LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY: ▲ ▼
China: ▲ ▼
Pakistan: ▲ ▼
India: ▲ ▼
TV ONE Logo
اہم خبریں
اڈیالہ جیل میں بانی پی ٹی آئی اور بشریٰ بی بی کا طبی معائنہ: پمز کے ڈاکٹروں نے ٹیسٹ کیے سینیٹر کامران مرتضیٰ کے گھر و دفاتر پر چھاپوں اور ہراسانی کی پاکستان بار کونسل کے 8 اراکین کی شدید مذمت سینیگال کے ساحل کے قریب تارکین وطن کی کشتی ڈوب گئی، 21 افراد ہلاک کسی بھی دورے کے دوران مارکیٹیں اور کاروبار بند نہ کئے جائیں، مریم نواز کی حکام کو ہدایت امریکی انتخابات کے نتائج نے امریکا کو تاریخ میں کئی قدم پیچھے دھکیل دیا: ٹرمپ مصر میں مسافر ٹرین حادثہ، متعدد بوگیاں پٹری سے اتر گئیں، 64 افراد زخمی غزہ میں بارشوں سے 70 ہزار خیمے زیر آب، ساڑھے 3 لاکھ بے گھر افراد متاثر ایران کیخلاف کسی بھی طاقت کا اتحاد ناکامی سے دوچار ہوگا: ترجمان ایرانی فوج شہباز شریف کی نواز شریف سے ملاقات، ملکی سیاسی و معاشی صورتحال پر مشاورت صدر پوتن کی امریکہ میں جی 20 سربراہی اجلاس میں شرکت کا فیصلہ نہیں ہوا: کریملن پاکستان پوسٹ میں غیر قانونی بھرتیوں کا کیس، اسعد محمود تفتیش سے روپوش قرار پاکستان میں انتظامی یونٹس بنانے کے حوالے سے غور کرنا چاہئے: خواجہ آصف وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز کی دیوالی کے تہوار پر ہندو برادری کو مبارکباد وزیراعظم شہباز شریف کی آذربائیجان کو یوم فتح کی چھٹی سالگرہ پر مبارکباد شادی اور بچے پیدا کرنے کی ہمت کریں: پوپ لیو کی جنوبی امریکا میں نوجوانوں کو نصیحت

قومی سطح پر تھریٹ انٹیلی جنس کے انضمام اور تبادلے کا نیا نظام قائم

Web Desk

24 March 2026

اسلام آباد: پاکستان نے اپنی ڈیجیٹل سرحدوں کی حفاظت کے لیے ایک جدید اور مربوط “تھریٹ انٹیلی جنس شیئرنگ سسٹم” فعال کر دیا ہے۔ سرکاری دستاویزات کے مطابق، نیشنل کمپیوٹر ایمرجنسی ریسپانس ٹیم (National CERT) کے مقامی طور پر تیار کردہ نظام کو پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی (PTA) اور پاک فوج کے سائبر ڈویژن کے ساتھ منسلک کر دیا گیا ہے، جس سے سائبر حملوں کی بروقت نشاندہی اور فوری ردِعمل ممکن ہو گیا ہے۔

اس نئے نظام کی بنیاد مقامی سطح پر چلنے والے MISP سسٹم (Malware Information Sharing Platform) پر رکھی گئی ہے، جو بیرونی انٹیلی جنس پر انحصار کم کرتے ہوئے پاکستان کی سائبر خودمختاری کو مضبوط بناتا ہے۔ اس پلیٹ فارم کے ذریعے اہم قومی، سرکاری اور ٹیلی کام انفراسٹرکچر کو نشانہ بنانے والے خطرات کی ریئل ٹائم (Real-time) میں نشاندہی کی جا سکے گی، جس سے سائبر حملوں کے پھیلاؤ کو محدود کرنے میں مدد ملے گی۔

دستاویزات کے مطابق، یہ مربوط نظام نہ صرف اداروں کے درمیان مضبوط رابطہ کاری قائم کرے گا بلکہ مشترکہ انٹیلی جنس کی بدولت “تھریٹ ہنٹنگ” (Threat Hunting) اور پیشگی خطرات کی روک تھام کو بھی یقینی بنائے گا۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ جدید ترین سائبر خطرات اور ریاستی سطح پر ہونے والے ڈیجیٹل حملوں کے خلاف یہ تیاری پاکستان کے دفاعی نظام میں ایک انقلابی اضافہ ہے۔