LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
نیویارک حراستی مرکز کے باہر مظاہرے، پولیس اور مظاہرین میں جھڑپیں، آنسو گیس کا استعمال امریکا: میساچوسٹس کے تعلیمی اداروں میں ریچھ داخل، طلبہ کلاس رومز تک محدود رہے پاکستان ون ڈے کرکٹ میں 1000میچ کھیلنے والی تیسری ٹیم بن گئی وزیراعلیٰ نے ستھرا پنجاب ورکرز کیلئے 10ہزار فی کس انعام کا اعلان کیا ہے: مریم اورنگزیب پاکستان ایک مخلص دوست، ایران کے ساتھ اچھی ڈیل ہوگی: امریکی وزیر جنگ جیٹ فیول اور لائٹ ڈیزل آئل کی قیمتوں میں بڑی کمی، نوٹیفکیشن جاری آئی ایم ایف کا گاڑیوں اور سولر پینلز پر سیلز ٹیکس چھوٹ برقرار رکھنے سے انکار پاکستان کی شاندار کامیابی: مسلسل پانچویں سال بھی ایراسمس منڈس اسکالرشپ حاصل کرنے میں دنیا بھر میں پہلے نمبر پر برقرار امریکی صدر کے نام کی شمولیت غیر قانونی قرار: کینیڈی سینٹر بند کرنے کا ٹرمپ انتظامیہ کا فیصلہ امریکی عدالت نے معطل کر دیا حاجیوں کی وطن واپسی کے لیے سعودی عرب سے پروازوں کا آغاز کل ہوگا امریکا کا امیر ممالک کے دفاعی اخراجات کا مزید بوجھ اٹھانے سے انکار ملک بھر میں 74 لاکھ 70 ہزار جانور قربان کیے گئے، ٹینریز ایسوسی ایشن ٹیکس وصولی کے لیے ایف بی آر کے تمام دفاتر 30 مئی کو کھلے رہیں گے اسحاق ڈار اور مارکو روبیو کی واشنگٹن میں ملاقات، پاک امریکا تعاون مزید مضبوط بنانے پر اتفاق ابراہیمی معاہدے سے متعلق افواہیں بے بنیاد، فلسطین پر مؤقف میں کوئی لچک نہیں: اسحاق ڈار

27ویں آئینی ترمیم: مشترکہ پارلیمانی کمیٹی نے تمام 49 ترامیم کی منظوری دے دی

Web Desk

9 November 2025

اسلام آباد: سینیٹ اور قومی اسمبلی کی مشترکہ پارلیمانی کمیٹی برائے قانون و انصاف نے مجوزہ آئینی ترمیم کے پورے مسودے کی شق وار منظوری دیتے ہوئے تمام 49 ترامیم منظور کرلیں۔

اجلاس کی صدارت فاروق ایچ نائیک اور محمود بشیر ورک نے کی، جس میں کمیٹی اراکین سینیٹر طاہر خلیل سندھو، سینیٹر ہدایت اللہ، سینیٹر شہادت اعوان، علی حیدر گیلانی، سائرہ افضل تارڑ، بلال اظہر کیانی، سید نوید قمر، اور ابرار شاہ شریک ہوئے۔
سیکرٹری قانون راجہ نعیم اکبر سمیت وزارتِ قانون کے دیگر افسران بھی اجلاس میں موجود تھے۔

دوسری جانب، اپوزیشن جماعتوں — جن میں پی ٹی آئی، جے یو آئی، پی کے میپ اور ایم ڈبلیو ایم شامل ہیں — نے اجلاس کا بائیکاٹ کیا۔
کمیٹی اراکین نے اپوزیشن کی غیرحاضری پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اہم قومی قانون سازی سے اپوزیشن کا دور رہنا افسوسناک ہے۔

ذرائع کے مطابق، کمیٹی نے 27ویں آئینی ترمیم کے کابینہ سے منظور شدہ مسودے کی منظوری دے دی، جو کل ایوان میں پیش کیا جائے گا، جبکہ اتحادی جماعتوں کی مجوزہ ترامیم پر مزید غور کل متوقع ہے۔

عوامی نیشنل پارٹی (اے این پی) نے ستائیسویں ترمیم پر اعتراضات اٹھائے ہیں۔
اے این پی کی جانب سے خیبرپختونخوا کے نام کی تبدیلی اور بلوچستان اسمبلی کی نشستوں میں اضافہ سے متعلق ترامیم پر حکومت نے مزید وقت مانگ لیا ہے۔

ذرائع کے مطابق، کمیٹی نے آئین کے آرٹیکل 243 میں ترمیم، آئینی عدالتوں کے قیام، اور زیرِ التوا مقدمات کے فیصلے کی مدت 6 ماہ سے بڑھا کر ایک سال کرنے کی منظوری بھی دے دی۔
نئی ترمیم کے تحت اگر ایک سال تک مقدمے کی پیروی نہ ہو تو اسے نمٹا ہوا تصور کیا جائے گا۔