LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
پاک بحریہ کا فضا سے سطح سمندر پر مار کرنے والے تیمور کروز میزائل کا کامیاب تجربہ پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ منصوبوں میں تیزی کیلئے نیا نظام منظور چینی سفیر کی اسحاق ڈار سے ملاقات: امریکہ ایران مذاکرات میں پاکستان کے کردار کی تعریف، مکمل اعتماد کا اظہار آئی ایم ایف کا شکنجہ مزید سخت: 11 نئی شرائط عائد، پاکستان کی 2027 تک اصلاحات مکمل کرنے کی یقین دہانی حج فلائٹ آپریشن میں تیزی، مزید 3510 عازمین آج سعودی عرب روانہ ہوں گے امریکا کا تجارتی جہاز پر قبضہ،ایران نے اقوام متحدہ میں شکایت درج کروا دی عالمی سفارت کاری کا مرکز اسلام آباد: ایران امریکہ مذاکرات کے لیے ریڈ زون سیل سعودی عرب کی جانب سے پاکستان کو مزید 1 ارب ڈالر کے فنڈز موصول پاکستان سٹاک مارکیٹ میں کاروبار کے آغاز پر تیزی کا رجحان خیبرپختونخوا کابینہ کا آج ہونے والا اجلاس ملتوی ٹرمپ مذاکرات کی میز کو ہتھیار ڈالنے میں تبدیل کرنا چاہتے ہیں: باقر قالیباف ایران سے ہونے والا معاہدہ جلد اور اوباما دور کے معاہدے سے بہتر ہوگا: امریکی صدر اسرائیل اور لبنان کے درمیان امن مذاکرات جمعرات کو واشنگٹن میں ہوں گے ریڈ زون کے اداروں میں 21 اپریل کو ورک فرام ہوم کا فیصلہ : نوٹیفکیشن جاری ایرانی وفد کا امریکاسے مذاکرات کیلیے اسلام آبادآنے کاامکان، برطانوی نیوزایجنسی

مشرقِ وسطیٰ بحران کے اثرات؛ ملک میں بجلی کا بڑا بریک ڈاؤن

Web Desk

14 April 2026

مشرقِ وسطیٰ میں جاری کشیدگی نے پاکستان کے توانائی کے شعبے کو شدید بحران سے دوچار کر دیا ہے، جس کے باعث ملک میں بجلی کی پیداوار میں 10 ہزار میگاواٹ کی بڑی کمی ریکارڈ کی گئی ہے۔ ذرائع کے مطابق، عالمی سطح پر سپلائی چین متاثر ہونے سے درآمدی ایل این جی (LNG) سے بجلی کی پیداوار میں 3600 میگاواٹ کی کمی آئی ہے، جبکہ درآمدی کوئلے پر چلنے والے ساہیوال پاور پلانٹ کی 1180 میگاواٹ پیداوار بھی مکمل بند ہو گئی ہے۔ اس کے علاوہ، نندی پور پاور پلانٹ سے 525 میگاواٹ اور فرنس آئل سے پیدا ہونے والی 1500 میگاواٹ بجلی بھی سسٹم سے نکل چکی ہے، جبکہ نیلم جہلم پراجیکٹ سے 979 میگاواٹ کی فراہمی پہلے ہی معطل ہے۔

بجلی کی پیداوار میں اس بڑے تعطل کے نتیجے میں ملک میں بجلی کا شارٹ فال 3500 میگاواٹ تک پہنچ گیا ہے۔ اس وقت بجلی کی کل طلب 14 ہزار میگاواٹ ہے جبکہ سسٹم میں صرف 10 ہزار 500 میگاواٹ بجلی دستیاب ہے۔ طلب اور رسد میں اس بڑے فرق کی وجہ سے ملک بھر میں غیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ کے دورانیے میں ہوش ربا اضافہ کر دیا گیا ہے۔ شہری علاقوں میں 12 سے 14 گھنٹے تک بجلی غائب رہنا معمول بن گیا ہے، جس نے عوامی زندگی کو مفلوج کر کے رکھ دیا ہے۔

حالات کی سنگینی کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ لائن لاسز اور بجلی چوری والے علاقوں میں لوڈشیڈنگ کا دورانیہ 16 سے 18 گھنٹے تک پہنچ گیا ہے۔ پاور ڈویژن کے ذرائع کا کہنا ہے کہ مشرقِ وسطیٰ میں جنگی صورتحال کے باعث ایندھن کی درآمد میں مشکلات پیش آ رہی ہیں، جس کا براہِ راست اثر پاور پلانٹس پر پڑا ہے۔ ماہرینِ معیشت نے خبردار کیا ہے کہ اگر توانائی کا یہ بحران جلد حل نہ کیا گیا تو اس کے اثرات صنعتی پیداوار اور ملکی برآمدات پر بھی پڑ سکتے ہیں، جس سے معاشی صورتحال مزید ابتر ہونے کا خدشہ ہے۔