LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY: ▲ ▼
China: ▲ ▼
Pakistan: ▲ ▼
India: ▲ ▼
TV ONE Logo
اہم خبریں
ڈپٹی چیئرمین اور پراسیکیوٹر جنرل نیب کی تعیناتی چیلنج: اسلام آباد ہائی کورٹ کا وفاق اور نیب کو نوٹس 12 سال کی بچی کو بلیک میل کرنے پر 2 ملزمان کو 10،10 سال قید کی سزا نئے انتظامی یونٹس اور 28 ویں آئینی ترمیم آذربائیجان کے راستے یورپ جانے کی غیر قانونی کوشش ناکام، 3 مسافر آف لوڈ عمانی سلطان کا 44 سال بعد برطانیہ کا پہلا دورہ، شاہ چارلس نے حدیث پڑھ کر سنائی پنجاب کے تعلیمی بورڈز نے گیارہویں جماعت 2026 کے نتائج کا اعلان کر دیا حنا پرویز بٹ کی باتیں حکومت کیلئے شرمندگی کا باعث بنتی ہیں: عظمیٰ بخاری صارفین کے ڈیٹا سے متعلق گمراہ کن معلومات، میٹا پر 25 ارب ڈالر جرمانہ عائد وزیراعظم خیبرپختونخوا کی مجموعی صورتحال کا جائزہ لینے پشاور پہنچ گئے یومِ فتحِ مظفرآباد آج منایا جا رہا ہے، کشمیریوں کی تاریخی جدوجہد کی یاد تازہ سپریم کورٹ: ریکروٹمنٹ رولز 2014 بحال، فیڈرل سروس ٹریبونل کا فیصلہ کالعدم پاکستان سٹاک مارکیٹ میں تیزی، ہنڈرڈ انڈیکس 250 پوائنٹس بڑھ گیا اہم سائبر سکیورٹی اپ ڈیٹ کے بعد دنیا بھر میں متعدد ویب سائٹس عارضی طور پر بند بیرون ملک بیٹھے یوٹیوبرز پی ٹی آئی کے سب سے بڑے دشمن ہیں: خواجہ آصف مریم نواز کا خواتین اور بچوں کے خلاف بڑھتے جرائم پر اظہار برہمی

‘کوئی رہ تو نہیں گیا’، شوبز اسٹار بھی 80 کی دہائی کے ٹرینڈ کا حصہ بن گئے

Web Desk

11 September 2026

سوشل میڈیا پر رواں ہفتے ‘1980 کی دہائی’ (1980s Retro Look) کا اے آئی ٹرینڈ غیر معمولی طور پر مقبول ہو گیا ہے، جس میں عام صارفین کے ساتھ ساتھ پاکستانی اور بالی ووڈ شوبز شخصیات کی بڑی تعداد نے چیٹ جی پی ٹی (ChatGPT) جیسے اے آئی ٹولز کی مدد سے خود کو 80 کی دہائی کے کلاسک روپ میں ڈھال کر تصاویر شیئر کیں۔ یہ ٹرینڈ اس قدر تیزی سے پھیلا کہ سوشل میڈیا پر مزاحیہ میمز اور پوسٹس کا تانتا بندھ گیا کہ “کیا اب بھی کوئی اس ٹرینڈ سے رہ تو نہیں گیا؟”

پاکستانی شوبز انڈسٹری میں اس ٹرینڈ کی شروعات اداکارہ ماہرہ خان کے ڈیجیٹل پلیٹ فارم ’میشن‘ نے کی، جس نے ماہرہ خان، ماورا حسین، عائزہ خان، صنم سعید، انمول بلوچ، عینا آصف اور زارا نور عباس کی اے آئی سے تیار کردہ 80ء کی دہائی کی تصاویر انسٹاگرام پر شائع کیں۔ اس کے علاوہ صبور علی، یاسر حسین، اقرا عزیز، علی انصاری، شاہروز سبزواری، مریم نفیس، انوشے اشرف، زلے سرحدی، نور حسن، نمرہ خان اور ارمینہ خان سمیت متعدد معروف اداکاروں نے بھی اپنی اور اپنے شریکِ حیات کی اے آئی فوٹوز شیئر کیں۔ دوسری جانب، معروف میوزک بینڈ ’اسٹرنگز‘ کے بلال مقصود نے اے آئی ٹول کا استعمال کرنے کے بجائے اپنے بینڈ کی 80ء کی دہائی کی اصلی تصویر شیئر کرتے ہوئے طنزاً لکھا کہ “اس دور کے اصلی لوگوں کے پاس تصاویر کے باقاعدہ البمز موجود ہیں”۔

اگرچہ اس ٹرینڈ نے سوشل میڈیا پر تفریح فراہم کی، لیکن اس کے ساتھ ہی پرائیویسی، ڈیٹا سیفٹی اور رضامندی سے متعلق ایک نئی عالمی بحث چھیڑ دی ہے۔ ڈیجیٹل رائٹس ایکٹوسٹ اسامہ خلجی نے اس رجحان پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے خبردار کیا کہ صارف خود اپنا تفصیلی چہرہ اے آئی الگورتھمز کو فراہم کر کے مستقبل میں اپنے ہی ‘ڈیپ فیکس’ (Deepfakes) اور شناختی چوری کا خطرہ بڑھا رہے ہیں۔ انہوں نے ٹیک کمپنیوں پر اندھا دھند بھروسہ کرنے سے گریز اور اپنے بائیو میٹرک چہرے کا ڈیٹا مشینوں کو دینے سے روکنے کی تاکید کی