پنجاب کے سرکاری اسکولوں میں مصنوعی ذہانت کا مضمون لازمی قرار دینے کا فیصلہ
Web Desk
29 August 2026
لاہور: حکومتِ پنجاب نے صوبے کے تمام سرکاری اسکولوں کے تعلیمی نصاب میں مصنوعی ذہانت (Artificial Intelligence) کو بطورِ لازمی مضمون شامل کرنے کا بڑا اور اہم فیصلہ کیا ہے، جس کا مقصد طلبہ کو جدید ڈیجیٹل دور کے تقاضوں اور مستقبل کی ٹیکنالوجی سے ہم آہنگ بنانا ہے۔
حکومتی اعلامیے کے مطابق اس تاریخی اقدام سے طلبہ کو مصنوعی ذہانت کے بنیادی تصورات، عملی استعمال اور ڈیٹا سائنس کے بارے میں آگاہی حاصل ہو گی۔ اس نصاب کا بنیادی مقصد نئی نسل میں ٹیکنالوجیکل مہارتوں کے ساتھ ساتھ تنقیدی سوچ (Critical Thinking) اور پیچیدہ مسائل کو حل کرنے کی صلاحیتوں (Problem Solving Skills) کو فروغ دینا ہے۔
انجیلیئرنگ اور ڈیجیٹل اصلاحات کے اس منصوبے کے تحت صوبے بھر کے سرکاری اسکولوں میں قائم کمپیوٹر لیبز کو جدید ترین آلات سے لیس کیا جائے گا۔ علاوہ ازیں، اساتذہ کو خصوصی تربیت فراہم کی جائے گی تاکہ وہ جدید انداز میں اے آئی کے اصول اور عملی طریقے بچوں کو منتقل کر سکیں۔ پنجاب حکومت نے عزم کا اظہار کیا ہے کہ اس اقدام سے طلبہ مستقبل کی آئی ٹی پر مبنی مارکیٹ، جدید ملازمتوں اور عالمی ڈیجیٹل معیشت کا مقابلہ کرنے کے قابل ہو سکیں گے۔
متعلقہ عنوانات
سپارکو نے پاکستان سپیس بیسڈ آگمینٹیشن سسٹم متعارف کرا دیا
8 November 2026
میٹا نے متنازع تبدیلی کے حوالے سے فیصلہ واپس لے لیا
8 November 2026
پاکستان میں سیٹلائٹ انٹرنیٹ سروسز فراہم کرنے کے لیے 6 کمپنیاں رجسٹرڈ
7 November 2026
میٹا نے پی ٹی اے کی درخواست پر ایک لاکھ 76 ہزار اکاؤنٹس بند کردیے
6 November 2026
خوش مزاج بچی کو خودکشی کے دہانے پہنچا دیا: والدین کا گوگل پر مقدمہ
6 November 2026
پاکستان اور روس کا آئی ٹی، مصنوعی ذہانت اور جدید کمپیوٹنگ میں تعاون بڑھانے پر اتفاق
6 November 2026
امریکی کمپنی کا رات کو سورج کی روشنی بیچنے کا منصوبہ
6 November 2026
خلائی دوربین کا 22 سالہ مشن اختتام پذیر، ملبہ زمین پر گرنے کا خدشہ
6 November 2026