LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
درجہ حرارت میں اضافے کا امکان، متعلقہ ادارے الرٹ رہیں: این ڈی ایم اے گورنر پنجاب نے سیلاب متاثرین میں 26 گھروں کی چابیاں تقسیم کردیں پاکستان کی سعودی عرب میں حوثیوں کے حملوں کی شدید مذمت ایرانی صدر کا جارح قوتوں کے خلاف مزاحمت جاری رکھنے کا اعلان شہباز شریف سے ممتاز صنعت کاروں اور کاروباری شخصیات کے وفد کی ملاقات اسلام آباد جوڈیشل سروس رولز 2011 میں ترمیم منظور، ججز کے تبادلوں کی راہ ہموار قائم مقام صدر یوسف رضا گیلانی نے سینیٹ موبائل ایپلی کیشن کا افتتاح کر دیا حوثیوں کے حملے قابلِ مذمت، پاکستان سعودیہ کی حمایت جاری رکھے گا: وزیراعظم سندھ اسمبلی: جماعت اسلامی کی لیوی ٹیکس ختم کرنے کی قرارداد منظور آئی ٹی برآمدات میں اضافہ؛ پاکستانی ٹیک سیکٹر کی عالمی منڈیوں تک رسائی ٹرمپ کی ایران سے جنگ جیتنے پر تیل کی قیمتوں میں بڑی کمی کی پیشگوئی اڈیالہ جیل کے 3 قیدیوں کا عمران خان جیسی طبی سہولیات کیلئے آئینی عدالت سے رجوع اقوامِ متحدہ نے معیاری عالمی نقشے میں کشمیر کو متنازعہ علاقہ قرار دے دیا 27 ستمبر احتجاج کیس پر اسلام آباد ہائیکورٹ کا لارجر بینچ بنانے کا فیصلہ اسلام آباد کو خودمختار یونٹ بنانے پر نیا ٹیکس لگانے کی تجاویز تیار

27ویں آئینی ترمیم: مشترکہ پارلیمانی کمیٹی نے تمام 49 ترامیم کی منظوری دے دی

Web Desk

9 November 2025

اسلام آباد: سینیٹ اور قومی اسمبلی کی مشترکہ پارلیمانی کمیٹی برائے قانون و انصاف نے مجوزہ آئینی ترمیم کے پورے مسودے کی شق وار منظوری دیتے ہوئے تمام 49 ترامیم منظور کرلیں۔

اجلاس کی صدارت فاروق ایچ نائیک اور محمود بشیر ورک نے کی، جس میں کمیٹی اراکین سینیٹر طاہر خلیل سندھو، سینیٹر ہدایت اللہ، سینیٹر شہادت اعوان، علی حیدر گیلانی، سائرہ افضل تارڑ، بلال اظہر کیانی، سید نوید قمر، اور ابرار شاہ شریک ہوئے۔
سیکرٹری قانون راجہ نعیم اکبر سمیت وزارتِ قانون کے دیگر افسران بھی اجلاس میں موجود تھے۔

دوسری جانب، اپوزیشن جماعتوں — جن میں پی ٹی آئی، جے یو آئی، پی کے میپ اور ایم ڈبلیو ایم شامل ہیں — نے اجلاس کا بائیکاٹ کیا۔
کمیٹی اراکین نے اپوزیشن کی غیرحاضری پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اہم قومی قانون سازی سے اپوزیشن کا دور رہنا افسوسناک ہے۔

ذرائع کے مطابق، کمیٹی نے 27ویں آئینی ترمیم کے کابینہ سے منظور شدہ مسودے کی منظوری دے دی، جو کل ایوان میں پیش کیا جائے گا، جبکہ اتحادی جماعتوں کی مجوزہ ترامیم پر مزید غور کل متوقع ہے۔

عوامی نیشنل پارٹی (اے این پی) نے ستائیسویں ترمیم پر اعتراضات اٹھائے ہیں۔
اے این پی کی جانب سے خیبرپختونخوا کے نام کی تبدیلی اور بلوچستان اسمبلی کی نشستوں میں اضافہ سے متعلق ترامیم پر حکومت نے مزید وقت مانگ لیا ہے۔

ذرائع کے مطابق، کمیٹی نے آئین کے آرٹیکل 243 میں ترمیم، آئینی عدالتوں کے قیام، اور زیرِ التوا مقدمات کے فیصلے کی مدت 6 ماہ سے بڑھا کر ایک سال کرنے کی منظوری بھی دے دی۔
نئی ترمیم کے تحت اگر ایک سال تک مقدمے کی پیروی نہ ہو تو اسے نمٹا ہوا تصور کیا جائے گا۔