LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
سندھ کے عوام نے فسطائیت کا جس طرح مقابلہ کیا، انہیں سلام پیش کرتا ہوں: سہیل آفریدی ایرانی بحریہ کا دشمن افواج کو کسی بھی مقام پر مفلوج کرنے کا دعویٰ روس کے ساتھ جنگ موسمِ سرما تک جاری رہ سکتی ہے: زیلنسکی جرمنی میں پولیس نے 21 بموں کے ناکارہ بنادیا جاپان سندھ میں سیلاب سے بچاؤ کیلیے 16.4 ملین ڈالر کی گرانٹ دے گا پاکستان شدید ترین سیاسی، معاشی اور امن و امان کے بحرانوں کی زد میں ہے: علامہ راجا ناصر عباس سینیٹ داخلہ کمیٹی کا اجلاس: بلیو پاسپورٹس کی غیر قانونی تقسیم، نو ابجیکشن سرٹیفکیٹ اور سخت سزاؤں پر اہم سفارشات امریکا کے ساتھ سٹریٹجک اتحاد اچھی بات ہے مگر کافی نہیں: قطر مادرِ وطن کا دفاع مقدس امانت، ثابت قدمی سے نبھاتے رہیں گے: ایئر چیف مارشل ایران کی جنوبی کوریا کو خلیج فارس اور آبنائے ہرمز سے دور رہنے کی تنبیہ ٹرمپ کی ریاست نیو میکسیکو کا نام تبدیل کرکے نیو امریکا رکھنے کی تجویز قزاقوں کے ہاتھوں یرغمال پاکستانیوں کے اہلخانہ پر پولیس کا دھاوا، 11 افراد گرفتاری کے بعد رہا امریکی ریپر نے نیوجرسی کانسرٹ کو فلسطین کے حق میں مظاہرے میں بدل دیا جنگ کے ابتدائی حملوں میں تباہ ہونے والے ایرانی سکول کو یادگار بنا دیا گیا بھارت کے یکطرفہ اقدامات متنازع جموں و کشمیر کی حیثیت تبدیل نہیں کر سکتے: پاکستان

نیتن یاہو نے کلنٹن، اوباما، بش اور بائیڈن سے ایران پر حملے کی درخواستیں کیں: سابق وائٹ ہاؤس چیف

Web Desk

4 April 2026

واشنگٹن: سابق وائٹ ہاؤس چیف آف اسٹاف راہم ایمینوئل نے انکشاف کیا ہے کہ اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو نے صدر بل کلنٹن، جارج ڈبلیو بش، باراک اوباما اور اب جو بائیڈن سے مسلسل یہ مطالبہ کیا کہ ایران کے خلاف ایک بڑی فوجی کارروائی کی جائے۔ ایمینوئل کے مطابق، ان تمام صدور نے نیتن یاہو کی درخواستوں پر جنگ کے خطرات کا تفصیلی جائزہ لیا، لیکن ہر بار یہ نتیجہ نکلا کہ ایران کے ساتھ براہِ راست جنگ امریکی قومی مفاد میں نہیں ہے۔

راہم ایمینوئل نے امریکی نظامِ حکومت اور کمانڈر ان چیف کی ذمہ داریوں پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ امریکی صدر بائبل پر ہاتھ رکھ کر حلف اٹھاتا ہے اور وہی فوجیوں کی جانوں کا حتمی فیصلہ کرنے کا مجاز ہے۔ انہوں نے حالیہ کشیدگی میں ہونے والے جانی نقصان پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے ایک جذباتی مثال دی کہ “اب دو بچوں کے باپ، جن کے 7 ماہ کے جڑواں بچے ہیں، کبھی اپنے والد کو نہیں دیکھ سکیں گے اور ان کے گھر میں ایک کرسی ہمیشہ خالی رہے گی”۔ انہوں نے واضح کیا کہ جنگ کا فیصلہ صدر کا ہوتا ہے، اس لیے کسی دوسرے ملک یا شخصیت کو موردِ الزام ٹھہرانا بے معنی ہے۔