پر کاٹ دیے گئے حکومت اور پاکستان تحریکِ انصاف کے درمیان مذاکرات ناکام، پی ٹی آئی کا لانگ مارچ جاری رکھنے کا اعلان مذاکرات شروع ہونا بڑی کامیابی، سلسلہ ٹوٹنا نہیں چاہیے: فواد چودھری ٹرمپ ایران کے ساتھ جنگ سے سبق سیکھ کر شرائط قبول کریں: ایرانی پاسداران انقلاب اسلام آباد ایئرپورٹ پر ایک ہفتے میں دو بڑی کارروائیاں، 47 کلوگرام مشتبہ منشیات برآمد اسلام آباد میں رینجرز کی تعیناتی میں 15 اکتوبر تک توسیع گورنر راج یا ایمرجنسی سے پہلے سیاسی جماعتوں کو راستہ تلاش کرنا چاہیے: بلاول بھٹو کراچی کے لیے اضافی پانی کی فراہمی جلد شروع ہوجائے گی، مراد علی شاہ حکومتی وفد نے پی ٹی آئی پر دہشتگردی کے معاملے پر عدم تعاون کا الزام عائد کردیا ایک صوبے کو دہشت گردی سے جوڑنا ناعاقبت اندیشی ہے: علامہ ناصر عباس راجہ وزیراعظم شہباز شریف سے محسن نقوی کی ملاقات، سکیورٹی صورِتحال پر بات چیت حکومت اور اپوزیشن کے مذاکرات بے نتیجہ ختم، ڈیڈ لاک برقرار

روسی کمپنی کا کبوتروں کو نگران ڈرون میں تبدیل کرنے کا دعویٰ

Web Desk

9 February 2026

ایک روسی کمپنی نے حال ہی میں دعویٰ کیا ہے کہ اس نے کبوتروں کو نگرانی کے لیے استعمال ہونے والے جدید ڈرونز میں تبدیل کر دیا ہے، جنہیں حیاتیاتی ڈرون یا بائیو ڈرون کہا جا رہا ہے۔
تفصیلات کے مطابق روسی نیورو ٹیکنالوجی کمپنی ’Neiry Group‘ نے کبوتروں کے دماغ میں خصوصی امپلانٹس نصب کیے ہیں، جن کے ذریعے ان کی پرواز کو دور سے کنٹرول کیا جا سکتا ہے۔ ان کبوتروں کو چھوٹے کیمروں، جی پی ایس اور سولر پاور کنٹرول سسٹم سے بھی لیس کیا گیا ہے تاکہ وہ روایتی ڈرونز کی طرح لائیو ویڈیو فراہم کر سکیں۔
کمپنی کے مطابق برقی سگنلز کے ذریعے کبوتروں کو مخصوص سمتوں میں موڑنے یا خاص راستوں پر لے جانے کی ہدایات دی جا سکتی ہیں، جس کے لیے کسی پائلٹ یا تربیت کی ضرورت نہیں۔
Neiry Group کا کہنا ہے کہ یہ بائیو ڈرونز عام ڈرونز کے مقابلے میں زیادہ دیر تک پرواز کر سکتے ہیں اور محدود فضائی علاقوں میں بھی مؤثر انداز میں کام کر سکتے ہیں۔