LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
سونے کی عالمی اور مقامی مارکیٹوں میں آج پھر قیمت بڑھ گئی سپریم کورٹ کا تعلیمی اداروں میں ہراسانی کے واقعات کی روک تھام کےلیے اہم فیصلہ جاری ایس ای سی پی کا انقلابی قدم؛ اب IBAN کے ذریعے ڈیجیٹل ’کے وائی سی‘ ہوگی، نادرا کے بلاک شناختی کارڈز پر انویسٹمنٹ اکاؤنٹس بھی فوری بلاک کرنے کا فیصلہ پاک امریکہ تجارتی معاہدے پر واشنگٹن میں اہم پیش رفت؛ مذاکرات مثبت رہے، اختلافات کم کرنے پر اتفاق سمندری طوفان باوی سے کئی ممالک کو خطرہ، فلپائن میں کم از کم 15 افراد ہلاک حکومت نے جیٹ فیول کی قیمت میں بھی اضافہ کر دیا گیا امریکی قونصل خانے کے وفد کا ای پی اے لاہور کا دورہ، سموگ کنٹرول اقدامات کو سراہا آئی ایم ایف اگلے 14 ماہ میں پاکستان کو مزید 3.6 ارب ڈالر قرض دے گا پاکستان کا محلِ وقوع ایک اثاثہ، معاشی فوائد حاصل کر سکتا ہے: اسحاق ڈار آپریشن شعبان: بلوچستان میں فورسز کی تازہ کارروائیوں میں 9 دہشت گرد ہلاک عمران خان اور جمائمہ کا برطانوی گھر برائے فروخت ایف بی آر میں 323 ارب روپے سے زائد کی ٹیکس بے ضابطگیوں کا انکشاف امریکا نے 2 طیارہ بردار بحری جہاز لنکن اور بش ایران کے قریب تعینات کر دیئے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ لاہور ہائیکورٹ میں چیلنج پاکستان اسٹاک ایکسچینج کی ہفتہ وار رپورٹ؛ 100 انڈیکس میں 3130 پوائنٹس کی بڑی کمی، سرمایہ کاروں کے اربوں روپے ڈوب گئے

وزیر خزانہ محمد اورنگزیب کا پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں مزید اضافے کا عندیہ

Web Desk

12 March 2026

سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ کے اجلاس میں وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں مزید اضافے کا عندیہ دیا۔ انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم کی ہدایات کے مطابق بچت اور کفایت شعاری جاری ہے، مگر آنے والے دنوں میں پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ متوقع ہے۔

وزیر پٹرولیم ڈویژن نے بتایا کہ پاکستان میں موجود پانچ ریفائنری پلانٹس پرانے ہیں اور سعودی عرب کی جانب سے دی جانے والی کروڈ آئل پر پاکستان کو رعایت مل رہی ہے۔ تاہم، دو تیل کے جہاز آبنائے ہرمز میں پھنسے ہوئے ہیں، جس کے باعث درآمدات متاثر ہو رہی ہیں۔

وزیر پٹرولیم ڈویژن نے مزید بتایا کہ یکم مارچ کو ڈیزل کی قیمت 88 ڈالر فی بیرل تھی جو 6 مارچ کو 149 ڈالر تک پہنچ گئی، جس کے نتیجے میں کارگو کی لاگت پہلے 7 لاکھ ڈالر تھی، اب یہ 70 لاکھ ڈالر تک جا پہنچی ہے۔ ایل پی جی ایران سے آ رہی ہے اور پہلے سے زیادہ مقدار میں دستیاب ہے۔

اس موقع پر فاروق ایچ نائیک نے سوال اٹھایا کہ پٹرولیم مصنوعات میں اضافے سے کس کو فائدہ ہوا؟ انہوں نے کہا کہ پاکستان میں غریب طبقہ 55 روپے اضافے کو برداشت نہیں کر سکتا۔